ہوائی اڈوں پر بڑے حملوں کے بعد سعودی عرب پر میزائلوں اور ڈرونز سے تازہ حملے
- حوثیوں کے مسلسل حملوں کے باعث ریاض کا ہوائی اڈہ بند ہے، جو سعودی عرب اور یمن کے درمیان تنازع میں نمایاں شدت کی علامت ہے
سعودی عرب نے کہا ہے کہ اسے پیر کو ایک بار پھر میزائلوں اور ڈرونز کی شدید یلغار کا سامنا ہے، جبکہ ریاض کا ہوائی اڈہ فی الحال بند رہے گا۔ یہ پیش رفت ہفتے کے روز روانگی کے ٹرمینل پر ہونے والے مہلک میزائل حملے کے چند روز بعد سامنے آئی ہے، جس کی ذمہ داری یمن کے حوثیوں نے قبول کی تھی۔
یمن میں حکومتی فورسز نے آنے والے ڈرونز اور میزائلوں کی اطلاع دی، تاہم فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ انہیں فضا ہی میں تباہ کیا گیا یا نہیں۔
حوثی گزشتہ ہفتے سے سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ یہ حملے تیزی سے شدت اختیار کرتے اس تنازع کا حصہ ہیں، جو امریکا اور ایران کے درمیان وسیع تر علاقائی جنگ سے پھیل کر سعودی عرب تک پہنچ گیا ہے۔
ان حملوں کے باعث سعودی عرب کی فضائی حدود کے بعض حصے بند ہوچکے ہیں، جس سے ریاض کے ہوائی اڈے پر پروازوں کا آپریشن معطل ہے اور دارالحکومت کی فضائی حدود میں بھی پروازوں کی آمدورفت تقریباً ختم ہوگئی ہے۔ یہ صورت حال ایسے وقت میں ہے جب شہر میں توانائی کے شعبے کی ایک بڑی کانفرنس جاری ہے۔
سعودی عرب کو اب ایک سنگین صورت حال کا سامنا ہے۔ مملکت نے اہم بحری تجارتی راستے آبنائے باب المندب سے حوثیوں کو پیچھے دھکیلنے اور ستمبر میں ان کی اچانک پیش قدمی کے بعد مزید کامیابیاں روکنے کے لیے یمن کی خانہ جنگی میں دوبارہ مداخلت کی ہے۔
ریاض کی حمایت یافتہ یمنی فورسز نے آبنائے باب المندب کے اطراف حوثیوں کے خلاف کچھ کامیابیاں حاصل کی ہیں، تاہم دوسرے محاذوں پر انہیں اب بھی پسپائی کا سامنا ہے۔ یمنی فوجی ذرائع کے مطابق، حوثیوں پر دباؤ ڈالنے کے نتائج سامنے آنے میں وقت لگ سکتا ہے۔
سعودی عرب کے دیرینہ علاقائی حریف ایران نے اپنے حلیف حوثیوں اور سعودی مملکت کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کو کہا، ’’ہم فریقین کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں مدد دینے کے لیے اپنی آمادگی کا بارہا اظہار کرچکے ہیں۔‘‘
دریں اثنا، حوثیوں کے خلاف سعودی فضائی حملوں میں شدت آنے کے باوجود، جن میں یمنی ٹیلی ویژن کے مطابق پیر کو صوبہ الجوف کو بھی نشانہ بنایا گیا، گروپ کی جانب سے سعودی تنصیبات پر حملوں میں کمی کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے۔
حوثی بارہا ہوائی اڈوں، فضائی حدود اور سعودی تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دے چکے ہیں۔ یہی تنصیبات سعودی معیشت اور مملکت کے بلند عزائم پر مبنی ترقیاتی منصوبوں کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔
متحدہ عرب امارات کا خلیجی ممالک سے مشترکہ اقدام کا مطالبہ
سعودی وزیر توانائی شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے پیر کو کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مملکت اپنے وسیع تر معاشی ترقیاتی اہداف کے تحت سرمایہ کاری کے حصول پر توجہ برقرار رکھے گی۔
انہوں نے کہا، ’’ہمارے توانائی کے نظام اور صنعتی صلاحیتوں کی ترقی کا عمل جاری ہے۔‘‘
ادھر سعودی عرب کے پڑوسی ملک متحدہ عرب امارات نے پیر کو حملوں کے جواب میں سلامتی اور دفاع کے شعبوں میں خلیجی ممالک کے مشترکہ اقدامات کی بحالی پر زور دیا۔
متحدہ عرب امارات کے صدارتی مشیر انور قرقاش نے کہا کہ سعودی عرب کو نشانہ بنانے سے تمام خلیجی ریاستوں کی سلامتی خطرے میں پڑتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خلیجی سلامتی کے اجتماعی نظام کو نظرانداز کرنے سے ’’دوسروں کی حوصلہ افزائی ہوئی‘‘ کہ وہ علاقائی ریاستوں کے خلاف حد سے تجاوز کریں۔
سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کئی برس تک یمن کے تنازع میں اتحادی رہے، تاہم حکومت کی حمایت کرنے والے یمنی فوجی اتحاد کے اندر دونوں ممالک مختلف قوتوں کی پشت پناہی کرتے رہے اور گزشتہ موسم سرما میں ان کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز کہا تھا کہ واشنگٹن حوثیوں کے خلاف حملوں میں سعودی عرب کا ساتھ دینے پر غور کر رہا ہے، تاہم اب تک امریکا کی جانب سے کسی کارروائی کے آثار سامنے نہیں آئے۔


Comments