پشاور : اسکول کی چھت گرنے سے 17 طلبہ، ایک ٹیچر جاں بحق
- وزیراعظم شہباز شریف کا پشاور اسکول حادثے میں جانی نقصان پر اظہارِ افسوس، زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا
پشاور میں واقع ایک اسکول کی چھت اچانک گرنے سے 13 سال سے کم عمر کم از کم 17 طلبہ اور ایک ٹیچر جاں بحق ہوگئے۔
چھت گرنے کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی۔
ریسکیو 1122 خیبر پختونخوا کے ترجمان بلال احمد فیضی نے بتایا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق دیر کالونی میں اسکول کی چھت کے ملبے تلے متعدد بچوں کے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریسکیو 1122 کی ایمبولینسز اور ڈیزاسٹر رسپانس گاڑیاں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کردیں۔ اب تک ریسکیو 1122 کے اہلکار 10 سے زائد زخمی بچوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرچکے ہیں اور انہیں اسپتال منتقل کیا جارہا ہے جبکہ ملبے تلے دبے دیگر افراد کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پشاور میں اسکول کی چھت گرنے سے قیمتی جانوں کے نقصان پر گہرے افسوس اور رنج کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی ہے۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے انتظامیہ کو امدادی کارروائیاں تیرکرنے اور زخمیوں کے لیے ہر ممکن طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
قبل ازیں جون میں لاہور کے علاقے کاہنہ میں ایک ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے کم از کم 14 بچے جاں بحق اور کئی دیگر زخمی ہوگئے تھے۔ حادثے کے وقت تقریباً 30 بچے وہاں کلاسز لے رہے تھے۔
30 مارچ 2026 کو ضلع بنوں میں شدید بارش کے دوران ایک مکان کی چھت گرنے سے تین بچے جاں بحق جبکہ دو بچے شدید زخمی ہوگئے تھے۔


Comments