ٹیکس پالیسی میں اصلاحات سے صنعتی شعبے پر بوجھ کم اور ٹیکس نیٹ وسیع کرنے کی تجویز
- مجوزہ ٹیکس پالیسی سے ٹیکس بوجھ متوازن، دستاویزی معیشت وسیع کی جاسکتی ہے، فیصل ہاشمی
بیوریجز ایڈوائزری فاؤنڈیشن کے بانی چیئرمین ڈاکٹر فیصل ہاشمی نے مجوزہ ٹیکس پالیسی کی اہم خصوصیات بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے ذریعے ٹیکسوں کے بوجھ کو متوازن، دستاویزی معیشت کو وسیع اور بڑے و درمیانے درجے کے مینوفیکچرنگ شعبے میں ٹیکس قوانین کا نفاذ مؤثر بنایا جاسکتا ہے، جبکہ ٹیکس دینے والی صنعت پر مجموعی بوجھ اس کی مسابقت اور ترقی کی صلاحیت کو متاثر نہ کرے۔
بزنس ریکارڈر سے خصوصی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کے مینوفیکچرنگ شعبے کو ایک طرف ملکی محصولات بڑھانے اور دوسری جانب سرمایہ کاری، پیداوار اور صنعتی ترقی کو فروغ دینے کے دو اہم اہداف کا سامنا ہے۔ دونوں اہداف ایک دوسرے سے متصادم نہیں، تاہم ایسا ٹیکس نظام درکار ہے جو پائیدار آمدنی حاصل کرے اور پہلے سے دستاویزی و ٹیکس ادا کرنے والے کاروباروں پر غیرضروری بوجھ نہ ڈالے۔
انہوں نے کہا کہ جولائی تا مئی 2025-26 کے دوران بڑی صنعتوں کی پیداوار 5.77 فیصد بڑھی، جو صنعتی سرگرمی میں بحالی کی علامت ہے۔ تاہم توانائی اور مالیاتی اخراجات، درآمدی خام مال، ضوابط اور ٹیکس کاروباری لاگت میں اضافہ کر رہے ہیں۔
ڈاکٹر ہاشمی کے مطابق ٹیکس پالیسی کا مقصد صرف موجودہ ٹیکس دہندگان پر مزید بوجھ ڈالنا نہیں بلکہ غیر دستاویزی معیشت کو ٹیکس نیٹ میں لانا اور رسمی شعبے پر ٹیکسوں کا بوجھ متوازن کرنا ہونا چاہیے۔
کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر، 2026


Comments