BR100 Decreased By (-0.91%)
BR30 Decreased By (-1.47%)
KSE100 Decreased By (-0.78%)
KSE30 Decreased By (-0.75%)
BAFL 56.47 Decreased By ▼ -0.40 (-0.7%)
BIPL 24.63 Decreased By ▼ -0.33 (-1.32%)
BOP 30.12 Decreased By ▼ -0.23 (-0.76%)
CNERGY 12.98 Decreased By ▼ -0.14 (-1.07%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.22 Decreased By ▼ -5.23 (-2.72%)
FABL 93.71 Decreased By ▼ -0.43 (-0.46%)
FCCL 51.65 Decreased By ▼ -1.14 (-2.16%)
FFL 14.49 Decreased By ▼ -0.23 (-1.56%)
GGL 19.04 Decreased By ▼ -0.52 (-2.66%)
HBL 303.78 Decreased By ▼ -2.32 (-0.76%)
HUBC 198.96 Decreased By ▼ -2.46 (-1.22%)
HUMNL 9.85 Decreased By ▼ -0.31 (-3.05%)
KEL 6.06 Decreased By ▼ -0.03 (-0.49%)
LOTCHEM 26.17 Decreased By ▼ -0.29 (-1.1%)
MLCF 91.23 Decreased By ▼ -1.93 (-2.07%)
OGDC 313.39 Decreased By ▼ -3.34 (-1.05%)
PAEL 35.24 Decreased By ▼ -0.39 (-1.09%)
PIBTL 14.71 Increased By ▲ 0.03 (0.2%)
PIOC 239.62 Decreased By ▼ -3.59 (-1.48%)
PPL 221.36 Decreased By ▼ -5.55 (-2.45%)
PRL 91.22 Decreased By ▼ -1.80 (-1.94%)
SNGP 90.87 Decreased By ▼ -0.97 (-1.06%)
SSGC 23.30 Decreased By ▼ -0.51 (-2.14%)
TELE 7.61 Decreased By ▼ -0.19 (-2.44%)
TPLP 12.56 Decreased By ▼ -0.41 (-3.16%)
TRG 55.79 Decreased By ▼ -0.77 (-1.36%)
UNITY 8.02 Decreased By ▼ -0.05 (-0.62%)
WTL 1.00 Decreased By ▼ -0.01 (-0.99%)
مارکٹس

سعودی عرب پر جارحیت کی صورت میں مکہ دفاعی معاہدہ فعال ہوسکتا ہے، خواجہ آصف

  • معاہدے کے تحت ایک رکن پر جارحیت تینوں ارکان پر جارحیت تصور کی جائے گی، وزیر دفاع
شائع اپ ڈیٹ

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ اس صورت میں فعال ہوسکتا ہے اگر یمن میں جاری تنازع سعودی عرب تک پھیل جاتا ہے۔

ایک ٹی وی انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ یہ معاہدہ اجتماعی دفاع کا انتظام ہے، جس کے تحت ایک رکن کے خلاف جارحیت کو تینوں ارکان کے خلاف جارحیت تصور کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ بلااشتعال جارحیت یا یمن کے تنازع کے سعودی عرب تک پھیلنے کی صورت میں یہ معاہدہ فعال ہوجائے گا۔

خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان اس معاہدے کا پابند ہے اور ضرورت پڑنے پر اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ معاہدے کا مقصد جارحیت نہیں بلکہ مشترکہ دفاع اور باہمی مدد فراہم کرنا ہے۔

وزیر دفاع کے یہ بیانات اس وقت سامنے آئے جب حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے جنوبی علاقوں میں متعدد مقامات پر حملے کیے، جن میں اطلاعات کے مطابق 70 سے زائد افراد زخمی ہوئے جبکہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچا۔

انہوں نے کہا کہ تینوں معاہدہ کنندہ ممالک نے اپنی اپنی دفاعی صلاحیتیں واضح کردی ہیں اور ضروری نہیں کہ جارحیت کا جواب بھی جارحیت سے دیا جائے۔ ان کے بقول دفاعی معاہدہ خود بھی ایک روک تھام کی صلاحیت کا کردار ادا کرسکتا ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں اور ماضی میں مشکل حالات کے دوران پاکستان نے مملکت کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ 2014 میں یمن کا تنازع شدت اختیار کرنے کے وقت بھی پاکستان نے سعودی عرب کی مدد کی تھی۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ صورتحال میں کشیدگی کم ہوگی اور حوثی یمن کے تنازع کو سعودی سرزمین تک پھیلانے سے گریز کریں گے۔

وزیر دفاع نے مزید کہا کہ پاکستان موجودہ امریکا، ایران کشیدگی کے حل کے حوالے سے بھی پرامید ہے۔ ان کے مطابق مذاکرات تعطل کا شکار ہیں، تاہم بالواسطہ رابطہ کاری کا سلسلہ جاری ہے۔

خواجہ آصف نے کہا کہ تنازع کے دونوں جانب موجود ممالک کے ساتھ پاکستان کے قریبی تعلقات کے باعث ملک کو ایک مشکل صورتحال کا سامنا ہے۔ انہوں نے خطے میں امن اور استحکام کی ضرورت پر زور دیا۔

Comments

200 حروف