BR100 Decreased By (-1.19%)
BR30 Decreased By (-1.58%)
KSE100 Decreased By (-1.18%)
KSE30 Decreased By (-1.68%)
BAFL 55.04 Decreased By ▼ -1.26 (-2.24%)
BIPL 24.43 Decreased By ▼ -0.22 (-0.89%)
BOP 28.61 Decreased By ▼ -0.47 (-1.62%)
CNERGY 12.41 Decreased By ▼ -0.11 (-0.88%)
DFML 16.33 Decreased By ▼ -0.13 (-0.79%)
DGKC 181.12 Decreased By ▼ -3.26 (-1.77%)
FABL 92.02 Decreased By ▼ -0.11 (-0.12%)
FCCL 51.04 Decreased By ▼ -1.08 (-2.07%)
FFL 13.79 Decreased By ▼ -0.24 (-1.71%)
GGL 18.94 Decreased By ▼ -0.31 (-1.61%)
HBL 290.26 Decreased By ▼ -5.50 (-1.86%)
HUBC 193.52 Decreased By ▼ -6.63 (-3.31%)
HUMNL 9.13 Decreased By ▼ -0.25 (-2.67%)
KEL 5.89 Decreased By ▼ -0.16 (-2.64%)
LOTCHEM 26.30 Decreased By ▼ -0.08 (-0.3%)
MLCF 89.39 Decreased By ▼ -1.24 (-1.37%)
OGDC 300.39 Decreased By ▼ -5.73 (-1.87%)
PAEL 33.30 Decreased By ▼ -0.66 (-1.94%)
PIBTL 13.61 Increased By ▲ 0.09 (0.67%)
PIOC 231.16 Decreased By ▼ -4.30 (-1.83%)
PPL 217.03 Decreased By ▼ -1.91 (-0.87%)
PRL 93.45 Increased By ▲ 0.38 (0.41%)
SNGP 89.71 Decreased By ▼ -0.64 (-0.71%)
SSGC 22.58 Decreased By ▼ -0.48 (-2.08%)
TELE 7.06 Decreased By ▼ -0.11 (-1.53%)
TPLP 12.30 Decreased By ▼ -0.08 (-0.65%)
TRG 54.04 Decreased By ▼ -1.25 (-2.26%)
UNITY 7.68 Decreased By ▼ -0.05 (-0.65%)
WTL 0.97 Decreased By ▼ -0.02 (-2.02%)
دنیا

پاکستان کی شہ رگ بحران کی زد میں

  • ’’بدامنی سے آزاد کشمیر کی معیشت، تعلیم اور سیاحت متاثر، احتجاجی بحران پاکستان کے لیے مالی و سیاسی بوجھ اور بھارت کے لیے فائدہ بن رہا ہے، دیرپا حل کے لیے مذاکرات ناگزیر ہیں۔‘‘
شائع اپ ڈیٹ

آزاد جموں و کشمیر کی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کا قیام ابتدا میں تاجروں، ٹرانسپورٹرز، طلبہ اور سول سوسائٹی کے مختلف گروپوں نے عمل میں لایا۔ یہ کمیٹی ستمبر 2023 میں اس وقت قائم ہوئی جب گندم کی قیمتیں اور بجلی کے نرخ بلند تھے۔ بعد ازاں کمیٹی نے 38 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈز پیش کیا، جس میں اشرافیہ کو حاصل مراعات کے خاتمے اور پاکستان میں آباد کشمیری مہاجرین کے لیے مختص اسمبلی کی 12 نشستیں ختم کرنے کے مطالبات بھی شامل تھے۔ مئی 2024 میں ایک ہفتے سے جاری ہڑتال اس وقت ختم ہوئی جب حکومت نے 23 ارب روپے کی گرانٹ اور گندم و بجلی کی قیمتوں میں کمی سمیت مطالبات تسلیم کرلیے۔

ستمبر 2025 کے اواخر میں چھ روزہ شٹر ڈاؤن پرتشدد واقعات کے بعد ختم ہوا۔ 4 اکتوبر 2025 کو ایک معاہدے پر دستخط کیے گئے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس نے 38 میں سے 35 سے 37 مطالبات پورے کردیے ہیں، تاہم جے اے اے سی اس دعوے سے اختلاف کرتی ہے۔ جون 2026 میں مذاکرات ناکام ہوگئے۔ آزاد کشمیر حکومت نے 5 جون کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت کمیٹی پر پابندی عائد کردی، اس کے 147 کارکنوں کے نام فورتھ شیڈول میں شامل کیے اور انٹرنیٹ سروسز معطل کردیں۔ جے اے اے سی نے ’’یومِ سیاہ‘‘ منانے کا اعلان کیا اور 4 اکتوبر 2026 کو تینوں ڈویژنوں میں غیر معینہ مدت کے لیے مکمل شٹر ڈاؤن شروع کردیا، جس کے دوران ایک بار پھر غیر ملکیوں سے نفرت پر مبنی تشدد کے واقعات سامنے آئے۔

ان حالات کے معاشرے پر گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ زندگی کے تمام شعبے متاثر ہوئے۔ ہڑتالوں کے باعث ٹرانسپورٹ، دکانیں اور تعلیمی ادارے بند رہے۔ سب سے زیادہ نقصان طلبہ کو اٹھانا پڑا۔ آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی نے موسمِ بہار کے امتحانات ملتوی کردیے، جبکہ 48 روزہ انٹرنیٹ بندش سے آن لائن تعلیم، فری لانس کام کرنے والوں، خواتین کاروباری افراد اور ڈیجیٹل ادائیگیوں کا نظام متاثر ہوا۔ صحت کی سہولتیں بھی اس صورتِ حال سے محفوظ نہ رہ سکیں۔ رسد کی ترسیل میں رکاوٹوں اور سامان کی نقل و حمل کے دشوار ہونے کے باعث ادویات کی فراہمی متاثر ہوئی۔ کئی ہفتوں تک متعدد خاندان خوف اور غیر یقینی صورتِ حال میں زندگی گزارتے رہے۔

معاشرے میں تقسیم بھی بڑھ رہی ہے۔ بہت سے لوگوں نے ابتدائی ہڑتالوں کی حمایت کی کیونکہ ان سے اخراجات میں بچت ہوتی تھی، لیکن غیر معینہ مدت کی بندشوں کے لیے عوامی حمایت اب کمزور پڑ رہی ہے۔

ایک چھوٹی معیشت کے لیے یہ صورتِ حال خاصی مہنگی ثابت ہوئی ہے۔ حکومت نے 2026 کے ہنگاموں سے ہونے والے نقصانات کا تخمینہ 15 ارب روپے لگایا ہے، جن میں سے 4 ارب روپے سیاحت کے شعبے سے متعلق ہیں۔ یہ آزاد کشمیر کے تقریباً 286 ارب روپے کے سالانہ بجٹ کا لگ بھگ 5 فیصد بنتا ہے۔ یہ ہنگامے موسمِ گرما کے عروج پر پھوٹ پڑے، جب سیاحوں کو علاقے سے نکل جانے کی ہدایت کی گئی۔ ہوٹلوں، ریستورانوں اور ٹرانسپورٹرز کو سال کے بدترین دنوں کا سامنا کرنا پڑا۔ تاجروں کے مطابق جون کے اختتام تک مظفرآباد میں صرف 50 سے 70 فیصد کاروبار دوبارہ شروع ہوسکے تھے۔

دکاندار ممکن ہے اپنی کھوئی ہوئی فروخت کا کچھ حصہ بعد میں پورا کرلیں، لیکن یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدوروں کی ضائع شدہ آمدن واپس نہیں آسکتی۔ یوں سب سے زیادہ نقصان غریب طبقے کو اٹھانا پڑتا ہے۔ اسلام آباد بھی آزاد کشمیر کی معاونت کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ آزاد کشمیر کی اپنی ٹیکس آمدن تقریباً 75 ارب روپے متوقع ہے، جبکہ وفاقی گرانٹ کا تخمینہ 146 ارب روپے ہے۔ اس طرح مقامی سطح پر پیدا ہونے والی ہر ہنگامی صورتِ حال وفاقی حکومت پر مزید مالی بوجھ ڈالتی ہے۔

امن و امان برقرار رکھنے کے اخراجات بھی سنگین مسئلہ ہیں۔ ہر نئے احتجاجی مرحلے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں، جبکہ حکومت نے پولیس اور سرکاری املاک پر حملوں کا ذمہ دار جے اے اے سی کو ٹھہرایا ہے۔ ہر ہلاک یا زخمی اہلکار کے پیچھے ایک غم زدہ خاندان ہوتا ہے، جبکہ ہر تباہ شدہ سڑک یا عمارت کی مرمت پر خرچ ہونے والی رقم دراصل اسکولوں اور اسپتالوں کے لیے مختص وسائل میں کمی کا باعث بنتی ہے۔

ریاست مخالف جذبات میں اضافے پر بھی تشویش بڑھ رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ریاست کے خلاف مزاحمت کے نعرے لگائے جارہے ہیں، جن میں نوجوان طلبہ اور بچے بھی شامل ہیں۔ یہ تمام اشاروں میں سب سے تشویش ناک ہے، کیونکہ جس نسل کے ذہنوں میں یہ بات بٹھا دی جائے کہ ریاست اس کی دشمن ہے، اس کا اعتماد بحال کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔

اس صورتِ حال کے پاکستان کے لیے مالی، سیاسی اور تزویراتی اثرات بھی ہیں۔ قائداعظم نے کہا تھا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ پاکستان اور کشمیر ایک دوسرے سے اس طرح جڑے ہوئے ہیں جیسے ایک ہی جسم کے دو حصے۔ پاکستانی کھیتوں اور ڈیموں کو پانی فراہم کرنے والے دریا کشمیر سے گزرتے ہیں اور منگلا ڈیم بھی وہیں واقع ہے۔

مالی اعتبار سے حکومت نے 2024 میں 23 ارب روپے کی گرانٹ دی، جبکہ 2025 کے معاہدے کے تحت مزید 20 سے 25 ارب روپے خرچ ہوئے۔ اس سے پہلے ہی دباؤ کا شکار قومی بجٹ پر مزید بوجھ پڑا۔ سیاسی سطح پر بھی ان احتجاجی مظاہروں کے بعض نتائج سامنے آئے، جن میں آزاد کشمیر کی کابینہ کے ارکان کی تعداد 36 سے کم کرکے 20 کرنا شامل ہے۔

بین الاقوامی سطح پر اس صورتِ حال کا فائدہ صرف بھارت کو پہنچ رہا ہے۔ بھارتی ذرائع ابلاغ نے آزاد کشمیر میں بدامنی کو بڑے پیمانے پر کوریج دی ہے اور اکثر اس علاقے کو ’’مقبوضہ‘‘ قرار دیا ہے، جبکہ 4 اکتوبر کے احتجاج کو ’’یومِ سیاہ‘‘ کہا ہے۔ ہر ہڑتال، انٹرنیٹ کی بندش اور ہلاکت کو بھارتی میڈیا شہ سرخیوں میں جگہ دیتا ہے اور اسے کشمیر پر پاکستان کا مؤقف کمزور کرنے اور یہ دعویٰ کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے کہ وہاں کے عوام خود پاکستان سے خوش نہیں۔

تاہم، یہ کوریج یک طرفہ اور سیاسی محرکات پر مبنی ہے اور بدامنی کے واقعات اسے تیزی سے پھیلانے کے لیے مواد فراہم کرتے ہیں۔ یوں بھارت کچھ کیے بغیر فائدہ اٹھا رہا ہے، جبکہ پاکستان کو اپنی پوزیشن کی وضاحتیں دینا پڑتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ معاملہ صرف آزاد کشمیر کا داخلی مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان کے حریف کے لیے ایک تحفہ بھی ہے۔

گزشتہ تین برسوں کا سبق واضح ہے: بدامنی کسی کے مفاد میں نہیں۔ انسانی جانیں، تعلیم، صحت اور روزگار سب اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ دیرپا حل کے لیے مذاکرات ناگزیر ہیں۔ احتجاج پُرامن ہونا چاہیے، مطالبات قابلِ حصول ہونے چاہییں اور کیے گئے وعدوں کو پورا کیا جانا چاہیے۔ آزاد کشمیر کو مزید ہڑتالوں کے بجائے روزگار، تعلیم، سیاحت اور امن کی ضرورت ہے۔ پاکستان کی طاقت ایک مستحکم، متحد اور پراعتماد کشمیر میں ہے۔

کشمیر بنے گا پاکستان!

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف