آٹو پالیسی 2026-31، پاپام کی مقامی صنعت کے تحفظ کیلئے ٹیرف اصلاحات کی تجویز
- ٹو سیکٹر کی درآمدی ٹیرف کا معاملہ صنعت کی تجاویز کے مطابق طے کیا جائے
پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹوموٹیو پارٹس اینڈ ایکسیسریز مینوفیکچررز (پاپام) نے آئندہ آٹو پالیسی 2026-31 کے لیے متوازن ٹیرف ڈھانچہ تجویز کیا ہے جس میں مقامی مینوفیکچرنگ کے تحفظ کیلئے مکمل تیار شدہ گاڑیوں (سی بی یوز) اور مقامی طور پر تیار کردہ پرزوں پر زیادہ ڈیوٹی عائد کرنے جبکہ خام مال پر کم سے کم یا صفر ڈیوٹی برقرار رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
آٹو پالیسی 2026-31 کی تشکیل کے لیے غور و خوض کی غرض سے جمع کرائے گئے اپنے پوزیشن پیپر میں پاپام نے حکومت پر زور دیا کہ آٹو سیکٹر کی درآمدی ٹیرف کا معاملہ صنعت کی تجاویز کے مطابق طے کیا جائے جن کا مقصد مقامی پیداوار، برآمدی مسابقت، سرمایہ کاری، روزگار اور پائیدار صنعتی ترقی کو فروغ دینا ہے۔
پاپام، جو 300 سے زائد رکن کمپنیوں اور آٹو موٹیو ایکو سسٹم میں شامل تقریباً 1,200 اداروں کی نمائندگی کرتی ہے، نے کہا کہ اس شعبے میں تقریباً 3 لاکھ افراد کو براہِ راست روزگار حاصل ہے جبکہ مزید 15 لاکھ افراد کے روزگار کا بالواسطہ انحصار اس صنعت پر ہے۔ آٹو سیکٹر میں 13 مقامی کار اسمبلرز، 50 سے زائد موٹر سائیکل اور ای بائیک اسمبلرز، 10 ٹرک و بس اسمبلرز اور 3 ٹریکٹر اسمبلرز شامل ہیں۔
ایسوسی ایشن نے نئی پالیسی کی حتمی منظوری اور نفاذ سے قبل وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات اور اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دینے کا بھی مطالبہ کیا۔
پاپام نے کہا کہ نیشنل ٹیرف پالیسی 2025-30 کے تحت شعبہ جاتی صورتحال کو مناسب طور پر مدنظر رکھے بغیر درآمدی ٹیرف زیادہ سے زیادہ 15 فیصد تک کم کرنے سے آٹو اور آٹو پارٹس کی صنعت کو سنگین خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔
ایسوسی ایشن کے مطابق توانائی کے نرخ، فنانسنگ کی لاگت، ٹیکسوں، مال برداری، سرٹیفکیشن اور لاجسٹکس میں غیرموثر انتظامات کے باعث اس شعبے کو ساختی طور پر تقریباً 34 فیصد لاگت کے اضافی بوجھ کا سامنا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026


Comments