BR100 Decreased By (-0.78%)
BR30 Decreased By (-1.54%)
KSE100 Decreased By (-0.71%)
KSE30 Decreased By (-0.7%)
BAFL 56.95 Increased By ▲ 0.08 (0.14%)
BIPL 24.90 Decreased By ▼ -0.06 (-0.24%)
BOP 30.08 Decreased By ▼ -0.27 (-0.89%)
CNERGY 12.89 Decreased By ▼ -0.23 (-1.75%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.50 Decreased By ▼ -4.95 (-2.57%)
FABL 93.71 Decreased By ▼ -0.43 (-0.46%)
FCCL 51.99 Decreased By ▼ -0.80 (-1.52%)
FFL 14.49 Decreased By ▼ -0.23 (-1.56%)
GGL 19.20 Decreased By ▼ -0.36 (-1.84%)
HBL 304.95 Decreased By ▼ -1.15 (-0.38%)
HUBC 199.00 Decreased By ▼ -2.42 (-1.2%)
HUMNL 9.97 Decreased By ▼ -0.19 (-1.87%)
KEL 6.08 Decreased By ▼ -0.01 (-0.16%)
LOTCHEM 26.20 Decreased By ▼ -0.26 (-0.98%)
MLCF 91.43 Decreased By ▼ -1.73 (-1.86%)
OGDC 312.80 Decreased By ▼ -3.93 (-1.24%)
PAEL 35.19 Decreased By ▼ -0.44 (-1.23%)
PIBTL 14.64 Decreased By ▼ -0.04 (-0.27%)
PIOC 240.94 Decreased By ▼ -2.27 (-0.93%)
PPL 220.85 Decreased By ▼ -6.06 (-2.67%)
PRL 91.00 Decreased By ▼ -2.02 (-2.17%)
SNGP 90.95 Decreased By ▼ -0.89 (-0.97%)
SSGC 23.21 Decreased By ▼ -0.60 (-2.52%)
TELE 7.57 Decreased By ▼ -0.23 (-2.95%)
TPLP 12.55 Decreased By ▼ -0.42 (-3.24%)
TRG 56.21 Decreased By ▼ -0.35 (-0.62%)
UNITY 8.06 Decreased By ▼ -0.01 (-0.12%)
WTL 1.02 Increased By ▲ 0.01 (0.99%)
رائے

فکری قیادت : حقیقی یا خود ساختہ ؟

  • کسی شخص کو فکری رہنما کہنا محض رسمی طور پر کسی اعزاز سے نوازنے یا خود فریبی کا عمل نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اس کے لیے قیادت کی بنیادی خصوصیات کا حقیقی طور پر موجود ہونا ضروری ہے
شائع اپ ڈیٹ

ہر چند سال بعد انتظامی امور کے ماہرین، سائنس دان اور عملی شعبوں سے وابستہ افراد کوئی نئی پرکشش اصطلاح، گھسا پٹا جملہ یا نیا لفظ وضع کر دیتے ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ ایسا زندگی کے ہر شعبے میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کی متحرک نوعیت سے خود کو ہم آہنگ رکھنے اور اپنی اہمیت و افادیت برقرار رکھنے کے لیے کیا جاتا ہے۔

تاہم بغور جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ یا تو یہ پرانی شراب نئی بوتل میں پیش کی جاتی ہے یا پھر ایک دوسرے سے ملتے جلتے تصورات کا ایسا امتزاج ہوتا ہے جس کا ذائقہ وہی پرانا ہوتا ہے، لیکن اسے نیا اور دلکش بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔

گزشتہ ایک دہائی یا اس سے زائد عرصے کے دوران ہم نے دیکھا ہے کہ قیادت کے تصور کو بھی مختلف سطحوں اور اقسام میں تقسیم کرکے اس کی الگ الگ شناخت متعارف کرائی گئی ہے۔

ماضی میں ایک سادہ لیڈر، جس کی شخصیت سے متعلق تمام صلاحیتیں اور خوبیاں اس کی قیادت کا حصہ سمجھی جاتی تھیں، اب قیادت کے تصورات کی باریک بینی میں الجھ کر اپنی شناخت منوانے کا پابند ہے۔ چنانچہ اب ہمارے سامنے حالات کے مطابق قیادت، تبدیلی پسند قیادت، خادم قیادت، والدین جیسی قیادت اور عاجز قیادت جیسی مختلف اصطلاحات موجود ہیں۔ تاہم ان تمام باریک تقسیموں پر سبقت لے جاتی ہے مستند قیادت۔ آخر یہ کیا چیز ہے؟

غیر مستند افراد تو ہوسکتے ہیں، لیکن کوئی شخص غیر مستند لیڈر کیسے ہوسکتا ہے؟ اگر کوئی لیڈر مستند نہیں تو یہی ایک خصوصیت اسے اس عہدے سے محروم کرنے کے لیے کافی ہونی چاہیے۔ میرے نزدیک یہ انتظامی اصولوں کی توہین کے مترادف ہے، جو مضبوط متبادل تصور یا سوچ پیش کرنے کی انتظامی صلاحیت کے فقدان کو ظاہر کرتی ہے۔

تصوری طور پر قیادت طبی سائنس نہیں ہے، جہاں کم سے کم شعبے میں زیادہ سے زیادہ مہارت حاصل کرتے کرتے تخصص پیدا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک ڈاکٹر جنرل سرجن کے طور پر اپنے کیریئر کا آغاز کرسکتا ہے، لیکن ماہر بننے کے لیے اسے خصوصی تعلیم اور طبی تجربہ حاصل کرنا پڑتا ہے، جس کے بعد وہ کارڈیک سرجن، ای این ٹی سرجن، جگر کا ماہر سرجن یا گردوں کا ماہر بن سکتا ہے۔

اس کے برعکس قیادت ایک جامع تصور ہے۔ محض آئی ٹی کا ماہر ہونا کسی شخص کو لیڈر نہیں بنا دیتا۔ قیادت کے لیے تخصص سے کہیں زیادہ صلاحیتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

اس تمام تقسیم اور باریک بینی سے بہت پہلے کچھ بنیادی تقاضے ہیں، جنہیں پورا کیے بغیر کسی شخص کو لیڈر یا رہنما نہیں کہا جاسکتا۔

تمام لیڈروں میں کچھ بنیادی شخصی خصوصیات کا ہونا ضروری ہے، مثلاً وژن متعین کرنے اور حکمتِ عملی وضع کرنے کی صلاحیت، مؤثر ابلاغ کی مہارت، متعلقہ شعبے یا صنعت میں تکنیکی قابلیت کا کم از کم معیار، درست لوگوں یعنی انسانی وسائل کو اکٹھا کرکے انہیں اہداف کے حصول کے لیے منظم کرنے کی صلاحیت اور سب سے بڑھ کر دیانت داری اور ایمانداری کا گہرا احساس، جس کا عملی اظہار بھی نظر آئے۔

ان بنیادی خصوصیات کے علاوہ بھی کئی دیگر اوصاف اور عناصر ہوتے ہیں جو کسی شخص کو ایک حقیقی لیڈر بنانے میں کردار ادا کرتے ہیں۔

لہٰذا لفظ لیڈر کے ساتھ کوئی بھی سابقہ لگانے کا مطلب یہ ہے کہ سب سے پہلے اس بات کو تسلیم کیا جائے کہ اس شخص میں لیڈر کہلانے کے لیے درکار تمام بنیادی خصوصیات موجود ہیں۔ اسی طرح فکری رہنما یا لیڈر بھی قیادت کی دیگر اقسام کی طرح ایک تصور ہے، جس میں یہ فرض کرلیا جاتا ہے کہ قیادت کے بنیادی معیار پہلے ہی پورے کیے جاچکے ہیں۔

مثال کے طور پر اگر کسی معیشت میں 25 فارماسیوٹیکل کمپنیاں کام کررہی ہوں تو ہر کمپنی کا ایک سی ای او یا منیجنگ ڈائریکٹر ہوگا، جو اپنے عہدے کی طاقت کی بنیاد پر اپنی جگہ لیڈر ہے۔ تاہم ان تمام افراد کو فکری(تھوٹ )لیڈر قرار نہیں دیا جاسکتا۔

