BR100 Decreased By (-0.19%)
BR30 Decreased By (-0.37%)
KSE100 Decreased By (-0.21%)
KSE30 Decreased By (-0.28%)
BAFL 55.10 Increased By ▲ 0.06 (0.11%)
BIPL 24.49 Increased By ▲ 0.06 (0.25%)
BOP 28.85 Increased By ▲ 0.24 (0.84%)
CNERGY 12.30 Decreased By ▼ -0.11 (-0.89%)
DFML 16.11 Decreased By ▼ -0.22 (-1.35%)
DGKC 182.00 Increased By ▲ 0.88 (0.49%)
FABL 91.60 Decreased By ▼ -0.42 (-0.46%)
FCCL 51.80 Increased By ▲ 0.76 (1.49%)
FFL 13.97 Increased By ▲ 0.18 (1.31%)
GGL 18.38 Decreased By ▼ -0.56 (-2.96%)
HBL 287.49 Decreased By ▼ -2.77 (-0.95%)
HUBC 192.79 Decreased By ▼ -0.73 (-0.38%)
HUMNL 9.43 Increased By ▲ 0.30 (3.29%)
KEL 5.87 Decreased By ▼ -0.02 (-0.34%)
LOTCHEM 26.25 Decreased By ▼ -0.05 (-0.19%)
MLCF 90.27 Increased By ▲ 0.88 (0.98%)
OGDC 298.34 Decreased By ▼ -2.05 (-0.68%)
PAEL 33.50 Increased By ▲ 0.20 (0.6%)
PIBTL 13.82 Increased By ▲ 0.21 (1.54%)
PIOC 229.50 Decreased By ▼ -1.66 (-0.72%)
PPL 215.81 Decreased By ▼ -1.22 (-0.56%)
PRL 93.45 No Change ▼ 0.00 (0%)
SNGP 89.59 Decreased By ▼ -0.12 (-0.13%)
SSGC 22.55 Decreased By ▼ -0.03 (-0.13%)
TELE 7.10 Increased By ▲ 0.04 (0.57%)
TPLP 12.12 Decreased By ▼ -0.18 (-1.46%)
TRG 53.75 Decreased By ▼ -0.29 (-0.54%)
UNITY 8.68 Increased By ▲ 1.00 (13.02%)
WTL 0.97 No Change ▼ 0.00 (0%)
بی آر ریسرچ

دوپہر میں سستی، رات کو مہنگی بجلی

  • ماہانہ اوسط قیمت مارچ میں 16.3 روپے فی یونٹ سے بڑھ کر اپریل میں 40.2 روپے ہو گئی
شائع اپ ڈیٹ

پاکستان کی بجلی کی منڈی میں دن کی روشنی اور رات کے اوقات کے درمیان واضح فرق پیدا ہو رہا ہے۔ اپریل سے اگست 2026 کے دوران بجلی کی اوسط فی گھنٹہ حاشیائی قیمت 34.7 روپے فی کلوواٹ آور رہی، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں ریکارڈ کی گئی 16.6 روپے کی قیمت سے دو گنا سے بھی زیادہ ہے۔ تاہم، ماہانہ اوسط قیمت اس صورتِ حال کا صرف ایک پہلو ظاہر کرتی ہے۔ اگست تک دن کے درمیانی اوقات میں بجلی تقریباً 7.6 روپے فی یونٹ میں دستیاب تھی، جبکہ رات کے اوقات میں اس کی اوسط قیمت 49.1 روپے رہی۔

یہ تبدیلی غیر معمولی ہے۔ 2025 کے بیشتر عرصے میں حاشیائی قیمتوں کا رجحان روایتی انداز کے مطابق رہا، یعنی دوپہر کے قریب قیمتیں کم ہو جاتی تھیں، جبکہ شام کے وقت دوبارہ بڑھنے لگتی تھیں۔ سب سے سستے اور سب سے مہنگے اوقات کے درمیان فرق نمایاں ضرور تھا، لیکن اسے سنبھالنا ممکن تھا۔ گرمیوں میں یہ فرق عموماً 14 سے 21 روپے فی یونٹ کے درمیان رہتا تھا۔ اگست 2025 تک دوپہر کے اوقات میں قیمت کم ہو کر تقریباً 7 روپے فی یونٹ تک پہنچ چکی تھی، تاہم ان اوقات کے علاوہ قیمتیں نسبتاً کم سطح پر برقرار تھیں۔

سالانہ اوسط قیمتوں سے بھی اس تبدیلی کا بمشکل اندازہ ہوتا تھا جو آگے آنے والی تھی۔ مالی سال 2025 میں بجلی کی اوسط حاشیائی قیمت 17.7 روپے فی یونٹ تھی، جو مالی سال 2026 میں بڑھ کر 20.8 روپے ہو گئی۔ یہ 18 فیصد اضافہ تھا۔ اس کے بعد اپریل 2026 آیا۔

ماہانہ اوسط قیمت مارچ میں 16.3 روپے فی یونٹ سے بڑھ کر اپریل میں 40.2 روپے ہو گئی۔ یہاں تک کہ سب سے سستے وقت، یعنی دوپہر کے قریب، بجلی کی قیمت بھی 23.9 روپے فی یونٹ تھی۔ شام کے اوقات میں قیمت شام 6 بجے 50.2 روپے فی یونٹ تک پہنچ گئی۔

مئی اور جون میں قیمتوں میں کچھ کمی آئی، لیکن جولائی تک دن کے درمیانی اوقات میں کم ترین قیمت بلند سطح پر برقرار رہی۔ تاہم، اس سے بھی زیادہ اہم تبدیلی اگست میں سامنے آئی، جب بجلی کی منڈی قیمتوں کے دو واضح نظاموں میں تقسیم ہو گئی۔

صبح 10 بجے سے دوپہر 1 بجے کے درمیان بجلی کی اوسط حاشیائی قیمت 7.6 روپے فی یونٹ رہی، جو ایک سال پہلے کی 7.1 روپے کی قیمت سے تقریباً غیر تبدیل شدہ تھی۔ شام 5 بجے سے رات 10 بجے کے درمیان یہ اوسط قیمت 46.6 روپے رہی۔ رات 10 بجے سے صبح 6 بجے تک قیمت کی اوسط 49.1 روپے تک پہنچ گئی، جبکہ رات 11 بجے یہ بلند ترین سطح 51.7 روپے فی یونٹ پر رہی۔

دوسرے الفاظ میں، دن کی روشنی کے اوقات میں بجلی کی سب سے کم قیمت میں تقریباً کوئی تبدیلی نہیں آئی، جبکہ ان اوقات سے باہر قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا۔ اگست 2025 میں سب سے سستے اور سب سے مہنگے اوقات کے درمیان فرق 14.3 روپے فی یونٹ تھا، جو اگست 2026 میں بڑھ کر 44.4 روپے ہو گیا۔

یہ رجحان شمسی توانائی سے بجلی کی پیداوار کے بڑھتے ہوئے اثرات سے مطابقت رکھتا ہے۔ دن کے وقت بجلی کی وافر فراہمی حاشیائی قیمت کو نچلی سطح تک گرا سکتی ہے، جبکہ شمسی بجلی کی پیداوار ختم ہونے کے بعد شام اور رات کی طلب پوری کرنے کے لیے زیادہ مہنگے ذرائع استعمال کرنا پڑتے ہیں۔ صرف فی گھنٹہ قیمتوں کے اعدادوشمار سے یہ ثابت نہیں کیا جا سکتا کہ کون سے بجلی گھر حاشیائی قیمت کا تعین کر رہے تھے یا اس تبدیلی میں ایندھن کی لاگت، طلب کے رجحانات اور بجلی کی پیداوار و ترسیل کے فیصلوں کا کتنا حصہ تھا۔ اس کے لیے بجلی کی پیداوار اور ترسیل سے متعلق اعدادوشمار کی مدد سے تصدیق ضروری ہے۔ تاہم، دن کے مختلف اوقات میں قیمتوں کے درمیان بڑھتا ہوا فرق نظرانداز کرنا مشکل ہے۔

صنعتی صارفین کے لیے اس صورتِ حال کے فوری اثرات ہیں۔ وہ کاروباری ادارے جو اپنی بجلی کی کھپت کے لچک دار حصے کو صبح کے آخری اوقات اور دوپہر کے ابتدائی حصے میں منتقل کر سکتے ہیں، انہیں شام اور رات کے دوران کام کرنے والے اداروں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم حاشیائی قیمتوں سے فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ تاہم، مسلسل کام کرنے والے صنعتی ادارے مہنگے اوقات میں بجلی استعمال کرنے پر مجبور رہتے ہیں۔

قیمتوں میں یہ فرق توانائی ذخیرہ کرنے کے معاشی پہلوؤں کا جائزہ لینے کے حق میں دلیل کو بھی مضبوط کرتا ہے۔ کم قیمت والے اوقات میں بیٹریاں چارج کرکے شام کے عروجِ طلب کے دوران ان سے بجلی حاصل کرنے کے ذریعے قیمتوں کے بڑے فرق سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ لیکن قیمتوں میں فرق ہونا بذاتِ خود منافع بخش سرمایہ کاری کی ضمانت نہیں ہے۔ بیٹری چارج اور ڈسچارج کرنے کے عمل میں توانائی کا ضیاع، بیٹری کی عمر میں کمی، سرمایہ جاتی اخراجات، ٹیکس، نیٹ ورک چارجز اور قابلِ اطلاق ٹیرف کا ڈھانچہ اس بات کا تعین کریں گے کہ توانائی ذخیرہ کرنے کا نظام تجارتی لحاظ سے فائدہ مند ہے یا نہیں۔

بجلی کے نرخوں کا تعین بھی ایک اہم معاملہ ہے۔ جب بجلی کی بنیادی حاشیائی قیمت دن کے مختلف اوقات میں اتنے بڑے پیمانے پر تبدیل ہوتی ہو تو ایک ہی اوسط ٹیرف مختلف اوقات میں بجلی استعمال کرنے کی حقیقی لاگت کو چھپا سکتا ہے۔ وقت کے لحاظ سے مختلف نرخ مقرر کرنے کا نظام صارفین کو اپنی طلب کم قیمت والے اوقات میں منتقل کرنے کی زیادہ مؤثر ترغیب دے سکتا ہے، بشرطیکہ ٹیرف کا ڈھانچہ بجلی کی فراہمی کی حقیقی لاگت کی عکاسی کرے اور صارفین کو اپنے استعمال کے اوقات تبدیل کرنے کے لیے کافی لچک فراہم کرے۔

سردیوں میں اس رجحان کا اگلا امتحان ہوگا۔ تاریخی طور پر سرد مہینوں میں روزانہ قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کا فرق کم ہو جاتا تھا، اور فروری میں قیمتوں کے درمیان فرق تقریباً 2 سے 6 روپے فی یونٹ رہتا تھا۔ تاہم، جنوری 2026 میں ہی کچھ فرق سامنے آ چکا تھا، جب شام کے اوقات میں بجلی کی قیمت 32.7 روپے فی یونٹ تک پہنچ گئی، جبکہ دوپہر کے قریب یہ 25.8 روپے تھی اور شام 7 بجے قیمت بلند ترین سطح پر رہی۔

اگر اگست میں سامنے آنے والا رجحان سردیوں میں بھی برقرار رہتا ہے تو شام کے اوقات میں قیمتوں پر دباؤ محض موسمی بے قاعدگی کے بجائے بجلی کی منڈی کی ایک مستقل خصوصیت بن سکتا ہے۔ اس کے صنعتی مسابقت، بیٹریوں میں سرمایہ کاری اور بجلی کے نرخوں کے تعین کے طریقۂ کار پر اثرات مرتب ہوں گے۔

پاکستان کی بجلی کی منڈی محض زیادہ مہنگی نہیں ہو رہی، بلکہ اب دن کے مختلف اوقات کے لحاظ سے اس میں قیمتوں کا فرق بھی بڑھتا جا رہا ہے۔ اب اصل چیلنج یہ ہے کہ بجلی کے استعمال، توانائی ذخیرہ کرنے اور ٹیرف کے ڈھانچے کو ایسی منڈی کے مطابق بنایا جائے جہاں بجلی کی قیمت دوپہر اور رات کے درمیان ڈرامائی طور پر تبدیل ہو سکتی ہے۔

Comments

200 حروف