سندھ حکومت کے ترجمان سکھ دیو ہیمنانی کا حالیہ یہ مؤقف کہ وفاقی محصولات میں کمی صوبائی مالیات اور ترقیاتی سرگرمیوں کو متاثر کررہی ہے، اپنی حد تک درست ہے۔ تاہم، یہ ایک گہرے مسئلے کی بھی نشاندہی کرتا ہے: صوبے وفاقی قابلِ تقسیم محاصل سے ملنے والی رقوم پر حد سے زیادہ انحصار کرتے آئے ہیں جبکہ اپنے محصولات کے ذرائع کو وسعت دینے کے لیے بہت کم اقدامات کیے گئے ہیں۔
جیسا کہ ہیمنانی نے نشاندہی کی، صوبائی بجٹ وفاقی محصولات کے تخمینوں کی بنیاد پر مرتب کیے جاتے ہیں جبکہ صوبوں کو حقیقی منتقلیاں ایف بی آر کی محصولات وصولیوں پر منحصر ہوتی ہیں۔ چنانچہ ایف بی آر کی وصولیوں میں کسی بھی کمی کے نتیجے میں صوبائی بجٹ کے وسائل بھی کم ہو جاتے ہیں۔
سندھ حکومت کی شکایت ایک وسیع تر مالیاتی مسئلے کی جانب اشارہ کرتی ہے: این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو وفاقی قابلِ تقسیم محاصل میں سے 57.5 فیصد حصہ ملتا ہے جس کے باعث صوبے ان منتقلیوں پر بہت زیادہ انحصار کرنے لگے ہیں جبکہ اپنے محصولات کے ذرائع کو وسعت دینے کے لیے بہت کم اقدامات کیے گئے ہیں۔
انہیں یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ ترقیاتی اخراجات میں کسی بھی قسم کی سست روی حکومت کی ایک بنیادی ذمہ داری پوری کرنے میں ناکامی کی بھی عکاسی کرتی ہے، یعنی اپنے دائرۂ اختیار میں آنے والی خدمات اور ترقیاتی پروگراموں کی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے خاطر خواہ محصولات جمع کرنا۔ یہ مستقل کمزوری صوبوں کو وفاقی محصولات میں ہر اتار چڑھاؤ کے سامنے غیر محفوظ بنا دیتی ہے جس کے نتیجے میں مرکز میں محصولات کی کمی صوبوں کے لیے ترقیاتی سرگرمیوں میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔
صوبوں کے دائرۂ اختیار میں ٹیکس کے کئی بڑے ذرائع آتے ہیں، لیکن ان کے اپنے ذرائع سے حاصل ہونے والی آمدن اب بھی حیران کن حد تک کم ہے۔ آئی ایم ایف کے حالیہ جائزے میں زراعت کو پاکستان کا سب سے بڑا کم ٹیکس عائد کیا جانے والا شعبہ قرار دیا گیا ہے جبکہ رئیل اسٹیٹ اور کاروباری خدمات بھی ٹیکس وصولی کے مقابلے میں معاشی سرگرمیوں میں نمایاں حصہ ڈالتی ہیں۔
صوبوں کی جانب سے محصولات بڑھانے میں ناکامی کی سب سے واضح مثال زراعت کا شعبہ ہے جو پاکستان میں مجموعی ویلیو ایڈڈ کا 24.6 فیصد حصہ رکھتا ہے، تاہم اس پر مؤثر ٹیکس کی شرح محض 0.3 فیصد ہے۔ چونکہ زرعی آمدن پر ٹیکس عائد کرنا صوبائی دائرۂ اختیار میں آتا ہے، اس لیے یہ صورتِ حال شعبے کی معاشی شراکت اور صوبائی محصولات میں اس کے حصے کے درمیان واضح فرق کو اجاگر کرتی ہے۔
یہاں تک کہ زرعی آمدن کو زیادہ مؤثر انداز میں ٹیکس نیٹ میں لانے کی حالیہ کوشش بھی مالیاتی ذمہ داری کے لیے اس شعبے کی اہمیت کے اعتراف کے بجائے آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت کی گئی ہے۔
رئیل اسٹیٹ بھی محصولات کا ایک ایسا اہم ذریعہ ہے جس سے خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا۔ گزشتہ برسوں کے دوران جائیداد کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا لیکن پراپرٹی ٹیکس کے تخمینے اور جائیداد کی قیمت کے تعین کے طریقۂ کار اکثر اس رفتار سے ہم آہنگ نہیں ہو سکے۔
لہٰذا سندھ حکومت کا حالیہ فیصلہ خوش آئند ہے جس کے تحت ریکارڈ میں شامل شہری پراپرٹیز پر مشتمل پراپرٹی ٹیکس بیس کو 3 لاکھ 97 ہزار جائیدادوں سے بڑھا کر 21 لاکھ 50 ہزار کر دیا گیا ہے، تاہم اس توسیع کا حجم ظاہر کرتا ہے کہ کئی برسوں تک محصولات کی کتنی بڑی گنجائش ٹیکس نیٹ سے باہر رہی۔ محصولات کے حصول کے لیے کئی دیگر نسبتاً چھوٹے ذرائع بھی استعمال کیے جاسکتے ہیں۔
صوبائی خدمات کے لیے وصول کی جانے والی فیس اور چارجز، جن میں کمرشل گاڑیوں کے فٹنس سرٹیفکیٹس کی فیس بھی شامل ہے، کئی برسوں تک ایک ہی سطح پر برقرار نہیں رہنے چاہئیں جبکہ ان خدمات کی فراہمی کی لاگت مسلسل تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ ٹیکسوں، فیسوں، لائسنسوں اور دیگر نان ٹیکس محصولات کا منظم جائزہ مجموعی طور پر صوبائی آمدن میں نمایاں اضافہ کرسکتا ہے۔
جو چیز درکار ہے وہ محصولات کی نشاندہی اور انہیں متحرک کرنے کیلئے ایک مسلسل ادارہ جاتی کوشش ہے۔ صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ محصولات متحرک کرنے کے لیے کمیشن قائم کریں جنہیں اپنے ٹیکس اور نان ٹیکس محصولات کے ذرائع کا جامع جائزہ لینے کی ذمہ داری سونپی جائے۔ ان اداروں کو کم ٹیکس عائد کیے جانے والے شعبوں کی نشاندہی، محصولات کی وصولی میں موجود خلا کا جائزہ، فرسودہ ویلیوایشن اور شرح پر نظرثانی، ٹیکس استثنیٰ اور مراعات کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ ٹیکس قوانین کے نفاذ اور تعمیل کو بہتر بنانے کیلئے اقدامات تجویز کرنے چاہئیں۔ ان کی سفارشات پر عملدرآمد کیلئے واضح مدت مقرر ہونی چاہیے اور پیشرفت سے باقاعدگی سے عوام کو آگاہ کیا جانا چاہیے۔
ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ جب این ایف سی ایوارڈ کے تحت وفاقی قابلِ تقسیم محاصل میں صوبوں کا حصہ 57.5 فیصد مقرر کیا گیا تھا تو اس کا مقصد پاکستان کے تاریخی طور پر مرکزیت پر مبنی مالیاتی ڈھانچے کی اصلاح کی جانب ایک اہم قدم اٹھانا تھا۔ تاہم زمینی حقائق اب نمایاں طور پر تبدیل ہو چکے ہیں، اور مالیاتی خودمختاری کے ساتھ مالیاتی ذمہ داری بھی لازم ہے۔ صوبائی حکومتیں ترقیاتی اخراجات میں ہر رکاوٹ کو وفاقی منتقلیوں میں اتار چڑھاؤ سے منسوب نہیں کرسکتیں جبکہ اپنے ٹیکس کے ذرائع کے بڑے حصے کو بدستور بروئے کار لانے سے گریز کرتی رہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ صوبے محصولات کی وصولی بہتر بنا کر اور اپنی ترقیاتی ضروریات کے اخراجات میں زیادہ بڑا حصہ خود برداشت کرکے اس صورتحال کی اصلاح کریں۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026


Comments