نیپال تبت سرحد پر تباہ کن سیلاب، سیکڑوں افراد لاپتا، 95 لاشیں برآمد
- نیپال چین سرحد پر مٹی کے تودے سے خطرناک سیلاب، ماہرین نے ایک اور بڑے سیلاب کا خدشہ ظاہر کردیا
نیپال اور چین کے تبت کی ہمالیائی سرحد پر بدھ کو مٹی اور چٹانوں کا ایک بڑا تودہ دریا میں جاگرا، جس کے نتیجے میں نیپال کی جانب تباہ کن سیلاب آیا۔ سانحے میں کم از کم 95 افراد ہلاک جبکہ سیکڑوں سیاح لاپتا ہوگئے۔
جاری تباہی کے دوران سامنے آنے والی تصدیق شدہ ویڈیوز میں درجنوں افراد کو سرحدی علاقے میں سیلابی ریلے میں بہتے دیکھا گیا۔ دونوں جانب کے حکام کو خدشہ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد مزید بڑھ سکتی ہے اور بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔
نیپال میں مکانات، سڑکیں اور بجلی کے منصوبے سیلابی ریلے میں بہہ گئے، جبکہ تبت کے حکام نے بڑے پیمانے پر جانی نقصان کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ مٹی کا تودہ گرنے کے بعد گیئرونگ کاؤنٹی میں بھی متعدد افراد لاپتا ہیں۔
نیپال کے وزیر خارجہ شیشیر کھنال نے بدھ کو پارلیمنٹ کو بتایا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق علاقے میں آنے والے زلزلے سے برفانی تودہ گرنے اور سیلاب آنے کا امکان ہے۔
نیپال اور تبت کی سرحد پر چینی جانب نصب سکیورٹی کیمروں کی فوٹیج میں متعدد افراد کو سیلابی ریلے سے بچنے کے لیے بھاگتے دیکھا گیا۔ بعد ازاں چٹانوں، مٹی اور پانی کے تیز ریلے نے عمارتوں اور گاڑیوں کو تباہ کردیا اور کئی جانیں لے لیں۔
تقریباً 2 ہزار میٹر (6,560 فٹ) کی بلندی سے آنے والے مٹی کے پانی کے ریلے کے باعث بھارت کی شمالی ریاستوں اتر پردیش اور بہار میں بھی سیلاب کی وارننگ جاری کردی گئی۔ دونوں ریاستیں نیپال سے متصل ہیں اور کئی دریا پہاڑوں سے میدانی علاقوں کی جانب بہتے ہیں۔
بہار کے حکام کے مطابق چھ اضلاع سے تقریباً 5 ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا ہے، جبکہ مجموعی طور پر 10 ہزار سے 12 ہزار افراد کی منتقلی کا منصوبہ ہے۔
نیپال کی وزارتِ سیاحت کے مطابق علاقے میں کم از کم 341 غیر ملکی سیاح لاپتا ہیں، جن میں 100 سے زائد بھارتی، 3 امریکی اور 12 برطانوی شہری شامل ہیں۔ درجنوں مقامی افراد بھی لاپتا ہیں۔
نیپال پولیس کے مطابق ریسکیو ٹیمیں اب تک 95 لاشیں برآمد کرچکی ہیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق علاقے اور دارالحکومت کھٹمنڈو کے اسپتالوں میں 65 افراد زیرِ علاج ہیں۔
دوسری جانب جنوبی کوریا نے بتایا ہے کہ ہائیڈرو پاور منصوبے پر کام کرنے والے اس کے 8 شہری بھی لاپتا ہیں۔


Comments