ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے رواں مالی سال کے لیے پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.7 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے جو حکومت کی جانب سے مقرر کردہ 4 فیصد کے ہدف سے 0.3 فیصد کم اور 2025-26 کی عارضی شرح نمو کے برابر ہے۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کی ویب سائٹ پر درج اعداد و شمار کے مطابق 2025-26 میں ملکی معیشت کا حجم 4,523.1 ارب ڈالر جبکہ فی کس آمدن 1,901 ڈالر رہی۔
عالمی بینک نے رواں سال پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.2 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے جب کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے شرح نمو 3.5 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا ہے۔ان مختلف پیش گوئیوں کی ایک وجہ ممکنہ طور پر وہ مختلف اوقات ہیں جب یہ تخمینے لگائے گئے۔ اس میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعات، نیز روس اور یوکرین کے درمیان جنگ کے ممکنہ اختتام کے حوالے سے دونوں کثیرالجہتی اداروں کی جانب سے کیے گئے جائزے بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک وجہ یہ مفروضہ بھی ہو سکتی ہے کہ پاکستانی حکام آئی ایم ایف کے جاری پروگرام کے تحت طے شدہ تمام پالیسی اقدامات، بشمول ساختی اہداف اور مقررہ مدت سے مشروط شرائط پر بدستور عمل درآمد جاری رکھیں گے۔ یہ اقدامات انتہائی سکڑاؤ پر مبنی ہیں اور اس لیے معاشی نمو کے لیے معاون نہیں بلکہ اس میں رکاوٹ کا باعث بنتے ہیں۔
آئی ایم ایف کی ٹیم اس وقت پاکستان میں موجود ہے اور چوتھے سہ ماہی جائزے کے ساتھ ساتھ ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فنڈ (آر ایس ایف) کے تیسرے جائزے پر بات چیت کر رہی ہے۔ اگلی قسط کے اجرا کی منظوری کے لیے عملے کی جانب سے یہ معاملہ آئی ایم ایف کے بورڈ کے سامنے پیش کیے جانے سے قبل اسٹاف لیول معاہدہ طے پانا ضروری ہوگا۔اس حوالے سے کچھ خدشات موجود ہیں کہ آیا فنڈ کا عملہ حال ہی میں موٹر سائیکلوں اور 800 سی سی سے کم انجن والی گاڑیوں کے لیے پیٹرول پر دی گئی رعایت واپس لینے پر اصرار کرے گا یا نہیں۔ اس رعایت کی مالیت 75 ارب روپے سے زیادہ نہیں، جو بجٹ میں مقرر کردہ پٹرولیم لیوی سے متوقع مجموعی وصولیوں کا صرف 4.4 فیصد بنتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی امکان زیرِ غور ہو سکتا ہے کہ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے ٹیکسوں میں اضافہ کیا جائے یا پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے اخراجات میں مزید کٹوتی کی جائے جس کے معاشی نمو پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
جی ڈی پی میں اضافے کی بنیادی وجہ صنعتی شعبے کی شرح نمو میں نمایاں اضافہ قرار دیا جاسکتا ہے جو مالی سال 2024-25 میں 1.96 فیصد سے بڑھ کر مالی سال 2025-26 میں غیر معمولی طور پر 6.61 فیصد ہوگئی۔ تاہم بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ کے شعبے نے اس اضافے پر سوالات اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اسے پیداواری لاگت میں بڑے پیمانے پر اضافے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس کی ایک وجہ آئی ایم ایف کا یہ اصرار بھی قرار دیا جا رہا ہے کہ انتظامی فیصلے کیے جائیں اور مکمل لاگت کی وصولی کے معیار پر پورا اترنے کے لیے ٹیرف میں اضافہ کیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ نجی شعبے کو فراہم کیے جانے والے قرضوں میں بھی منفی نمو دیکھی گئی ہے، جس کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ ہماری پالیسی شرح سود علاقائی حریف ممالک کے مقابلے میں دگنی سے بھی زیادہ ہے۔ وزارتِ خزانہ کی جانب سے اپ لوڈ کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق 15 جولائی سے اگست 2025 کے دوران نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی منفی 232.1 ملین روپے رہی جو رواں سال کے اسی تقابلی عرصے میں مزید کم ہو کر منفی 393.4 ملین روپے رہ گئی۔ ٹیکسٹائل شعبے نے ہی 100 سے زائد یونٹس کی بندش کو اس امر کے ثبوت کے طور پر پیش کیا ہے کہ صنعتی پیداوار میں اضافہ نہیں ہوا۔
اے ڈی بی نے رواں سال مہنگائی کی شرح 8.3 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی ہے جبکہ عالمی بینک نے 8.2 فیصد اور آئی ایم ایف نے 8.4 فیصد کی پیش گوئی کی ہے۔ اگرچہ معاشی نمو کے مقابلے میں مہنگائی کی پیش گوئی کے حوالے سے کثیرالجہتی اداروں کے درمیان زیادہ ہم آہنگی نظر آتی ہے، تاہم اہم بات یہ ہے کہ پاکستانی حکام نے مہنگائی کی شرح اس سے کہیں زیادہ رہنے کا اندازہ لگایا ہے جو جولائی میں 9.2 فیصد اور اگست میں 11.2 فیصد رہی۔ اس رفتار کے برقرار رہنے کی صورت میں مہنگائی کی شرح کثیرالجہتی اداروں کی پیش گوئیوں سے نمایاں طور پر زیادہ ہو سکتی ہے۔تاہم اسٹیٹ بینک نے اپنے مانیٹری پالیسی اسٹیٹمنٹ میں درمیانی مدت کے لیے مہنگائی کی 5 سے 7 فیصد کی پیش گوئی میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ یہی پیش گوئی اسٹیٹ بینک کو پالیسی ریٹ میں مزید اضافہ کرکے مانیٹری پالیسی سخت کرنے سے گریز کی گنجائش فراہم کرتی ہے جبکہ موجودہ پالیسی ریٹ 11.5 فیصد ہے۔
آخر میں یہ کہنا مناسب ہوگا کہ سالانہ پیش گوئیوں کا سال کے اختتام تک پورا ہونا ضروری نہیں کیونکہ بیرونی اور داخلی عوامل ان تخمینوں پر اثرانداز ہوتے رہتے ہیں۔ تاہم اس امر کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ اعداد و شمار زمینی حقائق کی درست عکاسی کریں، نہ کہ انتظامیہ کی خواہشات کی، تاکہ حکومت کسی بھی معاشی اشاریے کی ممکنہ ناقص کارکردگی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے بروقت پالیسی فیصلے کر سکے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026


Comments