عالمی بانڈز میں شدید فروخت، ڈالر 17 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا
- ڈالر انڈیکس، جو امریکی کرنسی کی چھ بڑی کرنسیوں کے مقابل قدر ظاہر کرتا ہے 102.08 پر رہا
امریکی ڈالر جمعہ کو مسلسل تیسرے ہفتے اضافے کی جانب گامزن رہا اور 17 ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب برقرار رہا۔ عالمی بانڈ مارکیٹ میں شدید فروخت کے باعث دنیا بھر میں قرض لینے کی لاگت کئی دہائیوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جبکہ تیل کی بلند قیمتوں سے افراط زر کے خدشات بھی بڑھ گئے۔
روئٹرز کے مطابق جمعرات کو عالمی بانڈ مارکیٹ میں شدید فروخت کے نتیجے میں امریکی 10 سالہ ٹریژری بانڈز کی ییلڈ 5.344 فیصد تک پہنچ گئی، جو 2002 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔ جمعہ کو ابتدائی کاروبار میں 10 سالہ بانڈ کی ییلڈ 5.249 فیصد رہی۔
ڈالر انڈیکس، جو امریکی کرنسی کی چھ بڑی کرنسیوں کے مقابل قدر ظاہر کرتا ہے، 102.08 پر رہا اور رواں ہفتے تقریباً ایک فیصد اضافے کی جانب گامزن ہے۔ یہ ڈالر کا مسلسل تیسرا ہفتہ وار اضافہ ہوگا۔
سیکسو کی چیف انویسٹمنٹ اسٹریٹجسٹ چارو چنانا نے کہا کہ سرمایہ کاروں کو برقرار رہنے والی مہنگائی، حکومتوں کے بڑے قرضوں اور بانڈز کی وسیع تر فراہمی کے امتزاج کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق طویل مدتی بانڈز کی پیداوار میں اضافہ محض امریکی فیڈرل ریزرو کے آئندہ فیصلے کے بجائے مالیاتی خطرات اور اضافی منافع کی طلب سے بھی متعلق ہے۔
دریں اثنا، امریکی روزگار رپورٹ پر سرمایہ کاروں کی توجہ مرکوز ہے، جس میں ستمبر کے دوران ملازمتوں میں اضافے کی رفتار سست ہونے اور بے روزگاری کی شرح مسلسل تیسرے ماہ 4.1 فیصد رہنے کی توقع ہے۔
یورو 1.1237 ڈالر پر رہا اور مئی 2025 کے بعد کم ترین سطح کے قریب ہے، جبکہ جاپانی ین 158 فی ڈالر پر مستحکم رہا۔
برینٹ خام تیل کی قیمت دوبارہ 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرگئی، جبکہ سرمایہ کار مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے امریکا اور ایران کے تعطل کا شکار مذاکرات پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں۔


Comments