بطور معاشرہ ہم عمومی طور پر فیاض مزاج ہیں، اسی لیے لوگوں کو ناقابلِ یقین القابات اور اعزازات سے نوازنے کا رجحان بھی رکھتے ہیں۔ محض وہ کام انجام دینا جو ضروری ہو، کوئی غیر معمولی کارکردگی نہیں لیکن ہمارے ہاں بلاامتیاز انداز میں ایسا کیا جاتا ہے۔ ایسے افراد بھی سول اعزازات سے نوازے جاتے ہیں جنہوں نے شاید کوئی نمایاں کارکردگی دکھائی ہی نہ ہو یا صرف اپنی بنیادی ذمہ داریاں پوری کی ہوں۔

تو پھر فکری رہنما کون ہوتا ہے؟

بہت سے ایسے بے فکر افراد، جنہوں نے سوچنے جیسے مشکل کام کی طرف کبھی قدم ہی نہیں بڑھایا، انہیں بھی فکری رہنما قرار دے دیا جاتا ہے۔ اس معاملے کو آسانی سے سمجھنے کے لیے امریکی صدور ڈونلڈ ٹرمپ اور جے ایف کینیڈی کا تقابل کیا جاسکتا ہے۔ مؤخر الذکر حقیقی فکری رہنما تھے، جبکہ ٹرمپ اکثر واقعہ پیش آنے کے بعد سوچتے ہیں۔

فکری رہنما وہ شخص ہوتا ہے جسے وسیع پیمانے پر کسی شعبے کا مستند ماہر یا اتھارٹی تسلیم کیا جاتا ہو اور جو معاشرے کو گہری بصیرت کے ساتھ مستقبل پر نظر رکھنے والے ایسے خیالات فراہم کرے جو دوسروں کے لیے تحریک کا باعث بنیں اور کسی مخصوص شعبے یا صنعت پر اثرانداز ہوں۔ ایسے افراد اپنے تجربے اور عملی مشاہدے کی بنیاد پر اپنے شعبۂ دلچسپی میں غوروفکر کرکے علم اور خیالات کا ایک باقاعدہ ذخیرہ تشکیل دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

مخصوص صنعتوں یا شعبوں کے فکری رہنما پیچیدہ مسائل کے ایسے نئے حل پیش کرتے ہیں جو روایتی سوچ سے ہٹ کر ہوں۔ اپنے تجزیوں اور فیصلوں کے باعث انہیں عموماً احترام اور قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر فکری رہنما بنیادی طور پر بہترین ابلاغی صلاحیتوں کے حامل ہوتے ہیں۔ ان کی سوچ واضح اور وہ اپنے خیالات کو جامع اور آسان انداز میں بیان کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ایسے معاملات پر سوچ رکھنا جو اہمیت کے حامل ہوں ایک بات ہے، لیکن ان خیالات کو پورے شعبے تک پہنچانا بالکل مختلف معاملہ ہے۔ فکری رہنما وہ شخص ہوتا ہے جو اپنی رائے کھل کر بیان کرنے اور اس کا دفاع کرنے کے لیے تیار ہو۔

فکری رہنما اپنے قول کو عمل سے ثابت کرتے ہیں۔ بلند پایہ خیالات کو پست کردار سے تقویت نہیں مل سکتی۔ انہیں اپنے نظریات پر مضبوطی سے قائم رہنا ہوتا ہے۔ مستقل مزاجی ان کی بنیادی خوبی ہے اور یہ ایک لازمی شرط ہے۔ سیاسی میدان میں مجھے صرف قائداعظم محمد علی جناح اور ذوالفقار علی بھٹو فکری رہنما نظر آتے ہیں، جبکہ کسی حد تک بے نظیر بھٹو بھی اس صف میں شامل ہیں۔ فکری رہنماؤں کا حقیقی، سچا، مستند اور دوسروں کو بااختیار بنانے والا ہونا ضروری ہے۔

ذوالفقار علی بھٹو کے ناقدین ان میں بعض خصوصیات کی کمی محسوس کرسکتے ہیں، لیکن تاریخ بھی اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتی کہ انہوں نے عوام میں سیاسی شعور بیدار کیا، بالکل اسی طرح جیسے ہمارے بانی نے برصغیر کے مسلمانوں کو ایک مشترکہ مقصد کے لیے متحد کیا۔ دونوں اپنے بیانیے کو مؤثر انداز میں عوام تک پہنچانے میں کامیاب رہے۔

فکری رہنما توجہ سے سننے والے ہوتے ہیں۔ اگرچہ وہ اپنے خیالات مؤثر انداز میں بیان کرسکتے ہیں، لیکن عموماً دوسروں کو سننے پر زیادہ توجہ دیتے ہیں۔ ان کی مہارت یہ ہے کہ وہ معلومات کے انبار میں سے اہم نکات چھان کر قابلِ عمل حل تک پہنچتے ہیں۔ وہ اپنے خیالات دوسروں پر مسلط نہیں کرتے بلکہ مخاطبین کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے غیر معمولی صبر کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

فکری رہنماؤں کی توجہ ایک متعین شعبے یا دائرۂ کار پر مرکوز ہوتی ہے، جو عموماً محدود ہوتا ہے۔ اس سے انہیں مخصوص طبقے یا شعبے کے لوگوں تک مؤثر رسائی حاصل ہوتی ہے۔

ہوابازی کے شعبے کا فکری رہنما ایوی ایشن سے باہر کے لوگوں کے لیے محدود کشش رکھتا ہوگا، تاہم انسانی وسائل کے شعبے کا فکری رہنما مختلف صنعتوں اور شعبوں کے وسیع حلقے کو متاثر کرسکتا ہے، کیونکہ انسانی وسائل سے متعلق مسائل عموماً مختلف نوعیت کے کاروباری اداروں میں یکساں ہوتے ہیں۔

کسی بھی ادارے میں ایسے فکری رہنما موجود ہوتے ہیں جو کارپوریٹ عہدوں کی درجہ بندی میں نمایاں نظر آتے ہیں یا پھر انتظامیہ کی نظروں سے اوجھل ہوسکتے ہیں، لیکن ان کے ساتھی انہیں بخوبی پہچانتے ہیں۔ بہت سے افراد عملی طور پر حقیقی فکری رہنما ہوتے ہیں، جن سے ان کے ساتھی مشورہ لینے اور سیکھنے کے لیے رجوع کرتے ہیں۔

فکری رہنما وقت کے ساتھ اپنی ساکھ قائم کرتے ہیں۔ وہ عوامی سطح پر اظہارِ خیال، مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر معتبر مواد کی اشاعت، وی لاگز یا اپنے ذاتی چینلز کے ذریعے اپنی پہچان بناتے ہیں۔ انہیں سیمینارز اور کانفرنسوں میں بھی مدعو کیا جاتا ہے، جس سے ان کے پیروکاروں کا اعتماد بڑھتا اور ان کی شناخت مزید مستحکم ہوتی ہے۔

موجودہ دور کے معروف فکری رہنماؤں میں آئی ٹی اور کمیونیکیشن کے شعبے میں بل گیٹس، سوشل میڈیا کے میدان میں مارک زکربرگ اور متاثر کن قیادت کے شعبے میں سائمن سینک شامل ہیں، جنہوں نے سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب ’اسٹارٹ وِد وائے‘ تحریر کی۔ تاریخی شخصیات میں کنفیوشس کو اخلاقی اقدار، خاندانی ذمہ داری اور ہم آہنگی کے فروغ، کارل مارکس کو سرمایہ داری کے خلاف تنقیدی نظریات اور مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کو نسلی مساوات کے لیے پُرامن جدوجہد کے حوالے سے فکری رہنما تسلیم کیا جاتا ہے۔ میں نے دانستہ طور پر مذہبی میدان سے تعلق رکھنے والے فکری رہنماؤں کا ذکر نہیں کیا، جہاں ایسی بہت سی نمایاں شخصیات موجود ہیں۔

آخر میں یہ بات دہرانا ضروری ہے کہ ہر فکری رہنما میں وہ تمام اوصاف، خصوصیات، مہارتیں اور صلاحیتیں لازماً موجود ہونی چاہئیں جو پہلے اسے لیڈر بننے کا اہل قرار دیں اور اس کے بعد ہی وہ فکری رہنما کے درجے تک پہنچ سکتا ہے۔ کسی شخص کو فکری رہنما کہنا محض رسمی طور پر کسی اعزاز سے نوازنے یا خود فریبی کا عمل نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اس کے لیے قیادت کی بنیادی خصوصیات کا حقیقی طور پر موجود ہونا ضروری ہے۔

کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026

Comments

200 حروف