BR100 Increased By (0.47%)
BR30 Increased By (0.62%)
KSE100 Increased By (0.39%)
KSE30 Increased By (0.35%)
BAFL 55.86 Increased By ▲ 0.67 (1.21%)
BIPL 24.08 Decreased By ▼ -0.37 (-1.51%)
BOP 28.58 Decreased By ▼ -0.24 (-0.83%)
CNERGY 12.71 Increased By ▲ 0.42 (3.42%)
DFML 16.10 Decreased By ▼ -0.13 (-0.8%)
DGKC 181.61 Decreased By ▼ -0.27 (-0.15%)
FABL 91.60 Increased By ▲ 0.21 (0.23%)
FCCL 51.47 Decreased By ▼ -0.31 (-0.6%)
FFL 14.01 Increased By ▲ 0.08 (0.57%)
GGL 19.03 Increased By ▲ 0.97 (5.37%)
HBL 287.26 Increased By ▲ 0.31 (0.11%)
HUBC 191.51 Decreased By ▼ -0.97 (-0.5%)
HUMNL 9.12 Decreased By ▼ -0.28 (-2.98%)
KEL 5.94 Increased By ▲ 0.09 (1.54%)
LOTCHEM 26.31 Increased By ▲ 0.25 (0.96%)
MLCF 89.81 Decreased By ▼ -0.25 (-0.28%)
OGDC 299.74 Increased By ▲ 0.78 (0.26%)
PAEL 33.59 Increased By ▲ 0.09 (0.27%)
PIBTL 13.72 Decreased By ▼ -0.05 (-0.36%)
PIOC 231.06 Increased By ▲ 0.59 (0.26%)
PPL 217.47 Increased By ▲ 0.04 (0.02%)
PRL 99.19 Increased By ▲ 6.00 (6.44%)
SNGP 89.92 Increased By ▲ 0.19 (0.21%)
SSGC 22.62 Increased By ▲ 0.04 (0.18%)
TELE 7.05 No Change ▼ 0.00 (0%)
TPLP 11.82 Decreased By ▼ -0.28 (-2.31%)
TRG 56.55 Increased By ▲ 2.61 (4.84%)
UNITY 8.47 Decreased By ▼ -0.21 (-2.42%)
WTL 0.96 No Change ▼ 0.00 (0%)
Perspectives

سونا، تیل اور پاکستانی بچت کار

  • سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور تیل کی بڑھتی قیمتوں کے تناظر میں پاکستانی بچت کاروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ منڈی کی وقتی تبدیلیوں کے بجائے باقاعدگی سے بچت اور طویل مدتی مالیاتی منصوبہ بندی پر توجہ دیں
شائع اپ ڈیٹ

سونا جنوری میں اپنی ریکارڈ بلند ترین سطح سے تقریباً 25 فیصد نیچے آ چکا ہے، تاہم گزشتہ تین برسوں کے دوران اس کی قیمت دگنی سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔ یہ دونوں باتیں بیک وقت درست ہیں، اور ان کے درمیان یہی فرق وہ اہم ترین نکتہ ہے جسے بچت کرنے والے پاکستانی کو پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔

سونے کی موجودہ قیمت کہاں کھڑی ہے؟

عالمی منڈی میں رواں ہفتے سونے کی قیمت تقریباً 4,180 ڈالر فی اونس رہی، جو پاکستان میں تقریباً 4 لاکھ 32 ہزار روپے فی تولہ بنتی ہے۔ اس کے مقابلے میں جنوری میں سونے کی قیمت ریکارڈ 5 لاکھ 72 ہزار 862 روپے فی تولہ تک پہنچ گئی تھی۔

اس کے پس منظر میں گزرے سال کی کہانی زیادہ اہم ہے۔ سونے کی قیمت 2026 کے آغاز پر تقریباً 4,330 ڈالر فی اونس تھی۔ ایران کے تنازع اور ڈالر کی کمزوری کے باعث جنوری میں اس کی قیمت تیزی سے بڑھی اور 28 جنوری کو 5,589 ڈالر فی اونس کی ریکارڈ بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ اس کے بعد سے قیمت میں بتدریج کمی آتی رہی ہے۔ بلند ترین سطح سے سونے کی قیمت ڈالر میں تقریباً 25 فیصد اور پاکستانی روپے میں 24 فیصد گر چکی ہے۔ یوں سونے کی قیمت اب تقریباً ایک سال پہلے کی سطح پر آ گئی ہے، تاہم تین سال پہلے کے مقابلے میں اب بھی دگنی سے زیادہ ہے۔

سونے کی قیمت کیوں گری؟

اس کی بنیادی وجہ کی وضاحت سادہ ہے: بانڈز پر منافع کی شرح۔ 7 اکتوبر کو امریکی دس سالہ ٹریژری بانڈز پر منافع کی شرح 5.35 فیصد سے تجاوز کر گئی، جو 2002 کے بعد بلند ترین سطح تھی۔

سونا اپنے مالک کو کوئی منافع نہیں دیتا۔ نہ اس پر سود ملتا ہے، نہ منافعِ حصص۔ چنانچہ جب محفوظ سمجھے جانے والے سرکاری بانڈز مہنگائی کی شرح سے زیادہ منافع دینے لگیں تو سونا اپنے پاس رکھنے کی حقیقی موقعی لاگت بڑھ جاتی ہے۔ فیڈرل ریزرو نے شرحِ سود میں کمی کے بجائے سخت مالیاتی پالیسی اختیار کی، جبکہ شرحِ سود میں کمی کے فیصلے مسلسل مؤخر ہوتے رہے۔ تاہم، اس کے بعد امریکی لیبر مارکیٹ میں کمزوری کے آثار ظاہر ہونے لگے ہیں، جو اس رجحان کو بدلنے کا سبب بن سکتے ہیں۔

مشرقِ وسطیٰ میں جنگ اور گزشتہ 12 ماہ کے دوران برینٹ خام تیل کی قیمت میں تقریباً 70 فیصد اضافے کے باوجود مجموعی حالات سونے کے لیے خاصے سازگار تھے۔ اس کے باوجود سونے کی قیمت گری، کیونکہ متبادل سرمایہ کاری، یعنی بانڈز پر منافع کی شرح، اس سے زیادہ تیزی سے بڑھ گئی۔

کیا تیل کی قیمتوں میں اضافہ اب سونے کو بھی اوپر لے جائے گا؟

ایک متبادل نقطۂ نظر زور پکڑ رہا ہے۔ بعض تجزیہ کار گزشتہ تین ماہ کے رجحان کو اس طرح دیکھتے ہیں کہ تیل اور سونے کی قیمتیں ایک دوسرے سے الگ ہونے کے بجائے ساتھ ساتھ چل رہی ہیں۔ اس مؤقف کے پیچھے رسد کی صورتِ حال واضح ہے۔ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت دو ماہ کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، جبکہ اصل قلت خام تیل کے بجائے صاف شدہ پیٹرولیم مصنوعات کی ہے۔ یورپ میں گیس آئل کی قیمت برینٹ خام تیل کے مقابلے میں تقریباً 95 ڈالر فی بیرل کے ریکارڈ پریمیم تک پہنچ گئی ہے، جبکہ معمول کے حالات میں ریفائننگ کا منافع تقریباً 20 ڈالر فی بیرل ہوتا ہے۔ دوسری جانب، امریکا میں ڈیزل کی قیمت 6 ڈالر فی گیلن سے تجاوز کر گئی ہے۔ یہ ان ایندھنوں کی قلت ہے جن پر معیشتوں کا پہیہ چلتا ہے، محض خام تیل کے بیرلوں کی کمی نہیں۔

قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس صورتِ حال میں سیاست کا کتنا عمل دخل ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران، جب آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں بہتری آئی اور آمدورفت معمول کے قریب دکھائی دینے لگی، تو ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل کی قیمت گر کر تقریباً 88 ڈالر فی بیرل رہ گئی۔ تاہم، مذاکرات آگے نہ بڑھنے پر چند ہی روز میں قیمت دوبارہ 90 ڈالر کی درمیانی سطح تک پہنچ گئی۔ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر برقرار رہی۔

اس صورتِ حال کی بنیاد پر یہ دلیل دی جا رہی ہے کہ ایندھن مہنگا ہونے سے پوری معیشت میں اخراجات بڑھتے ہیں، معاشی سرگرمیاں سست پڑتی ہیں، امریکی بجٹ خسارہ وسیع ہوتا ہے اور بالآخر حکام زر کی رسد بڑھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اس نقطۂ نظر کے مطابق خطرے سے دوچار اصل چیز ڈالر ہے، اور اس صورت میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ سونے کی قیمت بھی بڑھ سکتی ہے، نہ کہ تیل مہنگا ہونے کے باعث سونا سستا ہو۔

میں اس مؤقف کو مکمل طور پر مسترد کرنے کے بجائے اسے ایک امکان سمجھوں گا، جسے احتیاط سے پرکھنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو یہ دباؤ براہِ راست درآمدی بل کے ذریعے محسوس ہوتا ہے۔ تاہم، یہ دلیل واقعات کی ایک طویل کڑی پر منحصر ہے، جبکہ تین ماہ کے شواہد کسی حتمی نتیجے کے لیے ناکافی ہیں۔ اگر یہ منظرنامہ حقیقت بن جاتا ہے تو موجودہ سطح پر سونا سستا دکھائی دے گا۔ اگر ایسا نہ ہوا تو سونے کی قیمت پر دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔

دوسرے تجزیہ کار انہی حقائق کی مختلف تشریح کرتے ہیں۔ ان کے مطابق توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں فیڈرل ریزرو کے لیے شرحِ سود میں کمی مزید مشکل بنا دیتی ہیں، لہٰذا یہ صورتِ حال سونے کو سہارا دینے کے بجائے اس کے لیے رکاوٹ بن سکتی ہے۔ جو بچت کنندہ سرمایہ کاری سے پہلے ان دونوں میں سے کسی ایک مؤقف کی درستگی جاننا چاہتا ہے، وہ اپنے لیے ایک ناممکن شرط رکھ رہا ہے۔

آگے کی صورتِ حال کیا ہو سکتی ہے؟

ماضی کے بعض برسوں میں روپے کی قدر میں کمی نے سونے کی عالمی قیمت میں گراوٹ کے اثرات کو کسی حد تک زائل کر دیا تھا۔ اس بار ایسا نہیں ہوا۔ روپیہ تقریباً 278 روپے فی ڈالر کی سطح پر مستحکم رہا ہے، اس لیے پاکستانی بچت کنندگان نے عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں ہونے والی کمی کا پورا اثر محسوس کیا ہے۔

دریں اثنا، جس خطرے سے تحفظ کے لیے سونا خریدا جاتا ہے، وہ ختم نہیں ہوا۔ ستمبر میں مہنگائی کی شرح 10.3 فیصد رہی، جبکہ اسٹیٹ بینک جون سے پالیسی ریٹ 11.5 فیصد پر برقرار رکھے ہوئے ہے۔

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو بھی توقع نہیں کہ مہنگائی کا دباؤ جلد ختم ہو جائے گا۔ اس کی تازہ ترین عالمی اقتصادی منظرنامے کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مہنگائی کی شرح 2026 میں 7.1 فیصد رہنے کا امکان ہے، جو 2027 میں بڑھ کر 9.9 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ یہاں اعشاریے سے زیادہ اہم رجحان ہے۔

چنانچہ عام بچت کنندہ کے لیے صورتِ حال خاصی غیر اطمینان بخش ہے۔ ٹیکس کی کٹوتی سے پہلے نقد رقم پر حاصل ہونے والا منافع بمشکل مہنگائی کی شرح سے آگے نکل پاتا ہے۔ سونے کی قیمت گزشتہ نو ماہ میں خاصی گر چکی ہے، لیکن تین سال پہلے کے مقابلے میں اب بھی دگنی سے زیادہ ہے۔ ان دونوں میں سے کوئی بھی ایسا واضح اور محفوظ انتخاب نہیں جسے بلا تردد اختیار کیا جا سکے۔

اصل سوال جو پوچھنا چاہیے

اس سال جن لوگوں کو نقصان اٹھانا پڑا، ان میں وہ افراد شامل ہیں جنہوں نے قیمتوں کی غیر معمولی بلندی کے قریب ایک ہی بار بڑی رقم لگا کر سونا خریدا۔ اس کے برعکس، وہ لوگ نسبتاً مطمئن رہے جو ہر ماہ تھوڑی تھوڑی رقم بچا کر سرمایہ کاری کرتے رہے۔

یہ کوئی غیر معمولی بصیرت نہیں، محض حساب کتاب ہے۔ ایک مقررہ رقم باقاعدگی سے لگانے کا مطلب ہے کہ قیمتیں بلند ہوں تو کم سونا خریدا جاتا ہے اور قیمتیں گر جائیں تو زیادہ۔ اگر کسی نے ایک ہی بار بڑی رقم لگائی ہو تو 25 فیصد کمی خوف زدہ کر سکتی ہے، لیکن اگر کوئی دس سال تک باقاعدگی سے بچت کرنے کی عادت کے نویں مہینے میں ہو تو یہی کمی اس کے طویل مدتی سفر کا ایک معمول کا مرحلہ ہو سکتی ہے۔

لہٰذا، اس سوال کا دیانت دارانہ جواب کہ کیا سونا خریدنے کا یہی وقت ہے، یہ ہے کہ شاید سوال ہی درست نہیں۔ بہتر سوال یہ ہے کہ کیا آپ کے پاس بچت کا ایسا طریقہ موجود ہے جس کے لیے ہر بار یہ فیصلہ کرنا ضروری نہ ہو کہ بازار میں سرمایہ کاری کا صحیح وقت کون سا ہے؟

یہ مضمون ضروری نہیں کہ بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کی رائے کی عکاسی کرتا ہو۔

Comments

200 حروف