ایف بی آر آج وزیراعظم کو فیس لیس نظام پر بریفنگ دے گا
- ذرائع کے مطابق ایف بی آر کے فیلڈ دفاتر میں دیانت داری سے متعلق مسائل بھی وزیراعظم کے نوٹس میں ہیں
فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) آج پیر کو وزیراعظم شہباز شریف کو ان لینڈ ریونیو کے شعبے میں فیس لیس نظام پر عمل درآمد کی صورتحال، ادارے کی تبدیلی کے منصوبے اور 18 شعبوں میں ایک ہزار ارب روپے سے زائد کے ٹیکس گیپ کو کم کرنے کے لیے ڈیجیٹل اقدامات پر بریفنگ دے گا۔
ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ وزیراعظم کے لیے بریفنگ تیار کرنے کی غرض سے ایف بی آر ہیڈکوارٹرز اتوار کو بھی کھلا رہا۔ ٹیکس حکام وزیراعظم کو فیس لیس نظام پر عمل درآمد، ٹیکس گوشواروں کے تجزیے میں مصنوعی ذہانت کے استعمال، ڈیجیٹل نظام اور انسانی وسائل میں اصلاحات سمیت ٹیکس مشینری کی تنظیم نو اور ازسرنو تشکیل کی جامع تجاویز سے آگاہ کریں گے۔
ذرائع کے مطابق ایف بی آر کے فیلڈ دفاتر میں دیانت داری سے متعلق مسائل بھی وزیراعظم کے نوٹس میں ہیں۔
اصل اور ممکنہ ٹیکس وصولیوں کے درمیان فرق کم کرنے کی کوششوں کے تحت بڑے صنعتی شعبوں میں فروخت اور پیداوار کی نگرانی کا عمل دسمبر کے اختتام تک مکمل کرلیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق 18 شعبوں میں تقریباً ایک ہزار ارب روپے کا ٹیکس گیپ موجود ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق چینی، سیمنٹ، تمباکو، ٹائلز اور کھاد کے شعبوں میں ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم مکمل طور پر نصب کردیا گیا ہے، جبکہ ٹیکسٹائل، پیک شدہ پانی، پیک شدہ جوس اور پیک شدہ دودھ کے شعبوں میں اس کی تنصیب جاری ہے۔
اسٹیل، پولٹری اور ٹائرز کے شعبوں کے لیے آلات کی خریداری 15 اکتوبر تک مکمل کرلی گئی، جبکہ چائے، گھریلو الیکٹرانکس، چمڑے، کاغذ و بورڈ اور تیل و گھی کے شعبوں کے لیے آلات کی خریداری 30 اکتوبر تک مکمل کی جائے گی۔
وزیراعظم آفس نے ایف بی آر کو انسانی وسائل میں اصلاحات اور ادارے کی تنظیم نو سے متعلق جامع تجاویز پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ مجوزہ اصلاحات سے ٹیکس انتظامیہ کو مضبوط بنانے، شفافیت بڑھانے اور معاشی فیصلوں کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
جاری اصلاحات کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کا اجلاس وزیراعظم کی زیر صدارت ہوگا۔ ٹیکس حکام ڈیجیٹل نظام کے تحت ایک مربوط ڈھانچے کی تشکیل پر بھی بریفنگ دیں گے، جو خام مال کی پیداوار اور درآمد سے لے کر صنعتی تیاری اور صارفین کی خریداری تک پوری معاشی زنجیر کو منسلک کرے گا۔
نئے نظام سے حاصل ہونے والا مرکزی ڈیٹا معاشی منصوبہ بندی اور اہم حکومتی فیصلوں کے لیے استعمال کیا جائے گا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments