قومی اسمبلی نے کابینہ کے اجتماعی فیصلوں سے متعلق تین ترمیمی بل منظور کرلیے
- ایوان میں کمپنیز ترمیمی بل 2026 اور امیگریشن ترمیمی بل 2026 بھی پیش کیے گئے، جنہیں اسپیکر نے غور کے لیے متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کے سپرد کردیا
قومی اسمبلی نے پیر کو تین ترمیمی بل اکثریتی ووٹ سے منظور کرلیے، جن کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ پالیسی، مالیاتی اور انتظامی امور سے متعلق انتظامی فیصلے انفرادی عہدیداروں کے بجائے وفاقی کابینہ اجتماعی طور پر کرے گی، جب تک قانون کے تحت کسی عہدیدار کو ایسا کرنے کا اختیار حاصل نہ ہو۔ یہ اقدام سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے تناظر میں کیا گیا۔
پارلیمنٹ کے ایوانِ زیریں نے ابینڈنڈ پراپرٹیز (مینجمنٹ) (ترمیمی) بل، 2026، آرکائیول میٹریل (پریزرویشن اینڈ ایکسپورٹ کنٹرول) (ترمیمی) بل، 2026 اور سینٹرز آف ایکسیلنس (ترمیمی) بل، 2026 کو کثرتِ رائے سے منظور کر لیا۔
ایوان میں کمپنیز ترمیمی بل 2026 اور امیگریشن ترمیمی بل 2026 بھی پیش کیے گئے، جنہیں اسپیکر نے غور کے لیے متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کے سپرد کردیا۔
دریں اثنا وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے قومی اسمبلی کو بتایا کہ اسلام آباد کے سیکٹر سی 15 میں ترقیاتی کام تقریباً 60 فیصد مکمل ہوچکا ہے، جبکہ مالکان کو پلاٹوں کا قبضہ دینے کے لیے اراضی حاصل کرنے کا عمل آخری مراحل میں ہے۔
رکن قومی اسمبلی نعیمہ کشور خان کے توجہ دلاؤ نوٹس پر انہوں نے کہا کہ کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے متعدد ترقیاتی منصوبوں میں طویل تاخیر سے الاٹیز کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سیکٹر ای 12 میں گزشتہ ڈیڑھ ماہ کے دوران تقریباً 4,068 پلاٹوں کا قبضہ دیا گیا، جبکہ غیر قانونی قبضے سے واگزار کرائی گئی تجارتی اراضی کی مالیت 200 ارب روپے سے زائد ہے۔
ایک اور توجہ دلاؤ نوٹس پر طلال چوہدری نے بتایا کہ سیکٹرز آئی 10 اور آئی 11 کے درمیان جمع کچرا آئندہ دو سے تین ماہ میں آئی 9 کے مختص مرکز میں منتقل کردیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ کچرا منتقل کرنے کا عمل دوبارہ شروع ہوچکا ہے اور روزانہ تقریباً 700 میٹرک ٹن ٹھوس فضلہ منتقل کیا جارہا ہے۔ اسلام آباد میں روزانہ تقریباً 300 میٹرک ٹن کچرا پیدا ہوتا ہے، جبکہ موجودہ مقام پر جمع فضلہ گزشتہ چھ ماہ سے منتقل نہیں کیا جاسکا تھا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments