نیپال کو سیلاب سے نمٹنے کیلئے تکنیکی مدد درکار، تعمیرِ نو کیلئے اربوں ڈالر کا تخمینہ
- نیپال میں کم از کم 626 افراد اور چین کے تبت میں 7 افراد ہلاک ہوگئے
نیپال نے ہفتے کو خراب موسم کے باعث تلاش اور امدادی کارروائیاں معطل کردیں اور کہا ہے کہ تبت سے متصل علاقے میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے نمٹنے کے لیے اسے بیرونی تکنیکی معاونت درکار ہے۔
وزیرخزانہ نے رائٹرز کو بتایا کہ 3 کروڑ آبادی پر مشتمل غریب ہمالیائی ملک کو بدھ کو آنے والے سیلاب سے ہونے والی تباہی کے بعد بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے تقریباً 4 سے 5 ارب ڈالر کی بھی ضرورت ہوگی۔
گلیشیئر کے منہدم ہونے کے نتیجے میں چٹانوں، برف، کیچڑ اور ملبے پر مشتمل سیلابی ریلہ بدھ کو پہاڑی دریائی نظام میں انتہائی تیزی سے بہہ نکلا جس کے نتیجے میں نیپال میں کم از کم 626 افراد اور چین کے تبت میں 7 افراد ہلاک ہوگئے جبکہ راستے میں آنے والی عمارتیں، پل اور بجلی گھر بھی اس کی زد میں آکر تباہ ہوگئے۔
تقریباً 3 ہزار افراد تاحال لاپتا ہیں جن میں تقریباً 2,426 نیپال اور کم از کم 558 تبت کے گیرونگ کاؤنٹی سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ لاپتا افراد میں کم از کم 540 غیر ملکی بھی شامل ہیں جن میں بڑی تعداد بھارت سے تعلق رکھنے والے ہندو یاتریوں کی ہے۔
نیپال کو خصوصی نوعیت کی امدادی مدد درکار
بری طرح متاثرہ ضلع رسووا کے اعلیٰ سرکاری افسر نریندر پریار نے رائٹرز کو بتایا کہ بارش اور دھند کے باعث تلاش اور امدادی کارروائیاں عارضی طور پر روک دی گئی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت توجہ زمینی ذرائع آمدورفت کا انتظام کرنے پر مرکوز ہے تاکہ بچائے گئے یاتریوں کو دارالحکومت کھٹمنڈو منتقل کیا جاسکے۔
حکام نے جمعہ کو بھی مختصر وقت کے لیے امدادی کارروائیاں معطل کردی تھیں، جب نیپال اور چین کی سرحد پر سیلاب کے نتیجے میں بننے والی ایک جھیل کا پانی نیپال کے دریائے لہندے کھولا اور دریائے تریشولی میں بہہ نکلا۔
یہ جھیل سیلاب سے متاثرہ علاقے کے بالائی حصے میں واقع ان دو جھیلوں میں سے ایک ہے جن کی نیپال نگرانی کر رہا ہے۔ ایک سرکاری اہلکار نے خبردار کیا ہے کہ جب تک دونوں جھیلوں کا پانی مکمل طور پر خارج نہیں ہوجاتا، سیلاب کا خطرہ برقرار رہے گا۔


Comments