رہائشی پالیسی، مگر بنیادی سوالات ہی فراموش کردیے — اول
- ’’شہروں کو عمودی طور پر پھیلنے سے روکنا اور افقی طور پر پھیلنے دینا بدترین امتزاج ہے، جس سے زمین مہنگی ہوتی ہے اور غریب طبقہ غیر رسمی آبادیوں کی جانب دھکیل دیا جاتا ہے۔‘‘
پاکستان کی نئی رہائشی پالیسی یہ سوال ہی نہیں اٹھاتی کہ رہائش کے معاملے میں ریاست کو کیا کرنا چاہیے، اور ہمارے شہر عمودی پھیلاؤ کے بجائے افقی طور پر کیوں پھیلتے جا رہے ہیں۔
وزارتِ ہاؤسنگ اینڈ ورکس کی جانب سے اگست میں جاری کی گئی قومی رہائشی پالیسی 2026 نوّے صفحات پر مشتمل ہے۔ اس میں عطیہ دہندگان کی پسندیدہ اصطلاحات کی روانی سے بھرپور تکرار ملتی ہے، مثلاً موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کی صلاحیت، شمولیت اور سرکاری و نجی شعبے کی شراکت داری۔ تاہم، جس چیز کی کمی ہے، وہ بنیادی تصور کی وضاحت ہے۔ پالیسی یہ سوال نہیں اٹھاتی کہ وفاقی حکومت کو ایسی دستاویز کی ضرورت ہی کیوں ہے، رہائش کے معاملے میں ریاست کو کیا کرنا چاہیے اور کن امور سے گریز کرنا چاہیے، یا ہمارے شہر کم بلندی والی عمارتوں اور دور دور تک پھیلی رہائشی اسکیموں کا مجموعہ کیوں بنے ہوئے ہیں۔
سب سے پہلے وفاقی حکومت کے کردار کو دیکھیے۔ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد رہائش، زمین، شہری منصوبہ بندی، تعمیرات کے ضوابط اور جائیداد پر ٹیکس جیسے معاملات صوبوں کے دائرۂ اختیار میں آتے ہیں۔ اس کے باوجود پالیسی میں کینیڈا، آسٹریلیا اور بھارت کی مثالیں دی گئی ہیں، جہاں مرکزی حکومتیں اب بھی قائدانہ کردار ادا کرتی ہیں۔ لیکن وہاں مرکزی حکومتیں مالی وسائل بھی فراہم کرتی ہیں۔ اس کے برعکس اسلام آباد کے پاس وسائل کی کمی ہے اور ملک آئی ایم ایف پروگرام کے تحت بھی ہے۔ ایسی وفاقی پالیسی جو صوبوں کو بجٹ، قوانین اور عمل درآمد کے مؤثر نظام کے بغیر ذمہ داریاں سونپ دے، پالیسی نہیں بلکہ محض ایک خط ہے۔
وفاقی حکومت کے پاس کرنے کے لیے حقیقی کام موجود ہیں، تاہم ان کی فہرست مختصر ہے:
-
رہن شدہ جائیداد کی ضبطی اور قرضوں کی وصولی کے قوانین: ان کے بغیر رہن پر قرض دینے اور لینے کی منڈی ترقی نہیں کرسکتی۔
-
جائیداد سے متعلق قوانین: ایسے قوانین جو جائیداد کے لین دین کو آسان اور محفوظ بنائیں۔
-
مردم شماری اور قومی سروے: ایسے نظام جو جائیداد کی حقیقی قیمتوں اور لین دین کے بارے میں درست معلومات فراہم کریں۔
-
شہری زمین سے دولت پیدا کرنے کا طریقۂ کار: وزارتوں، ریلوے، چھاؤنیوں اور اسلام آباد سمیت مختلف شہروں کے اسٹیٹ دفاتر کے زیرِ قبضہ وسیع شہری اراضی کو بہتر انداز میں بروئے کار لانا، کیونکہ یہ زمین ان شہروں اور پورے ملک کا قیمتی اثاثہ ہے۔
ان چار بنیادی امور پر لاگت کی تفصیل سمیت دس صفحات بھی صوبوں کو مشوروں سے بھرے نوّے صفحات کی نسبت کہیں زیادہ مؤثر ثابت ہوتے۔
شاید اقوامِ متحدہ کے انسانی آبادکاری کے ادارے (یو این ہیبی ٹیٹ) کی ترغیب پر پاکستان وقتاً فوقتاً رہائشی پالیسی تیار کرتا اور پھر اسے طاق پر رکھ دیتا ہے۔ یو این ہیبی ٹیٹ کی 159 ممالک کے جائزے پر مبنی رپورٹ کے مطابق، تقریباً دو تہائی ممالک میں قومی رہائشی پالیسی موجود ہے۔ نئی پالیسی میں بھی یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ محض پالیسی کی موجودگی ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت اس معاملے میں سنجیدہ ہے۔ گویا اقوامِ متحدہ کے نزدیک سنجیدگی کا اظہار ہی پالیسی ہے۔
پہلا سوال: کیا رہائش سے متعلق عوامی پالیسی کا دائرہ زوننگ اور شہری انتظام سے آگے بڑھنا چاہیے؟
جی ہاں، لیکن محدود پیمانے پر۔ ریاست کو زمین کی ملکیت کے واضح حقوق اور درست ریکارڈ یقینی بنانے، قرض دہندگان، مکان مالکان اور کرایہ داروں کے معاہدوں پر عمل درآمد کرانے، بنیادی شہری ڈھانچہ تعمیر کرنے، عمارتوں کی حفاظت کے ضوابط نافذ کرنے اور حقیقی معنوں میں غریب افراد کی مدد کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔ اس سے آگے بڑھ کر دیکھا جائے تو لندن سے کراچی تک رہائش کے ناقابلِ برداشت اخراجات کا بنیادی سبب زیادہ تر رسد کا بحران ہے، جو زمین کے استعمال سے متعلق ضوابط پیدا کرتے ہیں۔
دوسرا سوال: کیا پاکستان میں رہائشی شعبے میں حکومتی کردار کم ہے؟
پاکستان میں مسئلہ رہائشی شعبے میں حکومت کی کم مداخلت نہیں، بلکہ ضرورت سے زیادہ مداخلت ہے۔ میں تین دہائیوں سے زیادہ عرصے سے یہ مؤقف پیش کرتا آیا ہوں کہ تعمیرات، زوننگ اور جائیداد کی ترقی پر افسر شاہی کے ضوابط نے ہمارے شہروں کی ترقی، بشمول رہائش، کو روک رکھا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ترقیاتی اداروں، دفاعی اور ملازمین کی رہائشی تنظیموں اور ریاست سے لائسنس یافتہ ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے ذریعے حکومت خود ملک کی سب سے بڑی رئیل اسٹیٹ ڈویلپر بن چکی ہے۔ اپنے ہی اہلکاروں کو معاوضے کے طور پر رہائشی پلاٹ بھی الاٹ کیے جاتے ہیں۔ نئی پالیسی ان اداروں کو محض باہمی رابطے اور ہم آہنگی کا مسئلہ سمجھتی ہے، لیکن یہ سوال نہیں اٹھاتی کہ نگران ادارہ ہی منڈی کا سب سے بڑا کھلاڑی کیوں ہے۔
تیسرا سوال: کیا پاکستان ایک سوشلسٹ ریاست ہے، اور کیا رہائش کے معاملے میں ریاست کے کردار پر کبھی بحث ہوئی ہے؟
پاکستان سوشلسٹ ریاست نہیں، لیکن اس کے آئین میں سوشلسٹ فکر کی ایسی وراثت موجود ہے جس کا کبھی سنجیدگی سے جائزہ نہیں لیا گیا۔ آئین کا آرٹیکل 3 استحصال کے خاتمے کا وعدہ کرتا ہے۔ آرٹیکل 38 ریاست کو دولت کے ارتکاز کی روک تھام اور ان افراد کو رہائش فراہم کرنے کا پابند بناتا ہے جو روزی کمانے کے قابل نہیں۔ آرٹیکل 253 پارلیمان کو نجی ملکیت کی حد مقرر کرنے کا اختیار دیتا ہے۔
اس کے برعکس، آئین کے آرٹیکل 23 اور 24 جائیداد کے حقوق کا تحفظ کرتے ہیں، جبکہ آرٹیکل 30 فلاحی اصولوں کو عدالتوں میں قابلِ نفاذ بنانے سے روکتا ہے۔ 1970 کی دہائی میں قومیانے کی پالیسی کو 1990 کی دہائی میں واپس لے لیا گیا، لیکن اس پر کوئی آئینی بحث نہیں ہوئی۔ دوسری جانب، ہر حکومت نے گھروں کی فراہمی کے وعدوں کو انتخابی مہم کا حصہ بنایا، چاہے وہ اشیانہ اسکیم ہو، پانچ ملین گھروں کا منصوبہ یا اب اپنا گھر پروگرام۔
نئی پالیسی بھی اس بحث سے گریز کرتی ہے۔ اس کے بجائے، دفعہ 3.7.2 کے تحت ایک نکتے میں قانون سازی کی تجویز دے دی گئی ہے، جس کے مطابق ’’مناسب اور قابلِ استطاعت رہائش‘‘ ہر شہری کا قانونی حق قرار پائے گی۔ لیکن پالیسی یہ وضاحت نہیں کرتی کہ قابلِ استطاعت رہائش سے مراد کیا ہے۔
اس میں آمدن کے 30 فیصد کو رہائشی اخراجات کی حد قرار دینے کے اصول کا ذکر کیا گیا ہے، پھر اسے مسترد کرتے ہوئے دو متبادل طریقے تجویز کیے گئے ہیں، مگر ان میں سے کسی کو بھی عملی طور پر لاگو نہیں کیا گیا۔
رہائش کی استطاعت کسی مکان کی اپنی خصوصیت نہیں ہوتی، بلکہ اس کا تعین مکان کی قیمت اور لوگوں کی آمدن کے درمیان فرق سے ہوتا ہے، جس پر زمین کی قیمت، تعمیراتی ضوابط اور روزگار کے مواقع اثرانداز ہوتے ہیں۔ اس لیے اسے قانونی حق قرار دینے کا مطلب دراصل قیمت اور آمدن کے تناسب کو حق بنانا ہے۔ اگر لاہور میں مکانوں کی قیمتیں اجرتوں سے کہیں آگے نکل جائیں تو عدالت کس چیز کا حکم دے گی: سبسڈی، قیمتوں پر کنٹرول یا مکان فراہم کرنے کا؟
آئین کا آرٹیکل 38 ریاست کی ذمہ داری ان افراد تک محدود کرتا ہے جو روزی کمانے کے قابل نہیں۔ اتنی بڑی تبدیلی کے لیے پارلیمان میں بحث، واضح تعریف اور مالی لاگت کا تعین ضروری ہے۔
چوتھا سوال: شہروں کو مارکیٹ کے ذریعے بلند، گنجان اور کثیرالمقاصد عمارتوں کے ساتھ ترقی کرنے کی اجازت کیوں نہیں دی جاتی؟
یہ وہ سوال ہے جو میں گزشتہ تین دہائیوں سے اٹھاتا آیا ہوں۔ نئی پالیسی میں مطلوبہ الفاظ تو موجود ہیں۔ گنجان شہری آبادیاں، رہائشی و تجارتی استعمال کو یکجا کرنے والی عمارتیں، اور درمیانی سے بلند منزلہ تعمیرات سرکاری اہداف میں شامل ہیں۔ زوننگ کی جگہ عمارتوں کی ساخت اور ان کے استعمال پر مبنی ضوابط متعارف کرانے کی بات بھی کی گئی ہے۔
لیکن گنجان تعمیرات کا جواز صرف زرعی زمین کو بچانے اور شہروں کے بے ہنگم پھیلاؤ کو روکنے تک محدود رکھا گیا ہے، جو محض منصوبہ سازوں کا نقطۂ نظر ہے۔ اسے زمین کی قدر بڑھانے اور مالکان و چھوٹے تعمیراتی اداروں کو ان علاقوں میں اضافی منزلیں تعمیر کرنے کا موقع فراہم کرنے کے ذریعے کے طور پر نہیں دیکھا گیا جہاں لوگ رہنا چاہتے ہیں۔
پالیسی میں قابلِ تعمیر رقبے کے تناسب یا عمارتوں کی بلندی کی حد میں نرمی کا کوئی ذکر نہیں۔ بلندی کا حوالہ بھی زیادہ تر آتش زدگی کے خطرات کے تناظر میں دیا گیا ہے۔ تعمیراتی کثافت بڑھانے پر عائد تبدیلیٔ استعمال کی فیسیں، جو دراصل گنجان تعمیرات پر ٹیکس ہیں، برقرار رہیں گی۔ تعمیراتی اداروں کو رعایت صرف اسی صورت میں ملے گی جب وہ اپنی منزلوں کے مجموعی رقبے کا 80 فیصد کم آمدن والے طبقے کے لیے فلیٹ بنانے پر مختص کریں۔ کوئی بھی تعمیراتی ادارہ مہنگی اور قیمتی زمین پر ایسا معاہدہ قبول نہیں کرے گا۔
پارکنگ کے ضوابط اور عمارتوں کے گرد خالی جگہ چھوڑنے کی پابندیوں کا بھی ذکر نہیں کیا گیا۔ اس کے بجائے، پالیسی میں شہری پھیلاؤ کی حدود مقرر کرنے، گرین بیلٹس قائم کرنے، ہر پانچ سال بعد ماسٹر پلان تیار کرنے، بنگلوں کے خریداروں سے اضافی رقم وصول کرکے اپارٹمنٹس کے لیے مالی وسائل فراہم کرنے، زمین کی ملکیت منتقل کرنے سے پہلے نیا این او سی حاصل کرنے اور مستریوں کے لیے لائسنس لازمی قرار دینے کی تجاویز شامل ہیں۔
اس سے بھی زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ پالیسی سرکاری ملازمین کے لیے مزید رہائش گاہیں تعمیر کرنے کی خاطر بھاری بجٹ مختص کرنے کی خواہش مند ہے، حالانکہ ہمارے شہروں کے مرکزی علاقوں میں افسران کی رہائشی کالونیوں کی زمین ہی وہ اثاثہ ہے جسے فروخت کرکے مارکیٹ کے لیے دستیاب کیا جانا چاہیے۔
شہروں کو عمودی طور پر پھیلنے سے روکنا اور انہیں افقی طور پر پھیلنے دینا بدترین امتزاج ہے۔ اس سے زمین مہنگی ہوتی جاتی ہے، تعمیراتی لاگت کو مزید منزلوں پر تقسیم کرنے کا موقع نہیں ملتا اور غریب طبقہ غیر رسمی شہری آبادیوں کی جانب دھکیل دیا جاتا ہے۔
یہ بھی دیکھیے کہ پالیسی بلند عمارتوں کی تعمیر کی اجازت کہاں دینا چاہتی ہے: کچی آبادیوں میں، جہاں ازسرِنو تعمیر کے دوران نچلی منزلوں پر دکانیں بنانے کی تجویز ہے۔ یوں گنجان تعمیرات کا بوجھ غریبوں پر ڈالا جا رہا ہے، ان ہی زمینوں پر جن پر وہ پہلے سے قابض ہیں، جبکہ کم کثافت والے بنگلے اب بھی اس ضابطہ جاتی دباؤ سے محفوظ رہیں گے۔
رہائشی قلت کے اعداد و شمار پر بھی سوالیہ نشان
اپنی پیش رو پالیسی کی طرح، نئی پالیسی بھی رہائش کی کمی کے بڑھا چڑھا کر پیش کیے گئے تخمینے پر مبنی ہے۔ اس کے مطابق، ملک میں ایک کروڑ سے ایک کروڑ 30 لاکھ رہائشی یونٹس کی کمی ہے، لیکن اس دعوے کے حق میں نہ کوئی طریقۂ حساب دیا گیا ہے اور نہ ہی کوئی ماخذ۔
2022 میں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیولپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) کی محقق درِّ نایاب نے ایک کروڑ گھروں کی کمی کے اس تخمینے کا سراغ لگایا، جسے عموماً عالمی بینک سے منسوب کیا جاتا ہے۔ حوالہ جات کی پوری زنجیر کا جائزہ لینے کے بعد انہیں اس دعوے کی بنیاد میں کوئی اصل حساب کتاب نہیں ملا۔
ان کے تخمینے کے مطابق، 43 لاکھ 70 ہزار گھرانے تنگ اور گنجان رہائشی حالات میں زندگی گزار رہے تھے، جن میں سے دو تہائی دیہی علاقوں میں آباد تھے۔ ان سمیت دیگر محققین نے یہ بھی نشاندہی کی ہے کہ بے گھر افراد کی تعداد بہت محدود ہے۔
خود اس پالیسی میں شامل مردم شماری کے اعداد و شمار کے مطابق، ملک میں تقریباً 82 فیصد افراد اپنے گھروں کے مالک ہیں۔ لہٰذا اصل مسئلہ چھتوں کی عدم دستیابی نہیں، بلکہ رہائشی جگہ کی تنگی، گھروں کا معیار، بنیادی سہولتوں کی فراہمی، رہائش کے قانونی حقوق اور کرایہ داری سے متعلق قوانین ہیں۔
(جاری ہے)
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments