ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کی پاکستان کے زرعی کاروبار کے شعبے سے متعلق حالیہ جاری کردہ رپورٹ نے ملک کی زرعی ویلیو چین میں ایک دیرینہ ناکامی کی بھاری قیمت اجاگر کردی ہے: پاکستان فصل کٹائی کے بعد ہونے والے نقصانات کی وجہ سے ہر سال ایک ارب ڈالر نہیں بلکہ پورے 2 ارب ڈالر کا بھاری نقصان اٹھاتا ہے۔
یہ اعداد و شمار اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ ملکی معیشت کا ایک پورا شعبہ کس قدر غیر محفوظ ہوچکا ہے۔ یہ نقصان کھیت سے منڈی تک مختلف اجناس کی پیداوار میں ضائع ہونے والی قدر کی عکاسی کرتا ہے جن میں مقامی کھپت، پراسیسنگ، برآمدات اور ملک کی غذائی سلامتی کے لیے اہم اجناس شامل ہیں۔ایک ایسے ملک میں جہاں زراعت کا مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں تقریباً پانچواں حصہ ہے اور یہ ایک تہائی سے زیادہ افرادی قوت کو روزگار فراہم کرتی ہے، فصلوں کی کٹائی کے بعد اتنی بڑی مقدار میں پیداوار اور اس سے وابستہ قدر کا ضائع ہونا، خصوصاً ایسے وقت میں جب موسمیاتی تبدیلی کے باعث موسمی جھٹکے زیادہ تواتر اور شدت سے رونما ہو رہے ہیں، ایک ایسا معاشی نقصان ہے جسے اب معمول کی بات سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
درحقیقت موسمیاتی تبدیلی کا پہلو اب نظرانداز کرنا ممکن نہیں رہا۔ پاکستان کے زرعی شعبے کو حالیہ برسوں میں بارہا شدید موسمی حالات کا سامنا کرنا پڑا ہے جن میں سیلاب اس بات کی واضح مثال ہیں کہ موسمیاتی خطرات اب معاشی اعتبار سے کس نوعیت کے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔تباہ کن 2022 کے سیلاب نے تقریباً 40 لاکھ ہیکٹر زرعی اراضی تباہ کردی تھی اور اس کے نتیجے میں اربوں ڈالر کا نقصان ہوا۔ ملک ابھی اس تباہی سے مکمل طور پر سنبھل بھی نہیں پایا تھا کہ گزشتہ سال کے سیلاب نے مزید 22 لاکھ ہیکٹر فصلوں کے رقبے کو تباہ کردیا۔موسمیاتی نوعیت کے ان مسلسل جھٹکوں نے سپلائی چینز کو متاثر کیا، کسانوں کی آمدنی میں کمی کی، پیداواری اثاثوں کو نقصان پہنچایا اور ملک کو پہلے ہی درپیش معاشی دباؤ میں مزید اضافہ کردیا۔
چنانچہ ایشیائی ترقیاتی بینک کی رپورٹ نے موسمیاتی تبدیلی کو مسابقتی، مضبوط اور پائیدار زرعی کاروباری شعبے کی راہ میں حائل اہم ساختی رکاوٹوں میں شامل کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مسئلہ صرف موسمیاتی آفات کی بڑھتی ہوئی تعداد تک محدود نہیں بلکہ پانی اور زمین کے غیر مؤثر استعمال اور موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ زرعی طریقوں کو ناکافی طور پر اپنانے کا بھی ہے، تاہم موسمیاتی خطرات اس مسئلے کی صرف ایک کڑی ہیں۔ رپورٹ نے طویل عرصے سے جاری کم سرمایہ کاری، کمزور انفرااسٹرکچر، مالی معاونت تک محدود رسائی اور ٹیکنالوجی کے فقدان کو بھی ایک دوسرے کو تقویت دینے والی رکاوٹوں کے طور پر اجاگر کیا ہے۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ زرعی کاروبار کے شعبے میں نجی سرمایہ کاری مجموعی سرمائے کے پانچ فیصد سے بھی کم ہے۔ مزید برآں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو ضمانت کی سخت شرائط اور مختصر مدت کے قرضوں کے باعث مشکلات کا سامنا ہے جب کہ زراعت کے لیے مختص موسمیاتی فنانسنگ بھی انتہائی محدود ہے۔
