پی آئی بی ٹی کا کوئلے کے جہازوں کو ترجیحی برتھ دینے سے انکار
- مقررہ برتھنگ آن ٹرن نظام سے انحراف قومی گرڈ سے منسلک دیگر پاور پلانٹس کو کوئلے کی فراہمی متاثر کرسکتا ہے،پی آئی بی ٹی
پاکستان انٹرنیشنل بلک ٹرمینل لمیٹڈ (پی آئی بی ٹی) نے کوئلے سے لدے جہازوں کو ترجیحی برتھ دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ مقررہ برتھنگ آن ٹرن نظام سے انحراف قومی گرڈ سے منسلک دیگر پاور پلانٹس کو کوئلے کی فراہمی متاثر کرسکتا ہے۔
بحری امور کے سیکریٹری کو لکھے گئے خط میں پی آئی بی ٹی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر شارق اے صدیقی نے کہا کہ ٹرمینل برتھنگ آن ٹرن نظام پر سختی سے عمل کررہا ہے، جس کی نگرانی اور عملدرآمد پورٹ قاسم اتھارٹی (پی کیو اے) بھی کرتی ہے۔
پی آئی بی ٹی کے مطابق جامشورو پاور پلانٹ کے لیے کوئلہ لانے والا جہاز 27 جولائی 2026 کو پورٹ قاسم کی بیرونی لنگرگاہ پہنچا اور اسی روز شام 6 بجکر 28 پر اپنی نوٹس آف ریڈینس (این او آر) جمع کرائی۔ تاہم برتھنگ کے انتظامات کے دوران جہاز کے اسٹیئرنگ سسٹم میں خرابی پیدا ہوگئی، جس کے باعث حفاظتی ضوابط کے تحت پی کیو اے نے اسے پورٹ چینل میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی۔
مرمت کے بعد جہاز نے 25 اگست کو دوبارہ این او آر جمع کرائی، لیکن داخلہ چینل کی جانب بڑھنے کے لیے کہا گیا تو جہاز کے اینکر اٹھانے والے نظام میں خرابی پیدا ہوگئی اور وہ لنگر نہ اٹھا سکا۔ یوں جہاز اپنی باری سے محروم ہوگیا اور اگلے جہاز کو برتھ دے دی گئی۔ جہاز نے مرمت کے بعد 31 اگست کو تیسری این او آر جمع کرائی۔
پی آئی بی ٹی نے کہا کہ جہاز تقریباً ایک ماہ تک برتھنگ کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں تھا، تاہم آئی ایم ایل اے کے خط میں اس صورتحال کو ظاہر نہیں کیا گیا اور تاخیر کی وجہ بنیادی طور پر بندرگاہ پر رش اور ٹرمینل کی سالانہ مرمت کو قرار دیا گیا۔
ٹرمینل کے مطابق سالانہ مرمت سے متعلق تمام صارفین کو کئی ماہ قبل آگاہ کردیا گیا تھا اور کوئلے کی فوری ضروریات کے باعث مرمت کا کام دو مرتبہ مؤخر بھی کیا جاچکا ہے۔ اب مزید تاخیر ممکن نہیں اور مرمت کا کام شروع کردیا گیا ہے۔
پی آئی بی ٹی نے کہا کہ برتھ پر موجود جہازوں سے ان کے اپنے کرینز کے ذریعے کوئلہ اتارنے کا انتظام کیا گیا ہے تاکہ سپلائی جاری رہے۔
ترجیحی برتھنگ کی درخواست مسترد کرتے ہوئے پی آئی بی ٹی نے کہا کہ ایک جہاز کو ترجیح دینے سے برتھنگ آن ٹرن نظام متاثر ہوگا۔ چونکہ ٹرمینل کے بیشتر صارفین پاور کمپنیاں ہیں، اس لیے ایک پاور پلانٹ کو ترجیح دینے سے قومی گرڈ کو بجلی فراہم کرنے والے دوسرے پلانٹس کی کوئلے کی فراہمی متاثر ہوسکتی ہے۔
پی آئی بی ٹی نے وزارت بحری امور سے معاملے کا جائزہ لیتے وقت ان حقائق اور عملی رکاوٹوں کو مدنظر رکھنے کی درخواست کی ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments