نیپال میں سیلاب کے 10 روز بعد چینی شہری سرنگ سے زندہ نکال لیا گیا
- گلیشیئر کے ٹوٹنے سے آنے والے تباہ کن سیلاب نے نیپال میں 1,300 سے زائد جانیں لے لیں
نیپال میں ہفتے کے روز ایک چینی شہری کو سرنگ سے زندہ نکال لیا گیا۔ حکام کے مطابق 10 روز قبل برف، چٹانوں اور کیچڑ کا ایک تودہ ہمالیائی وادی میں بہہ نکلا تھا، جس کے نتیجے میں 1,300 سے زائد افراد ہلاک ہوئے۔
نیپالی فوج نے بتایا کہ لو ہائی تاؤ کو بالائی تریشولی-1 پن بجلی منصوبے میں واقع 225 میٹر طویل سرنگ سے بحفاظت نکال لیا گیا۔
وہ اب تک مختلف سرنگوں سے زندہ نکالے جانے والے تیسرے شخص ہیں، جہاں حکام کے اندازے کے مطابق 26 اگست کو دریائے تریشولی کے بالائی علاقوں میں گلیشیئر ٹوٹنے کے بعد تقریباً 900 افراد پھنسے ہوئے ہوسکتے ہیں۔
جمعے کو امدادی کارکنوں نے اسی دریا پر واقع بالائی تریشولی 3 اے پن بجلی گھر کی ایک اور سرنگ سے دو افراد کو زندہ نکالا تھا۔
حکام کے مطابق لو ہائی تاؤ کے جسم پر بظاہر کوئی زخم نہیں تھا اور ان کی جسمانی حالت مستحکم تھی، تاہم ان میں ہلکی ہائپوتھرمیا یعنی جسم کا درجۂ حرارت معمول سے کم ہونے کی علامات پائی گئیں۔
نیپالی فوج کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو میں انہیں ہیلی کاپٹر کے اندر ہنگامی طبی امداد دیے جاتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جس کے بعد انہیں فوجی اسپتال منتقل کیا گیا۔
وہ انتہائی تھکے ہوئے اور بدحواس دکھائی دے رہے تھے، جبکہ ان کے جسم اور کپڑوں پر خشک کیچڑ اور گرد جمی ہوئی تھی۔ ایک یونیفارم پہنے طبی اہلکار کو اسٹیتھوسکوپ کے ذریعے ان کا معائنہ کرتے دیکھا گیا۔
ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے جمعے کو بتایا کہ نیپال میں سیلاب کے نتیجے میں کم از کم 1,344 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ سیلاب نے چین کے زیرِ انتظام تبت کی سرحد کے قریب واقع قصبوں اور دیہات میں گھر، سڑکیں اور اسکول بہا دیے۔
تقریباً 4,887 افراد تاحال لاپتا ہیں، جن میں 583 غیرملکی شہری بھی شامل ہیں، جن میں بڑی تعداد زائرین اور ٹریکنگ کے لیے آنے والے سیاحوں کی ہے۔
سرکاری میڈیا ادارے ژنہوا کے مطابق چین نے بتایا ہے کہ 4 ستمبر تک تبت میں ہلاکتوں کی تعداد 31 ہوگئی تھی، جبکہ 531 افراد تاحال لاپتا ہیں۔
نیپالی فوج نے بتایا کہ ہفتے کو چندیکا کماری شریستھا نامی ایک خاتون کو بھی بیتراوتی میں ان کے گھر سے زندہ نکال لیا گیا۔ حکام کی جانب سے جاری تصویر میں وہ کیچڑ سے اٹی ہوئی ایک زیرِ زمین عمارت میں دکھائی دے رہی ہیں، جہاں امدادی کارکن گھٹن زدہ اور گاڑھے کیچڑ سے بھرے محدود مقام پر کام کرتے ہوئے انہیں پانی فراہم کررہے ہیں۔
لاپتہ عزیز کی تلاش کرنے والا خاندان اب بھی پرامید
نیپال کے ضلع نوواکوت میں قائم میتھلی بیرک میں کئی خاندانوں نے دیواروں پر اپنے ان پیاروں کے پوسٹر چسپاں کررکھے ہیں جن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ سرنگوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔
ان پوسٹروں میں 34 سالہ کرشنا پوڈیل کے بھائی ایشور پوڈیل کی تصویر بھی شامل ہے۔ ایشور گزشتہ تین برس سے ہاکوبیسی ہائیڈرو الیکٹرک منصوبے کی سرنگ میں کام کررہے تھے۔
کرشنا کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنے بھائی سے آخری بار 26 اگست کو اس وقت بات کی تھی جب سیلابی پانی وادی میں تباہی مچا چکا تھا۔
انہوں نے بتایا، ’’میں نے صبح ساڑھے سات بجے اس سے بات کی تھی، اس سے پہلے کہ وہ کام کے لیے سرنگ میں داخل ہوا۔ تقریباً ساڑھے 11 بجے، جب سیلابی پانی نیچے آیا، تو بالآخر میرا رابطہ اس سے ہوگیا اور اس نے مجھے بتایا: ’میں سرنگ کے اندر پھنس گیا ہوں۔‘‘‘
اس کے بعد سے خاندان کا ایشور سے کوئی رابطہ نہیں ہوا، تاہم انہیں اب بھی امید ہے کہ وہ مل جائیں گے۔ اسی سرنگ سے نکلنے والے افراد نے خاندان کو بتایا کہ ایشور اس وقت تک زندہ تھے۔
کرشنا نے کہا، ’’میں ایسے بہت سے لوگوں سے ملا جو وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہوئے تھے اور میرے بھائی کو جانتے تھے۔ انہوں نے مجھے بتایا: ’آپ کا بھائی سرنگ کے اندر ہے، وہ اندر ایک گاڑی چلا رہا تھا۔‘ انہوں نے بتایا کہ وہ اندر سے تقریباً 200 سے 300 لوگوں کی چیخ و پکار کی آوازیں سن سکتے تھے۔‘‘


Comments