فیڈ کے شرح سود بڑھانے کے امکانات کم، سونے کی قیمتیں بڑھ گئیں
- اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.5 فیصد اضافے سے 4,175.19 ڈالر فی اونس ہوگئی
عالمی مارکیٹ میں جمعرات کو سونے کی قیمت میں اضافہ ہوا، جس کی بنیادی وجہ امریکا میں مہنگائی کے توقعات سے کم اعدادوشمار ہیں، جس سے رواں ماہ فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات کم ہوگئے، جبکہ سرمایہ کار اب پالیسی کے حوالے سے مزید اشاروں کیلئے آئندہ روزگار کے اعدادوشمار کے منتظر ہیں۔
بین الاقوامی مارکیٹ میں اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.5 فیصد اضافے سے 4,175.19 ڈالر فی اونس ہوگئی۔ سونے نے اکتوبر کا آغاز مثبت انداز میں کیا، تاہم ستمبر میں اس کی قیمت 6 فیصد سے زیادہ کم ہوئی تھی۔ امریکی گولڈ فیوچرز برائے دسمبر کی قیمت بھی 0.4 فیصد اضافے سے 4,204.80 ڈالر فی اونس ہوگئی۔
بدھ کو جاری اعدادوشمار کے مطابق امریکا میں اگست کے دوران مہنگائی میں توقعات سے کم اضافہ ہوا، جبکہ گزشتہ ماہ کے قیمتوں کے دباؤ کے اعدادوشمار میں بھی کمی کی گئی۔
اعدادوشمار کے بعد اکتوبر میں شرح سود میں اضافے کے امکانات کم ہوگئے اور مارکیٹ میں اس کے امکانات 38 فیصد تک آگئے، جو رپورٹ جاری ہونے سے قبل 45 فیصد تھے۔ تاہم، ٹریڈرز اب بھی دسمبر میں شرح سود میں اضافے کے 97 فیصد امکانات دیکھ رہے ہیں۔
زیادہ شرح سود سونے کی کشش کم کرتی ہے کیونکہ اس سے کوئی منافع حاصل نہیں ہوتا۔ ٹیسٹی لائیو کے عالمی میکرو سربراہ الیا اسپیوک نے کہا کہ آنے والے اعدادوشمار اہم ہوں گے تاکہ دیکھا جاسکے کہ مارکیٹ ان سے کیسے نمٹتی ہے اور شرح سود میں اضافے سے متعلق توقعات کیسے تشکیل پاتی ہیں۔
امریکی نان فارم پے رولز کی ستمبر کی اہم رپورٹ جمعہ کو جاری کی جائے گی۔ ادھر ڈالر دو ماہ کی بلند سطح کے قریب برقرار رہنے سے سونے کی قیمت میں مزید اضافے کو محدود رکھا۔
ٹی ڈی سیکیورٹیز کے عالمی سربراہ برائے کموڈیٹی اسٹریٹیجی بارٹ میلیک نے کہا کہ ستمبر میں سونے کی قیمت میں ہونے والے تمام نقصانات کا ازالہ ممکن نہیں، تاہم موجودہ اصلاح کا بدترین مرحلہ گزر جانے اور قیمتوں میں مزید اضافے کی گنجائش موجود ہے۔
جغرافیائی سیاسی محاذ پر ایران نے کہا کہ اسے خلیج میں ختم ہونے والی جنگ بندی بحال کرنے سے متعلق اپنی تازہ تجویز پر امریکا کا جواب موصول ہوگیا ہے۔
اسپاٹ سلور 1.2 فیصد اضافے سے 61.11 ڈالر، پلاٹینم 0.7 فیصد بڑھ کر 1,717.35 ڈالر اور پیلاڈیم 0.3 فیصد اضافے سے 1,207.12 ڈالر فی اونس ہوگیا۔


Comments