برآمدات کے فروغ کے لیے حکومت نے پی آر آئی ای کا آغاز کردیا
- وفاقی حکومت نے اضافی برآمدات پر کارکردگی کی بنیاد پر پر فارمنس بیسڈ ریبیٹ آن انکریمنٹل ایکسپورٹس دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت برآمد کنندگان کو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں برآمدات میں اضافے پر 2 فیصد تک ریبیٹ دی جائے گی
وفاقی حکومت نے اضافی برآمدات پر کارکردگی کی بنیاد پر پر فارمنس بیسڈ ریبیٹ آن انکریمنٹل ایکسپورٹس دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت برآمد کنندگان کو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں برآمدات میں اضافے پر 2 فیصد تک ریبیٹ دی جائے گی۔ اس کا اطلاق یکم جولائی 2026 سے ہوگا۔ اسکیم کا مقصد برآمد کنندگان کو بیرونِ ملک فروخت بڑھانے اور ملک کی مجموعی برآمدی کارکردگی بہتر بنانے کی ترغیب دینا ہے۔
ریبیٹ صرف اضافی برآمدات کی رقم پر پاکستانی روپے میں دی جائے گی۔ ریبیٹ کی ادائیگی کے لیے اسٹیٹ بینک کی ویب سائٹ پر ادائیگی کی تاریخ کو شائع ہونے والی کسٹمر ایکسچینج ریٹ (خریداری) کی وزنی اوسط استعمال کی جائے گی۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق تمام برآمد کنندگان بشمول اشیا اور خدمات برآمد کرنے والے اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے اہل ہوں گے۔ ریبیٹ برآمدی کارکردگی کی بنیاد پر دی جائے گی۔
جن برآمد کنندگان کی سالانہ برآمدات گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 10 فیصد تک بڑھیں گی، انہیں سال کے دوران حاصل ہونے والی اضافی برآمدات کی مالیت کا 1 فیصد ریبیٹ دیا جائے گا۔
اس کے علاوہ جن برآمد کنندگان کی سالانہ برآمدات میں گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 10 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوگا، انہیں اضافی برآمدات کی مالیت کا 2 فیصد ریبیٹ دیا جائے گا۔ برآمدی سال یکم جولائی سے شروع ہو کر ہر سال 30 جون کو ختم ہوگا۔
جن برآمد کنندگان کی سالانہ برآمدات میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا، وہ اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے اہل نہیں ہوں گے۔ ریبیٹ کا تعین غیر ملکی کرنسی میں وصول ہونے والی اضافی برآمدی آمدنی کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ اگر برآمدی رقم امریکی ڈالر کے علاوہ کسی دوسری کرنسی میں وصول ہو تو اسے رقم وصول ہونے کی تاریخ پر لاگو شرحِ تبادلہ کے مطابق امریکی ڈالر کے مساوی رقم میں تبدیل کیا جائے گا۔
ادائیگی کے طریقہ کار کے مطابق اگر کسی کیلنڈر سہ ماہی میں برآمد کنندہ کی برآمدات گزشتہ سال کی اوسط سہ ماہی برآمدات سے زیادہ ہوں تو کارکردگی کے معیار کے مطابق قابلِ اطلاق ریبیٹ کا 75 فیصد ادا کیا جائے گا۔ سہ ماہی ادائیگیاں عارضی تصور ہوں گی اور مالی سال کے اختتام پر سالانہ بنیاد پر ان کا حتمی حساب کیا جائے گا۔
تاہم سال کے اختتام پر حتمی ایڈجسٹمنٹ کی جائے گی۔ اگر پورے سال کی برآمدات گزشتہ سال کی برآمدات سے زیادہ رہیں تو برآمد کنندہ کو آخری سہ ماہی کی ریبیٹ کے ساتھ گزشتہ تین سہ ماہیوں کی بقیہ ریبیٹ بھی ادا کی جائے گی۔
شرائط و ضوابط کے مطابق اگر پورے سال کی برآمدات گزشتہ سال کی برآمدات کے برابر یا اس سے کم رہیں تو گزشتہ تین سہ ماہیوں کے دوران عارضی طور پر ادا کی گئی ریبیٹ متعلقہ برآمد کنندگان سے ان کے نامزد بینک وصول کریں گے اور سال کے اختتام کے 15 دن کے اندر اسٹیٹ بینک کو واپس جمع کرائیں گے۔
اسٹیٹ بینک نے بینکوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے صارفین کو اس اسکیم کی تفصیلات سے آگاہ کریں اور اس پر مؤثر عمل درآمد کے لیے ضروری تعاون فراہم کریں۔
نامزد بینک کی جانب سے جمع کرائے جانے والے مجموعی ریبیٹ کلیمز کی باقاعدہ جانچ، تصدیق اور دستخط چیف انٹرنل آڈیٹر اور چیف کمپلائنس آفیسر کریں گے۔
مزید برآں ریبیٹ کے سالانہ کلیمز مالی سال کے اختتام کے تین ماہ کے اندر جمع کرانا ہوں گے۔ایف آئی ایس ڈی ریبیٹ کلیمز پر پہلے آنے والے، پہلے پانے کی بنیاد پر کارروائی کرے گا۔
کاپی رائٹ : بزنس ریکارڈر 2026


Comments