بھارت دہشت گردی کی حمایت، اقلیتوں کے حقوق کی خلاف ورزی کر رہا ہے، پاکستان کا اقوام متحدہ میں بیان
پاکستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں بھارتی نمائندے کے ریمارکس مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت دہشت گردی کی حمایت، بین الاقوامی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور اقلیتوں کے خلاف امتیازی پالیسیاں اختیار کیے ہوئے ہے۔
یہ پیش رفت اقوام متحدہ میں بھارت کے مستقل مشن کی فرسٹ سیکریٹری پیٹل گہلوت کی جانب سے پاکستان پر دہشت گردی کی پشت پناہی کا الزام عائد کیے جانے کے بعد سامنے آئی۔
انہوں نے کہا، ’’اس معاملے کی بنیادی وجہ پاکستان کی جانب سے سرحد پار دہشت گردی کا دیرینہ طرزِ عمل ہے۔ دہشت گردی کے خلاف اپنے دفاع کے حق کو استعمال کیا جاتا رہے گا۔ پاکستان کی جانب سے ہونے والی دہشت گردی کے نتائج ہوں گے۔‘‘
پاکستان کو جواب دینے کے حق کا استعمال کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستانی مشن کی کونسلر صائمہ سلیم نے کہا کہ اسلام آباد نے پاکستان کو نشانہ بنانے والے دہشت گرد گروہوں، جن میں تحریک طالبان پاکستان، بلوچستان لبریشن آرمی اور مجید بریگیڈ شامل ہیں، کے لیے بھارت کی جانب سے مالی معاونت اور حمایت کے شواہد پیش کیے ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’رواں صدی کے آغاز سے پاکستان دہشت گردی کے باعث تقریباً ایک لاکھ انسانی جانوں سے محروم ہو چکا ہے اور اسے بڑے پیمانے پر معاشی نقصانات بھی اٹھانا پڑے ہیں، جبکہ دہشت گردی کے خلاف اس کی کوششوں اور قربانیوں کو عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔‘‘ پاکستانی وفد نے یہ اعداد و شمار اور الزامات بھارت کے ریمارکس کے جواب میں پیش کیے۔
صائمہ سلیم نے بیرون ملک مبینہ قاتلانہ سازشوں میں بھارتی شہریوں سے متعلق مقدمات کا بھی حوالہ دیا، جن میں سابق بھارتی بحری افسر کلبھوشن جادھو اور نکھل گپتا کا معاملہ شامل ہے۔ نکھل گپتا نے امریکا میں ایک سکھ کارکن کے خلاف مبینہ سازش سے متعلق مقدمے میں جرم قبول کیا تھا۔
جموں و کشمیر کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ یہ خطہ بین الاقوامی سطح پر متنازع ہے اور اس کی حتمی حیثیت کا تعین متعلقہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق کیا جانا چاہیے۔ پاکستان اقوام متحدہ اور دیگر عالمی فورمز پر یہ معاملہ مسلسل اٹھاتا رہا ہے۔
صائمہ سلیم نے آزاد جموں و کشمیر کی صورت حال کا بھارتی زیرانتظام جموں و کشمیر سے تقابل کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ مقبوضہ خطے میں سیاسی اور بنیادی حقوق پر پابندیاں عائد ہیں۔
انہوں نے بھارت کی حکمراں قیادت پر ہندوتوا نظریے کو فروغ دینے اور مسلمانوں، عیسائیوں، دلتوں اور سکھوں سمیت مذہبی اقلیتوں کے خلاف امتیاز اور تشدد کی حوصلہ افزائی کا بھی الزام عائد کیا۔
سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے صائمہ سلیم نے بھارت پر پانی کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس معاہدے کو قانونی طور پر پابند سمجھتا ہے۔ پاکستان عالمی فورمز پر بھی یہ مؤقف پیش کرتا رہا ہے کہ معاہدہ بدستور نافذ العمل ہے اور اس کی ذمہ داریاں برقرار ہیں۔
مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی فوجی کشیدگی کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ بھارت کو ’’معرکہ حق‘‘ کے دوران ’’سخت شکست‘‘ کا سامنا کرنا پڑا۔
صائمہ سلیم نے اپنے خطاب کے اختتام پر امن، باہمی احترام، مذاکرات اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔
انہوں نے کہا، ’’جب بھی ہم پر جارحیت مسلط کی جائے گی، ہم اپنا دفاع کریں گے، لیکن امن کی راہ کبھی ترک نہیں کریں گے۔‘‘


Comments