امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر نے جمعہ کو بتایا کہ گروپ 20 (G20) کے تجارتی وزرا میں سے چند ممالک نے اضافی صنعتی پیداواری صلاحیت اور غیر منڈی پر مبنی پالیسیوں کو محدود کرنے کی امریکی اپیل مسترد کر دی جس سے بڑی معیشتوں کے اس گروپ کے اندر موجود اختلافات نمایاں ہوگئے ہیں۔
امریکا، جو رواں سال جی 20 کی صدارت کر رہا ہے، نے یہ بیان ملواکی میں ہونے والے تجارتی اجلاس کے ایک روز بعد جاری کیا۔ اجلاس میں یہ بات سامنے آئی کہ صرف دو ممالک، میکسیکو اور ارجنٹینا، امریکا کی قیادت میں جاری کیے گئے اس بیان کا حصہ بنے جس میں جبری مشقت سے تیار کی جانے والی اشیا کو سپلائی چینز سے خارج کرنے کے لیے مزید اقدامات اور تعاون پر زور دیا گیا تھا۔
جی 20 کے بیشتر ممالک کی جانب سے اس مؤقف کو مسترد کیا جانا ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ نے 59 ممالک اور یورپی یونین سے درآمد ہونے والی اشیا پر 10 یا 12.5 فیصد ٹیرف عائد کیے ہیں۔ امریکا کا الزام ہے کہ یہ ممالک جبری مشقت پر پابندیوں پر مؤثر انداز میں عمل درآمد نہیں کر رہے۔
امریکی تجارتی نمائندے کا دفتر اضافی صنعتی پیداواری صلاحیت کے آثار رکھنے والے 16 تجارتی شراکت داروں کے خلاف سیکشن 301 کے تحت دوسری ٹیرف تحقیقات بھی کر رہا ہے۔ توقع ہے کہ اس تحقیقات کے نتیجے میں آنے والے مہینوں میں نئے محصولات عائد کیے جا سکتے ہیں۔
یو ایس ٹی آر کے بیان میں ان ممالک کے نام نہیں بتائے گئے جنہوں نے اضافی صنعتی پیداواری صلاحیت سے متعلق بیان کی مخالفت کی۔ تاہم ایک ماہ قبل شمالی کیرولائنا میں ہونے والے وزرائے خزانہ کے اجلاس میں چین نے جی 20 کے اسی نوعیت کے ایک بیان کی مخالفت کی تھی جس میں جبری مشقت اور ایسی غیر منڈی پر مبنی معاشی پالیسیوں کی مذمت کی گئی تھی جو ضرورت سے زیادہ برآمدات کا باعث بنتی ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ وزارتی اعلامیے کے مسودے کی حمایت چند ایک ارکان کے سوا تمام ارکان نے کی، تاہم ان میں سے چند نے اضافی پیداواری صلاحیت کے معاملے پر باہمی تعاون کے لیے اس راستے کی تشکیل کو واضح طور پر مسترد کردیا۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ اس مؤقف سے امریکا کی جی 20 صدارت کو شدید مایوسی ہوئی۔
چین کی اضافی صنعتی پیداواری صلاحیت اور صنعتی شعبے کو دی جانے والی سبسڈیز رواں سال امریکا کی زیرِ قیادت جی 20 کے وزارتی اجلاسوں میں اہم موضوعات رہی ہیں۔ بیجنگ نے اس مؤقف کو مسترد کیا ہے کہ اس کی صنعتی پالیسیوں کے نتیجے میں اضافی پیداواری صلاحیت پیدا ہوئی ہے اور مغربی ممالک پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ تحفظ پسند اقدامات کو جواز فراہم کرنے کے لیے اس معاملے کو استعمال کر رہے ہیں۔
امریکا نے کہا کہ جی 20 کے تجارتی وزرا نے خوراک کی تجارت کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی مذمت پر اتفاقِ رائے حاصل کر لیا ہے۔ ارکان نے اتفاق کیا کہ خوراک یا زرعی اشیا کی تجارت کو معاشی یا سیاسی دباؤ کے لیے بطور ہتھیار استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔
جی 20 کے تجارتی وزرا نے کہا کہ ہم خوراک کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی مذمت کرتے ہیں کیونکہ یہ انسانی اور معاشی اعتبار سے ایک سنگین خطرہ ہے۔


Comments