پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کی توثیق
- اعلانات سے متعلق قراردادیں پیش کرنے کی اجازت کے لیے نوٹس کی مدت کی شرط معطل کرنے کی تحریک بھی پیش کردی گئی
وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے 11 اکتوبر کو صدر کی جانب سے جاری کیے گئے دونوں اعلانات مشترکہ اجلاس میں پیش کیے۔
قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے مطابق پہلا اعلان آئین کے آرٹیکل 232(1) کی دوسرے مشروط شق کے تحت جاری کیا گیا تھا، جسے آرٹیکل 232(7) کے تحت پیش کیا گیا، جبکہ دوسرا اعلان آرٹیکل 234(1) کے تحت جاری ہوا تھا اور اسے آرٹیکل 234(3) کے تحت ایوان میں پیش کیا گیا۔
وزیر نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے قواعد 1973 کے قواعد 14(2) اور 15(5) کے تحت نوٹس کی مقررہ مدت کی شرط معطل کرنے کی تحریک بھی پیش کی تاکہ صدارتی اعلانات سے متعلق قراردادیں پیش کی جاسکیں۔
ایوان نے تحریک منظور کرلی، جس کے بعد وزیر نے آئین کے آرٹیکل 232(7) اور 234(3) کے تحت دونوں صدارتی اعلانات کی منظوری کے لیے الگ الگ قراردادیں پیش کیں۔
اجلاس کے آغاز میں پشاور میں چھت گرنے کے واقعے میں جاں بحق ہونے والوں کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے اپنے خطاب میں وضاحت کی کہ آئین کے تحت ان صدارتی اعلانات کی منظوری پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے لینا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں سنگین سکیورٹی صورتحال اور صوبائی حکومت کی جانب سے اس چیلنج سے نمٹنے میں ناکامی کے پیش نظر ایمرجنسی کا فیصلہ آخری چارہ کار کے طور پر کیا گیا۔
وزیر قانون نے افسوس کا اظہار کیا کہ جب سکیورٹی صورتحال خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ کی مکمل توجہ کی متقاضی ہے، اس وقت ان کی توجہ سیاسی سرگرمیوں پر مرکوز ہے۔ انہوں نے انسداد دہشت گردی کے اقدامات کے لیے صوبے کو فراہم کیے گئے فنڈز کا بھی ذکر کیا، تاہم افسوس ظاہر کیا کہ صوبے میں اب تک فرانزک سائنس لیبارٹری قائم نہیں کی جاسکی۔
وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام نے کہا کہ یہ بات ریکارڈ کا حصہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے وفاق میں اپنے دور حکومت کے دوران دہشت گردوں کے خلاف مؤقف میں نرمی اختیار کی تھی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کا خیرمقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں امن مکمل طور پر بحال ہونے تک موجودہ انتظام برقرار رہنا چاہیے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمٰن نے دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے زیادہ اتحاد و اتفاق کی ضرورت پر زور دیا۔
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ہونے والے مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی صوبائی قیادت نے نمایاں پیش رفت کے باوجود اپوزیشن کو حکومت کے ساتھ معاہدے تک پہنچنے کی اجازت نہیں دی۔


Comments