BR100 Decreased By (-0.19%)
BR30 Decreased By (-0.37%)
KSE100 Decreased By (-0.21%)
KSE30 Decreased By (-0.28%)
BAFL 55.19 Increased By ▲ 0.15 (0.27%)
BIPL 24.45 Increased By ▲ 0.02 (0.08%)
BOP 28.82 Increased By ▲ 0.21 (0.73%)
CNERGY 12.29 Decreased By ▼ -0.12 (-0.97%)
DFML 16.23 Decreased By ▼ -0.10 (-0.61%)
DGKC 181.88 Increased By ▲ 0.76 (0.42%)
FABL 91.39 Decreased By ▼ -0.63 (-0.68%)
FCCL 51.78 Increased By ▲ 0.74 (1.45%)
FFL 13.93 Increased By ▲ 0.14 (1.02%)
GGL 18.06 Decreased By ▼ -0.88 (-4.65%)
HBL 286.95 Decreased By ▼ -3.31 (-1.14%)
HUBC 192.48 Decreased By ▼ -1.04 (-0.54%)
HUMNL 9.40 Increased By ▲ 0.27 (2.96%)
KEL 5.85 Decreased By ▼ -0.04 (-0.68%)
LOTCHEM 26.06 Decreased By ▼ -0.24 (-0.91%)
MLCF 90.06 Increased By ▲ 0.67 (0.75%)
OGDC 298.96 Decreased By ▼ -1.43 (-0.48%)
PAEL 33.50 Increased By ▲ 0.20 (0.6%)
PIBTL 13.77 Increased By ▲ 0.16 (1.18%)
PIOC 230.47 Decreased By ▼ -0.69 (-0.3%)
PPL 217.43 Increased By ▲ 0.40 (0.18%)
PRL 93.19 Decreased By ▼ -0.26 (-0.28%)
SNGP 89.73 Increased By ▲ 0.02 (0.02%)
SSGC 22.58 No Change ▼ 0.00 (0%)
TELE 7.05 Decreased By ▼ -0.01 (-0.14%)
TPLP 12.10 Decreased By ▼ -0.20 (-1.63%)
TRG 53.94 Decreased By ▼ -0.10 (-0.19%)
UNITY 8.68 Increased By ▲ 1.00 (13.02%)
WTL 0.96 Decreased By ▼ -0.01 (-1.03%)
پاکستان

وزیراعظم شہباز شریف کی اتحادی جماعتوں کو خیبر پختونخوا کی صورتِ حال پر بریفنگ، ’آئینی اقدامات‘ کا دفاع

  • وزیراعظم کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت میں صوبائی حکومت کے طرزِ عمل سے معیشت کو خطرات لاحق ہوئے
شائع اپ ڈیٹ

وزیراعظم شہباز شریف نے منگل کے روز اتحادی سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی وفد کو خیبر پختونخوا کی صورتِ حال پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ سکیورٹی خدشات سے نمٹنے اور معاشی استحکام کے تحفظ کے لیے وفاقی کابینہ میں مشاورت کے بعد آئینی اقدامات کیے گئے۔

وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق، شہباز شریف نے بتایا کہ صوبے میں امن و امان کی صورتِ حال بہتر بنانے، معیشت کو مضبوط کرنے اور دہشت گردی کے خاتمے میں گورنر کی معاونت کے لیے غیر جانب دار ماہرین پر مشتمل مشاورتی کونسل قائم کی گئی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت میں صوبائی حکومت کے طرزِ عمل اور دہشت گردی کے خلاف دوٹوک موقف اختیار کرنے میں ناکامی سے پاکستان کی ترقی کرتی معیشت کو خطرات لاحق ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے باہمی مشاورت سے آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت آئینی اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا۔

شہباز شریف نے الزام عائد کیا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے نہ تو دہشت گردی کی واضح الفاظ میں مذمت کی اور نہ ہی دہشت گردوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کی۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے تحفظ اور صوبے میں امن برقرار رکھنے کے لیے گزشتہ کئی برسوں کے دوران مسلح افواج، سکیورٹی اداروں اور پولیس کے اہلکاروں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے ہیں۔

وزیراعظم نے پی ٹی آئی اور اس کی صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 13 برسوں کے دوران وہ عوام کی فلاح و بہبود اور شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے میں ناکام رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے دہشت گردی کے خاتمے کی کوششوں میں معاونت کے لیے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کے تحت خیبر پختونخوا کو 800 ارب روپے سے زائد فراہم کیے۔

تاہم، ان کا الزام تھا کہ صوبائی حکومت محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کو مضبوط بنانے اور محفوظ شہر منصوبے شروع کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے میں ناکام رہی۔

پارلیمانی وفد میں بلوچستان عوامی پارٹی (بی اے پی)، پاکستان مسلم لیگ (ق)، استحکام پاکستان پارٹی (آئی پی پی) اور پاکستان مسلم لیگ (ضیا) کے نمائندے شامل تھے۔

وفد نے وزیراعظم کو یقین دلایا کہ موجودہ صورتِ حال میں اتحادی جماعتیں وفاقی حکومت کے ساتھ کھڑی ہیں۔ وفد نے مشکل حالات میں ملک کی رہنمائی کرنے پر وزیراعظم کی قیادت کو بھی سراہا۔

وفد نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی کے 13 سالہ دورِ حکومت میں خیبر پختونخوا کے عوام صحت، تعلیم اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں ترقی سے محروم رہے۔ وفد نے اعتماد ظاہر کیا کہ وفاقی حکومت کی معاونت سے صوبہ بھی ملک میں ترقی اور خوش حالی کے وسیع تر سفر میں شامل ہوگا۔

اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ، وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری اور وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور و بین الصوبائی رابطہ رانا ثناء اللہ نے بھی شرکت کی۔

Comments

200 حروف