ملکی معیشت میں بہتری کے حکومتی دعوے عوام کے حالاتِ زندگی کے تناظر میں دیکھے جائیں تو روز بروز کھوکھلے محسوس ہوتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق پاکستان کی 38.3 فیصد آبادی کثیرالجہتی غربت کا شکار ہے جسے صحت، تعلیم اور بنیادی معیارِ زندگی کے حوالے سے بیک وقت محرومیوں کا سامنا ہے۔
مزید 12.9 فیصد آبادی بھی غربت کی اس نوعیت کا شکار ہونے کے خطرے سے دوچار ہے۔ ان نتائج کو سرکاری حلقوں، خصوصاً معاشی ٹیم کیلئے باعثِ تشویش ہونا چاہیے جو مجموعی معاشی اشاریوں میں بہتری کو وسیع تر معاشی بحالی کے ثبوت کے طور پر پیش کرنے میں مہارت حاصل کرچکی ہے۔
پڑوسی ممالک سے موازنہ خاص طور پر تشویشناک ہے۔ بھارت میں کثیرالجہتی غربت کی شرح 16.4 فیصد جب کہ بنگلہ دیش میں 14.9 فیصد ہے۔ تاہم ان اعدادوشمار کے لیے بنیادی سروے مختلف برسوں میں کیے گئے تھے، اس لیے ان کی بنیاد پر ایک ہی دورانیے کا براہِ راست موازنہ نہیں کیا جاسکتا۔
اس وضاحت کو مدنظر رکھنے کے باوجود ملکی صورتِحال انتہائی تشویشناک ہے۔ کثیرالجہتی غربت کا شکار آبادی میں محرومیوں کی شدت 51.7 فیصد ہے جس کا مطلب ہے کہ غریب قرار دیے گئے افراد کو اشاریے میں شامل وزن کے حامل نقصانات میں سے نصف سے زیادہ کا سامنا ہے۔ یہ بنیادی ضروریات کی فراہمی میں سنگین ناکامیاں ہیں جن پر حکومت کو بہت پہلے سے مسلسل توجہ دینی چاہیے تھی۔
یہ نتائج پاکستان میں معاشی کارکردگی پر بحث کے انداز کی ایک بنیادی کمزوری کو بھی نمایاں کرتے ہیں۔ بیرونی کھاتوں میں استحکام، زرمبادلہ ذخائر میں بہتری، مہنگائی میں کمی یا مالی اہداف کی جانب پیشرفت یقیناً اہم کامیابیاں ہو سکتی ہیں، جب یہ حاصل ہوں۔ تاہم، ان کی حقیقی اہمیت کا تعین بالآخر روزگار، قوتِ خرید، تعلیم، صحت کی سہولتوں اور معیارِ زندگی میں بہتری کی بنیاد پر کیا جانا چاہیے۔
سرکاری اعداد و شمار اور پیشکشوں میں معیشت بہتر دکھائی دے سکتی ہے، لیکن اس کے باوجود لاکھوں گھرانے ناکافی غذائیت، تعلیم میں تعطل، پینے کے غیر محفوظ پانی اور ناقص نکاسی و صفائی جیسی مشکلات سے دوچار رہتے ہیں۔ ان دونوں حقیقتوں کے درمیان موجود خلیج ہی وہ مقام ہے جہاں معاشی پالیسی سازی بارہا ناکام ثابت ہوئی ہے۔
اس ناکامی کا خاص طور پر جائزہ لینے کی ضرورت ہے، کیونکہ اس نوعیت کی غربت نسل در نسل منتقل ہوتی رہتی ہے۔ مناسب غذائیت اور تعلیم سے محروم بچوں کو زندگی بھر محدود مواقع کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خراب صحت ان کی آمدن کمانے کی صلاحیت گھٹا دیتی ہے جبکہ صفائی کے ناقص انتظامات اور بنیادی سہولتوں تک غیر یقینی رسائی پہلے ہی مشکلات کا شکار گھرانوں پر مزید اخراجات کا بوجھ ڈالتی ہے۔
اس صورتِحال کے اثرات انفرادی مشکلات تک محدود نہیں رہتے بلکہ محنت کشوں کی پیداواری صلاحیت، معاشی مسابقت اور ملک کی طویل مدتی ترقی کی استعداد کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ پاکستان درحقیقت اپنے انسانی سرمائے کے بڑے حصے کو زوال پذیر ہونے دے رہا ہے جبکہ معاشی بحالی پر بحث بدستور زیادہ تر مالیاتی اعداد و شمار تک محدود ہے۔
لہٰذا حکومت کی معاشی ٹیم کو واضح کرنا چاہیے کہ اس کی پالیسی ترجیحات سے ان حالات میں قابلِ پیمائش بہتری کیسے آئے گی۔ مالی نظم و ضبط ضروری ہے لیکن سرکاری اخراجات کی نوعیت اور ان کی افادیت بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ تعلیم، بنیادی صحت، غذائیت، پینے کے صاف پانی اور صفائی کے انتظامات کے لیے مختص وسائل کو نہ صرف محفوظ رکھنا بلکہ انہیں مؤثر انداز میں استعمال کرنا بھی ضروری ہے۔
وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو خدمات کی فراہمی میں مسلسل موجود خامیوں کا بھی سامنا کرنا ہوگا جن میں مؤثر نگرانی کا فقدان، ناقص رابطہ کاری اور محدود ترقیاتی فوائد کے حامل ایسے منصوبوں پر قلیل وسائل خرچ کرنا شامل ہے جو سیاسی طور پر زیادہ فائدہ مند سمجھے جاتے ہیں۔
اسی طرح غربت میں کمی کو معاشی پالیسی کی کامیابی جانچنے کا ایک قابلِ پیمائش معیار بنانا بھی ضروری ہے۔ حکومتوں کو واضح اہداف مقرر کرنے، باقاعدگی سے پیشرفت کی رپورٹیں جاری کرنے اور ان اضلاع اور آبادیوں کی نشاندہی کرنے کی ضرورت ہے جہاں مختلف شعبوں میں محرومیوں کی شدت سب سے زیادہ ہے۔
سماجی تحفظ کے اقدامات کو بنیادی سہولتوں تک بہتر رسائی اور پیداواری روزگار کے مواقع سے منسلک کیا جانا چاہیے۔ صوبائی حکومتیں جن پر صحت، تعلیم اور مقامی سطح پر خدمات کی فراہمی کی بڑی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں، صرف اخراجات کے اعلانات کے بجائے عملی نتائج کی بنیاد پر جواب دہ ہونی چاہییں۔
یو این ڈی پی کے نتائج ایک عالمی مسئلے کی نشاندہی کرتے ہیں جس کے مطابق دنیا بھر میں ایک ارب 20 کروڑ افراد کثیرالجہتی غربت کا شکار ہیں۔
تاہم اس معاملے میں پاکستان کی خاصی خراب صورتِ حال ایک واضح قومی حکمتِ عملی کا تقاضا کرتی ہے۔ ملک غربت میں کمی کو ایسا ثانوی فائدہ سمجھنے کا متحمل نہیں ہو سکتا جو بالآخر معاشی استحکام کے نتیجے میں خودبخود حاصل ہو جائے گا۔
حکومت کے معاشی منتظمین یہ وضاحت کرنے میں خاصا وقت صرف کرچکے ہیں کہ اعداد و شمار کس طرح معاشی بحالی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ اب انہیں یہ بھی بتانا ہوگا کہ اتنی بڑی تعداد میں پاکستانی اس بحالی کے ثمرات سے محروم کیوں ہیں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈ 2026


Comments