کراچی کا بے قابو اسٹریٹ کرائم
- تازہ اعداد و شمار سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ کس حد تک جڑ پکڑ چکا ہے
یقین نہیں ہوتا کہ آخر وہ وقت کب آئے گا جب کراچی کے عوام کو اپنی روزمرہ زندگی معمول کے مطابق گزارنے کے لیے اس فکر سے آزاد ہو سکیں گے کہ کہیں انہیں لوٹ نہ لیا جائے، ان پر حملہ نہ ہو جائے یا اس سے بھی بدتر، ان کے مال و اسباب کی خاطر انہیں قتل نہ کردیا جائے۔ برسوں سے اسٹریٹ کرائم شہر کی زندگی کا تقریباً لازمی حصہ بن چکا ہے اور اس کے نتیجے میں جان و مال کو پہنچنے والے بھاری نقصان کا سلسلہ کہیں ختم ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔
تازہ اعداد و شمار سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مسئلہ کس حد تک جڑ پکڑ چکا ہے۔ 2026 کے پہلے 8 ماہ کے دوران کراچی کے شہریوں سے اسٹریٹ کرمنلز نے ایک اندازے کے مطابق 2.27 ارب روپے مالیت کی اشیا چھین لیں۔ پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے کے دوران 898 کاریں، 12,200 موٹر سائیکلیں اور 12,846 موبائل فون چھینے گئے۔
ایک کار کی اوسط قیمت 15 لاکھ روپے، موٹر سائیکل کی 50 ہزار روپے اور موبائل فون کی 25 ہزار روپے کے محتاط اندازے کی بنیاد پر صرف ان تین اقسام کے سامان سے ہونے والا مجموعی نقصان تقریباً اسی رقم تک پہنچتا ہے۔
تاہم یہ حقیقی مالی نقصان کا صرف ایک حصہ ہے، کیونکہ اس تخمینے میں نقد رقم، زیورات، سونا، گھڑیاں، لیپ ٹاپ اور دیگر بے شمار قیمتی اشیا شامل نہیں ہیں۔ نہ ہی اس میں متاثرین کو برداشت کرنا پڑنے والے وسیع تر اخراجات کا اندازہ لگایا گیا ہے، جن میں کام کے ضائع ہونے والے اوقات، روزگار میں خلل، نفسیاتی صدمہ اور چوری شدہ اشیا کو دوبارہ خریدنے کے اخراجات شامل ہیں۔
اس سے بھی زیادہ تشویش ناک بات انسانی نقصان ہے۔ رواں سال کم از کم 55 افراد ڈکیتی کی کوششوں کے دوران مزاحمت کرتے ہوئے قتل ہوچکے ہیں۔ ایک موبائل فون یا چند ہزار روپے چند ہی لمحوں میں زندگی اور موت کا معاملہ بن سکتے ہیں۔
لہٰذا پولیس کے اعلیٰ افسران کی جانب سے اسٹریٹ کرائم میں کمی کے دعوے ان خاندانوں کے لیے کوئی خاص تسلی نہیں بن سکتے جنہوں نے اپنے پیاروں کو کھو دیا ہے۔ ان کے لیے یہ نقصان مستقل ہے، چاہے حکام اس رجحان کو کسی بھی انداز میں بیان کریں۔
اسٹریٹ کرائم کے مسلسل پھیلاؤ کی کوئی ایک وجہ نہیں ہے۔ معاشی مشکلات، بے روزگاری، مہنگائی اور سماجی محرومی جرائم کے لیے سازگار ماحول پیدا کرسکتی ہیں، لیکن غربت ڈکیتی یا قتل کا جواز نہیں بن سکتی۔
اصل ناکامی قانون نافذ کرنے والے ایسے نظام میں ہے جو بارہا جرائم پیشہ افراد کو روکنے، منظم جرائم پیشہ نیٹ ورکس کو توڑنے، مؤثر تحقیقات کو یقینی بنانے اور ملزمان کو انصاف کے کٹہرے میں لانے میں ناکام ثابت ہوا ہے۔ کراچی کے پولیسنگ سے متعلق مسائل کوئی نئے نہیں ہیں۔
نفری، تربیت، وسائل، تحقیقات کی صلاحیت، بدعنوانی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان رابطہ کاری سے متعلق سوالات برسوں سے موجود ہیں۔ کارروائیاں اور گرفتاریاں عارضی ریلیف فراہم کرسکتی ہیں، لیکن مسلسل انٹیلی جنس کی بنیاد پر پولیسنگ، مؤثر استغاثہ اور بامعنی احتساب کے بغیر ایک مجرم کی جگہ دوسرا مجرم لے سکتا ہے۔
اتنی ہی مایوس کن بات شہریوں میں پیدا ہونے والی وہ بے بسی ہے جو اب معمول بنتی دکھائی دیتی ہے۔ لوگوں نے اپنے موبائل فون چھپا کر رکھنا، مخصوص سڑکوں سے گریز کرنا، ڈاکوؤں کی مزاحمت نہ کرنا اور اپنے سامان سے محروم ہونے کے امکان کو شہری زندگی کے ایک معمول کے خطرے کے طور پر قبول کرنا سیکھ لیا ہے۔ کسی بھی فعال شہر کو اپنے رہائشیوں سے اس طرح کی قربانیاں طلب نہیں کرنی چاہئیں۔
اس کے معاشی اثرات انفرادی متاثرین سے کہیں آگے تک پھیلتے ہیں۔ کراچی پاکستان کا تجارتی اور صنعتی مرکز ہے اور اس کی بندرگاہیں، مارکیٹیں، کاروبار، مالیاتی ادارے اور خدمات قومی معاشی سرگرمیوں کے ایک بڑے حصے کو سہارا دیتے ہیں۔
ایک غیر محفوظ شہر کاروباری اداروں پر سکیورٹی اخراجات، کاروباری سرگرمیوں میں خلل، نقل و حرکت میں کمی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمزوری کی صورت میں اضافی بوجھ ڈالتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ لاکھوں افراد کے معیارِ زندگی اور پیداواری صلاحیت کو متاثر کرکے بھی یہ ایک بھاری قیمت وصول کرتا ہے۔
صوبائی حکومت کراچی میں رہنے کی اس قیمت کو مستقل نہیں بننے دے سکتی۔ روزگار اور معاشی مواقع میں اضافے کے ذریعے معاشی محرومی کا ازالہ طویل المدتی حل کا حصہ ہونا چاہیے، لیکن ایسی تبدیلیاں راتوں رات نہیں آسکتیں۔
لہٰذا فوری ترجیح مؤثر پولیسنگ، ایسی تحقیقات ہونی چاہیے جو ملزمان کو سزا دلانے تک پہنچیں، اور ایسا نفاذی نظام قائم کرنا ہونا چاہیے جو مجرموں کو یہ یقین دلائے کہ ان کے اقدامات کے نتائج ضرور بھگتنا ہوں گے۔
صرف 8 ماہ میں 55 جانوں کا ضیاع اور 2.27 ارب روپے سے زائد کے دستاویزی نقصانات اس بات کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہونے چاہئیں کہ یہ عوامی تحفظ، طرزِ حکمرانی اور معیشت سے جڑا ایک ایسا بحران ہے جس سے نمٹنے کے لیے مسلسل اور ٹھوس اقدامات کی ضرورت ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments