الجزائر نے متحدہ عرب امارات سے سفارتی تعلقات منقطع کردیے
- الجزائر نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ ’’ناقابل قبول‘‘ اقدامات پر سفارتی تعلقات منقطع کردیے، اماراتی سفیر کو فیصلے پر عمل درآمد کے لیے 48 گھنٹے کی مہلت دے دی
الجزائر نے جمعرات کو متحدہ عرب امارات کے ساتھ اچانک سفارتی تعلقات منقطع کردیے۔ الجزائر نے اس اقدام کی وجہ ابوظہبی کی جانب سے کیے جانے والے ایسے اقدامات کو قرار دیا جنہیں اس نے ’’اشتعال انگیز یا معاندانہ‘‘ قرار دیا، تاہم اس فیصلے کی کوئی مخصوص وجہ بیان نہیں کی۔
الجزائر کے اعلان کے کچھ ہی دیر بعد متحدہ عرب امارات کے صدر کے سفارتی مشیر انور قرقاش نے ایکس پر کہا کہ سفارتی تعلقات کی بنیاد ’’معقولیت، رابطے اور مفادات کی وضاحت‘‘ پر ہونی چاہیے، نہ کہ ’’ایسے معموں اور اشاروں پر جن کی وضاحت درکار ہو‘‘۔
دونوں ممالک کے تعلقات گزشتہ چند برسوں کے دوران مسلسل کشیدہ ہوتے گئے ہیں۔ الجزائر کے ذرائع ابلاغ نے متحدہ عرب امارات پر سخت تنقید کرتے ہوئے اس پر خطے میں اختلافات اور انتشار کو ہوا دینے کی کوششوں کے الزامات عائد کیے ہیں۔
الجزائر کی وزارت خارجہ نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کے اقدامات اس حد تک پہنچ گئے تھے کہ انہیں مزید قابل قبول یا قابل برداشت نہیں سمجھا جاسکتا، جبکہ الجزائر نے ’’دوطرفہ تعلقات برقرار رکھنے کے تمام ذرائع آزما لیے‘‘ تھے۔
قرقاش نے الجزائر کا نام لیے بغیر اور اپنے بیان کو الجزائر کے فیصلے سے منسلک کیے بغیر کہا کہ کامیاب سفارت کاری کا انحصار واضح مؤقف اور مفادات و اختلافات کو مؤثر انداز میں سنبھالنے پر ہوتا ہے۔
الجزائر کی وزارت خارجہ نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات کے سفیر کو وزارت میں طلب کرکے فیصلے سے آگاہ کیا گیا اور اس پر عمل درآمد کے لیے انہیں 48 گھنٹے کی مہلت دی گئی ہے۔
الجزائر اور متحدہ عرب امارات نے کئی علاقائی معاملات پر مختلف مؤقف اختیار کر رکھے ہیں۔ الجزائر اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی مخالفت کرتا ہے، جبکہ متحدہ عرب امارات اور الجزائر کے علاقائی حریف مراکش نے 2020 میں امریکا کی ثالثی میں ہونے والے ابراہم معاہدوں کے تحت اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے تھے۔
دونوں ممالک کئی دہائیوں سے جاری مغربی صحارا کے تنازع میں بھی ایک دوسرے کے مخالف فریقوں کی حمایت کرتے ہیں۔ متحدہ عرب امارات مغربی صحارا پر مراکش کی خودمختاری کے دعوے کی حمایت کرتا ہے اور وہاں اس کا قونصل خانہ بھی قائم ہے، جبکہ الجزائر پولساریو فرنٹ کی حمایت کرتا ہے، جو مغربی صحارا کی آزادی کا مطالبہ کرتا ہے۔
ساحل کے خطے میں بھی دونوں ممالک کے مفادات میں ٹکراؤ بڑھتا گیا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے گزشتہ برسوں کے دوران خطے کی کئی حکومتوں کے ساتھ اپنے تعلقات وسیع کیے ہیں، جبکہ الجزائر کے اپنے بعض جنوبی ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات متعدد فوجی بغاوتوں کے بعد کشیدہ ہوگئے ہیں۔
الجزائر کے صدر عبدالمجید تبون نے گزشتہ سال کہا تھا کہ خلیجی ریاستوں کے ساتھ ان کے ملک کے تعلقات ایک ملک کے سوا سب کے ساتھ خوشگوار ہیں، اور یہ بات متحدہ عرب امارات کی جانب ایک واضح مگر بالواسطہ اشارہ تھی۔
انہوں نے سعودی عرب، کویت، عمان اور قطر کے ساتھ تعلقات کو ’’برادرانہ‘‘ قرار دیتے ہوئے نام لیے بغیر ایک ملک پر الجزائر کے اندرونی معاملات میں مداخلت اور اسے عدم استحکام سے دوچار کرنے کی کوشش کا الزام عائد کیا تھا۔
فروری میں الجزائر نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ مئی 2013 میں ابوظہبی میں طے پانے والے فضائی خدمات کے معاہدے کو منسوخ کرنے کا عمل شروع کردیا تھا۔


Comments