اس سرمایہ کاری کے فقدان کے اثرات زرعی پیداوار کو محفوظ رکھنے اور اس میں قدر بڑھانے کیلئے درکار بنیادی ڈھانچے اور سہولیات کی کمی کی صورت میں نمایاں ہیں۔ ان میں کولڈ اسٹوریج کی سہولیات، سڑکوں، ٹیسٹنگ لیبارٹریز اور سرٹیفکیشن کے نظام کی کمی شامل ہے جو براہِ راست فصلوں کی برداشت کے بعد ہونے والے نقصانات اور برآمدی مستردگی میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ اس کے بعد ٹیکنالوجی کا فقدان بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ پاکستان زرعی جی ڈی پی کا صرف 0.2 فیصد تحقیق و ترقی (آر اینڈ ڈی) پر خرچ کرتا ہے جبکہ موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ بیجوں اور زرعی مشینری کا استعمال بھی محدود ہے۔ اس کے علاوہ، فرسودہ زرعی مشاورتی نظام صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا رہا ہے جس کے باعث کسانوں کو بروقت اور مقامی ضروریات سے ہم آہنگ رہنمائی میسر نہیں آتی۔
رپورٹ میں پیش کیا گیا لائحہ عمل اس لیے اہم ہے کہ اس میں اس حقیقت کو تسلیم کیا گیا ہے کہ کوئی ایک اصلاح کافی نہیں ہوگی۔ رپورٹ میں تجویز کردہ نیشنل ایگری بزنس انویسٹمنٹ فنڈ، کریڈٹ گارنٹیز اور گودام رسیدی فنانسنگ مالی وسائل کی کمی کو دور کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں جبکہ گرین بانڈز اور بلینڈڈ فنانس کے ذریعے موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت پیدا کرنے کے لیے مزید سرمایہ کاری کی جاسکتی ہے۔ دوسری جانب پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس کولڈ چینز اور موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے مضبوط بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں مدد دے سکتی ہیں جن کی مالی معاونت سے نجی شعبہ تنہا اب تک ہچکچاتا رہا ہے۔
مزید برآں رپورٹ میں تجویز کردہ نیشنل ایگری بزنس ٹرانسفارمیشن کمیٹی، ڈیجیٹل مانیٹرنگ ڈیش بورڈز اور کلائمیٹ اسمارٹ بجٹ ٹیگنگ وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان منقسم پالیسی ماحول میں زیادہ ہم آہنگی پیدا کرسکتے ہیں۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے ٹیکنالوجی کو محض پالیسی بیانات سے نکال کر عملی استعمال میں لانے پر زور دیا ہے جس میں ڈرونز کے لیے لیزنگ ماڈلز، سولر پمپس، ایگری ٹیک ریسرچ ہبز اوراے آئی، ریموٹ سینسنگ اور حقیقی وقت کے اعداد و شمار کے ذریعے کسانوں کی تربیت شامل ہے۔ رپورٹ کا بنیادی پیغام سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے: پاکستان کا زرعی مسئلہ اب صرف زیادہ پیداوار حاصل کرنے تک محدود نہیں رہا بلکہ پیدا ہونے والی فصل کو محفوظ رکھنا، اس میں قدر کا اضافہ کرنا اور پورے نظام کو اس قدر مضبوط اور لچکدار بنانا بھی ضروری ہے کہ وہ سخت تر ہوتے ہوئے موسمیاتی حالات کا مقابلہ کرسکے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026


Comments