ایک ہفتے کے دوران مہنگائی بڑھنے کی شرح میں 0.49 فیصد اضافہ
ایک ہفتے کے دوران مہنگائی بڑھبے کی شرح میں 0.49فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق 17 ستمبر 2026 کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران حساس قیمتوں کے اشاریے (ایس پی آئی) پر مبنی مہنگائی میں 0.49 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کی بڑی وجہ ڈیزل کی قیمت میں 7.29 فیصد، پٹرول میں 6.40 فیصد اور مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی قیمت میں 3.26 فیصد کا نمایاں اضافہ ہے۔
پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس (پی بی ایس) کی جانب سے جمعہ کو جاری کردہ ایس پی آئی کے اعداد و شمار کے مطابق جن دیگر اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ان میں لہسن کی قیمت میں 1.94 فیصد، انڈے 1.72 فیصد، دال چنا 0.80 فیصد، سادہ ڈبل روٹی 0.74 فیصد، دال مسور 0.49 فیصد، سرسوں کے تیل 0.44 فیصد، دال مونگ 0.39 فیصد، مٹن 0.26 فیصد اور لکڑی کی قیمت میں 0.07 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اعداد و شمار کے مطابق زیرِ جائزہ ہفتے کے دوران درج ذیل اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی: کیلے 6.17 فیصد، ٹماٹر 5.66 فیصد، پیاز 4.57 فیصد، مرغی کا گوشت 2.33 فیصد، پاؤڈر دودھ 0.40 فیصد، گندم کا آٹا 0.28 فیصد، چاول اری-6/9 کی قیمت 0.16 فیصد اور چینی کی قیمت 0.14 فیصد کم ہوئی۔
ادارہ شماریات کےمطابق 51 اشیائے ضروریہ میں سے 19 کی قیمتوں میں اضافہ، 9 میں کمی جبکہ 23 اشیا کی قیمتیں مستحکم رہیں۔
سالانہ بنیاد پر مہنگائی میں 10.64 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کی بنیادی وجہ پیاز کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہے جو 117.77 فیصد بڑھ گئیں۔ اس کے علاوہ ایل پی جی کی قیمت میں 60.42 فیصد، ڈیزل میں 54.21 فیصد، پٹرول میں 48 فیصد، پہلی سہ ماہی کی بجلی کے نرخ میں 33.54 فیصد، گندم کے آٹے میں 33.27 فیصد، لال مرچ پاؤڈر میں 16.37 فیصد، مٹن میں 15.86 فیصد، گائے کے گوشت میں 12.88 فیصد، کیلے میں 9.24 فیصد، سادہ ڈبل روٹی میں 8.89 فیصد اور تازہ دودھ کی قیمت میں 8.12 فیصد اضافہ ہوا۔
سالانہ بنیاد پر آلو کی قیمت میں 35.31 فیصد، چینی میں 20.95 فیصد، انڈوں میں 19.31 فیصد، مرغی کے گوشت میں 15.26 فیصد، نمک پاؤڈر میں 13.96 فیصد، دال چنا میں 12.42 فیصد، دال مسور میں 11.26 فیصد اور دال مونگ میں 8.49 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔
آمدنی کے گروپس کے لحاظ سے ایس پی آئی کا جائزہ لیا جائے تو ماہانہ 17,732 روپے تک آمدنی رکھنے والے گھرانوں کے لیے ایس پی آئی میں 0.14 فیصد کمی ہوئی اور یہ 351.56 پوائنٹس سے گھٹ کر 351.07 پوائنٹس رہ گیا۔ 17,733 سے 22,888 روپے ماہانہ آمدنی والے گروپ کے لیے ایس پی آئی میں 0.01 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 352.82 پوائنٹس سے بڑھ کر 352.87 پوائنٹس ہوگیا۔
22,889 سے 29,517 روپے ماہانہ آمدنی والے گھرانوں کے لیے ایس پی آئی میں 0.14 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 374.30 سے بڑھ کر 374.87 پوائنٹس ہوگیا جبکہ 29,518 سے 44,175 روپے آمدنی والے گروپ کے لیے ایس پی آئی 0.30 فیصد بڑھ کر 361.87 سے 362.97 پوائنٹس ہوگیا۔ سب سے زیادہ آمدنی والے گروپ، یعنی 44,175 روپے اور اس سے زائد ماہانہ آمدنی رکھنے والے گھرانوں کے لیے ایس پی آئی میں 0.77 فیصد اضافہ ہوا اور یہ 363.51 سے بڑھ کر 366.32 پوائنٹس ہوگیا۔ مجموعی ایس پی آئی 364.26 پوائنٹس سے بڑھ کر 366.05 پوائنٹس ہوگیا، جو 0.49 فیصد اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026


Comments