خدمات کی برآمدات 400 ملین ڈالر سے زائد بڑھ گئیں، اسٹیٹ بینک
- جولائی تا اگست خدمات کی برآمدات بڑھ کر 1.811 ارب ڈالر ہوگئیں
رواں مالی سال 2026-27 کے پہلے دو ماہ (جولائی تا اگست) کے دوران خدمات کی برآمدات 400 ملین ڈالر سے زائد بڑھ گئیں۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال جولائی تا اگست خدمات کی برآمدات بڑھ کر 1.811 ارب ڈالر ہوگئیں جب کہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں یہ 1.405 ارب ڈالر تھیں۔
خدمات کے شعبے کی برآمدات میں 406 ملین ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو سالانہ بنیاد پر تقریباً 29 فیصد نمو کو ظاہر کرتا ہے۔
اس کے مقابلے میں رواں مالی سال 2026-27 کے ابتدائی دو ماہ کے دوران ملک کی اشیا کی برآمدات میں تقریباً 217 ملین ڈالر کا اضافہ ہوا۔ رواں سال جولائی تا اگست اشیا کی برآمدات بڑھ کر 5.455 ارب ڈالر ہوگئیں جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ 5.238 ارب ڈالر ریکارڈ کی گئی تھیں۔
اعداد و شمار کے مطابق انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی) کا شعبہ اور فری لانسرز خدمات کی برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی میں بدستور نمایاں حصہ دار رہے جنہوں نے زیرِ جائزہ مدت کے دوران تقریباً 952 ملین ڈالر کمائے۔
آئی ٹی سے متعلق برآمدات کے بعد دیگر کاروباری خدمات سے حاصل ہونے والی آمدنی رہی جن میں تحقیق و ترقی، پیشہ ورانہ و انتظامی مشاورتی خدمات، قانونی و اکاؤنٹنگ خدمات، تعلقات عامہ اور تشہیر، مارکیٹ ریسرچ اور عوامی رائے کے جائزے، تکنیکی و تجارتی خدمات جبکہ تعمیراتی ڈیزائن، انجینئرنگ، سائنسی اور دیگر تکنیکی خدمات شامل ہیں۔
حکومتی خدمات جن میں قونصلر اور فوجی خدمات شامل ہیں سے دو ماہ کے دوران تقریباً 122 ملین ڈالر حاصل ہوئے۔
پاکستان سافٹ ویئر ہاؤسز ایسوسی ایشن (پاشا) کے سابق چیئرمین محمد ذوہیب خان نے کہا کہ آئی ٹی شعبے میں برآمدات میں نمایاں اضافہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے اور یہ ملک کے جاری کھاتے کے مسائل سے نمٹنے میں زیادہ مؤثر کردار ادا کرسکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومتی مراعات اور مارکیٹنگ کے اقدامات کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں اور آئی ٹی شعبے میں مسلسل نمو کو تقویت مل رہی ہے، تاہم آئی ٹی برآمدات کو اگلی سطح تک لے جانے کے لیے اب بھی کئی مسائل حل کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ مستقل پالیسیوں اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے درمیان زیادہ تعاون کے ذریعے آئی ٹی کی ماہانہ برآمدی آمدنی کو تقریباً 420 ملین ڈالر سے بڑھا کر 450 ملین ڈالر تک پہنچایا جاسکتا ہے جس سے اڑان پاکستان منصوبے کے تحت مالی سال 2029 تک آئی ٹی برآمدات 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کے حکومتی ہدف کے حصول میں مدد ملے گی۔
پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن (پفلا) کے چیئرمین ابراہیم امین نے کہا کہ آئی ٹی ماہرین اور فری لانسرز کا بڑھتا ہوا کردار ملک کے زرمبادلہ کے حصول کو مضبوط بنانے کے لیے دن بہ دن زیادہ اہم ہوتا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ فری لانسنگ نوجوانوں اور طلبہ کو طلب میں موجود ہنر سیکھنے، اپنے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے اور زرمبادلہ کما کر ملکی معیشت میں کردار ادا کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مختلف فری لانسنگ پلیٹ فارمز اور سوشل میڈیا پر تقریباً 30 لاکھ فری لانسرز سرگرم ہیں، تاہم ان میں سے محدود تعداد ہی حکومت کی پالیسیوں کے تحت دستیاب مراعات اور سہولیات سے آگاہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حال ہی میں پاکستان فری لانسرز ایسوسی ایشن نے نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے فری لانسرز کے اعزاز میں ایک تقریب منعقد کی جس کا مقصد فری لانسرز کی برادری کی حوصلہ افزائی اور طلبہ و نوجوانوں کو فری لانسنگ اور کاروباری سرگرمیوں کی جانب راغب کرنا تھا۔
دیگر خدمات میں تفریحی اور ثقافتی خدمات سے مالی سال 2026-27 کے جولائی تا اگست تقریباً 18.5 ملین ڈالر حاصل ہوئے جبکہ مالیاتی خدمات سے تقریباً 13 ملین ڈالر کی آمدنی ہوئی۔
ماہرین نے کہا کہ خدمات کے شعبے میں مزید ترقی کی نمایاں گنجائش موجود ہے۔


Comments