BR100 Decreased By (-0.91%)
BR30 Decreased By (-1.47%)
KSE100 Decreased By (-0.78%)
KSE30 Decreased By (-0.75%)
BAFL 56.47 Decreased By ▼ -0.40 (-0.7%)
BIPL 24.63 Decreased By ▼ -0.33 (-1.32%)
BOP 30.12 Decreased By ▼ -0.23 (-0.76%)
CNERGY 12.98 Decreased By ▼ -0.14 (-1.07%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.22 Decreased By ▼ -5.23 (-2.72%)
FABL 93.71 Decreased By ▼ -0.43 (-0.46%)
FCCL 51.65 Decreased By ▼ -1.14 (-2.16%)
FFL 14.49 Decreased By ▼ -0.23 (-1.56%)
GGL 19.04 Decreased By ▼ -0.52 (-2.66%)
HBL 303.78 Decreased By ▼ -2.32 (-0.76%)
HUBC 198.96 Decreased By ▼ -2.46 (-1.22%)
HUMNL 9.85 Decreased By ▼ -0.31 (-3.05%)
KEL 6.06 Decreased By ▼ -0.03 (-0.49%)
LOTCHEM 26.17 Decreased By ▼ -0.29 (-1.1%)
MLCF 91.23 Decreased By ▼ -1.93 (-2.07%)
OGDC 313.39 Decreased By ▼ -3.34 (-1.05%)
PAEL 35.24 Decreased By ▼ -0.39 (-1.09%)
PIBTL 14.71 Increased By ▲ 0.03 (0.2%)
PIOC 239.62 Decreased By ▼ -3.59 (-1.48%)
PPL 221.36 Decreased By ▼ -5.55 (-2.45%)
PRL 91.22 Decreased By ▼ -1.80 (-1.94%)
SNGP 90.87 Decreased By ▼ -0.97 (-1.06%)
SSGC 23.30 Decreased By ▼ -0.51 (-2.14%)
TELE 7.61 Decreased By ▼ -0.19 (-2.44%)
TPLP 12.56 Decreased By ▼ -0.41 (-3.16%)
TRG 55.79 Decreased By ▼ -0.77 (-1.36%)
UNITY 8.02 Decreased By ▼ -0.05 (-0.62%)
WTL 1.00 Decreased By ▼ -0.01 (-0.99%)
دنیا

ایران جنگ کے 6 ماہ، دنیا کو تیل کی نصف پیداوار فراہم کرنے والے ممالک جنگ سے متاثر

  • چھ ماہ قبل امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد تیل کی فراہمی کا بحران شروع ہوا
شائع اپ ڈیٹ

دنیا کی تقریباً نصف تیل کی پیداوار ایسے ممالک سے آتی ہے جو 2026 میں تنازعات سے متاثر ہیں، جس سے موجودہ عالمی توانائی بحران کی شدت کا اندازہ ہوتا ہے۔ رائٹرز کے حساب کے مطابق موجودہ رکاوٹوں نے ماضی کے توانائی بحرانوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔

رائٹرز نے انٹرنیشنل انرجی ایجنسی (آئی ای اے) کے اعداد و شمار کی بنیاد پر بتایا کہ 2025 کی پیداوار کے لحاظ سے تنازعات سے متاثرہ ممالک نے مجموعی طور پر تقریباً 45 ملین بیرل یومیہ تیل پیدا کیا، جو عالمی پیداوار کے 43 فیصد سے زیادہ ہے۔

چھ ماہ قبل امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد تیل کی فراہمی کا بحران شروع ہوا، جو اب تک کا سب سے بڑا تیل سپلائی بحران بن چکا ہے اور اس کے خاتمے کے واضح آثار نظر نہیں آتے۔

دریں اثنا روس، یوکرین جنگ کے باعث پیداوار اور ریفائننگ میں کمی ہوئی، جبکہ قازقستان بھی اس سال متاثر ہوا۔ لیبیا میں جاری تنازع اور سال کے آغاز میں وینزویلا کی تیل برآمدات پر امریکی پابندیوں نے بھی عالمی سپلائی پر دباؤ بڑھایا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق خلیجی خطے میں موجودہ تیل کی سپلائی میں کمی تقریباً 5 سے 7 ملین بیرل یومیہ ہے۔ سعودی عرب کی جانب سے تیل کا رخ بحیرہ احمر کی طرف موڑنے اور خلیجی برآمد کنندگان کی آبنائے ہرمز سے خفیہ طور پر تیل نکالنے کے باوجود مجموعی سپلائی کو خطرات برقرار ہیں۔

خلیج اور یوکرین کے تنازعات نے عالمی ریفائننگ صلاحیت میں تقریباً 10 فیصد کمی کردی ہے۔ عالمی سپلائی بحران کے اثرات کم کرنے کے لیے آئی ای اے نے ہنگامی ذخائر سے ریکارڈ مقدار میں تیل جاری کیا، تاہم یہ ذخائر اب بڑی حد تک ختم ہوچکے ہیں جبکہ عالمی ذخائر مسلسل کم ہو رہے ہیں۔

Comments

200 حروف