آئی ٹی اے این زیڈ ٹیکنالوجیز نے 10 کے مقابلے میں ایک شیئر کی تقسیم کی منظوری دے دی
- کمپنی کے مطابق اقدام کا مقصد حصص کی کاروباری لیکویڈیٹی بہتر بنانا اور انہیں سرمایہ کاروں کے لیے مزید قابلِ رسائی بنانا ہے
آئی ٹی اے این زیڈ ٹیکنالوجیز لمیٹڈ، جو پہلے زہور کاٹن ملز لمیٹڈ کے نام سے جانی جاتی تھی، کے بورڈ نے کمپنی کے عام حصص کو 10 کے مقابلے میں ایک کے تناسب سے تقسیم کرنے کی تجویز کی منظوری دے دی ہے، جس کے نتیجے میں حصص کی فی شیئر مالیت 10 روپے سے کم ہو کر ایک روپیہ رہ جائے گی۔
کمپنی نے پیر کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کو جاری نوٹس میں بتایا کہ حصص کی تقسیم کا عمل شیئر ہولڈرز کی منظوری اور متعلقہ ریگولیٹری تقاضے مکمل ہونے سے مشروط ہے۔
تجویز کے تحت 10 روپے مالیت کا ہر موجودہ شیئر ایک روپے مالیت کے 10 حصص میں تقسیم ہوگا۔ کمپنی کا ادا شدہ سرمایہ 1.186 ارب روپے پر برقرار رہے گا، جبکہ جاری کردہ حصص کی تعداد تقریباً 11 کروڑ 86 لاکھ سے بڑھ کر 1.186 ارب ہو جائے گی۔
کمپنی نے بتایا کہ یہ تجویز سالانہ جنرل اجلاس میں خصوصی قرارداد کے طور پر شیئر ہولڈرز کے سامنے پیش کی جائے گی، جو عارضی طور پر 30 ستمبر 2026 کو شیڈول ہے اور اس کی منظوری کے لیے ڈالے گئے ووٹوں میں کم از کم 75 فیصد اکثریت درکار ہوگی۔
آئی ٹی اے این زیڈ نے کہا کہ اسٹاک اسپلٹ سے بذاتِ خود کمپنی کے ادا شدہ سرمائے، خالص اثاثوں، آمدنی یا کسی بھی رکن کی حصص میں متناسب ملکیت میں کوئی تبدیلی نہیں آتی بلکہ اسی ادا شدہ سرمائے کو کم فی شیئر مالیت کے زیادہ تعداد میں حصص میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ چنانچہ اس تجویز کے نتیجے میں کمپنی کو کوئی نقد رقم خرچ نہیں کرنا پڑے گی اور موجودہ شیئر ہولڈرز کے حصص میں کوئی کمی واقع نہیں ہوگی۔
کمپنی کے مطابق اس اقدام کا بنیادی مقصد حصص کی کاروباری لیکویڈیٹی بہتر بنانا اور انہیں چھوٹے اور پہلی مرتبہ سرمایہ کاری کرنے والے سرمایہ کاروں کے لیے زیادہ قابلِ رسائی بنانا ہے۔
کمپنی نے کہا کہ فی شیئر کم قیمت اور زیرِ گردش حصص کی زیادہ تعداد عموماً زیادہ کاروباری حجم اور خرید و فروخت کی قیمتوں کے درمیان کم فرق کا باعث بنتی ہے، جس سے شیئر ہولڈرز کے لیے حصص خریدنا یا فروخت کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ اب تک پی ایس ایکس کی جن کمپنیوں نے اپنے حصص تقسیم کیے ہیں، ان میں یہی سب سے مستقل طور پر دیکھا جانے والا فائدہ ہے۔
21 اگست کو آئی ٹی اے این زیڈ کے حصص 45.41 روپے پر بند ہوئے، جس سے حصص کی تقسیم کے بعد فی شیئر قیمت تقریباً 4.54 روپے بنتی ہے۔ کمپنی کی مارکیٹ کیپیٹلائزیشن تقریباً 5.39 ارب روپے تھی اور حصص کی تقسیم کے فوراً بعد بھی مارکیٹ میں قیمتوں کی تبدیلی کو چھوڑ کر اس میں کوئی فرق نہیں آئے گا۔
آئی ٹی اے این زیڈ ٹیکنالوجیز لمیٹڈ کو 1990 میں پاکستان میں پبلک لمیٹڈ کمپنی کے طور پر قائم کیا گیا تھا۔ اس کا سابقہ نام زہور کاٹن ملز لمیٹڈ تھا۔
مارچ 2025 میں لاہور ہائی کورٹ نے زہور کاٹن ملز لمیٹڈ اور آئی ٹی اے این زیڈ ٹیکنالوجی پرائیویٹ لمیٹڈ (آئی ٹی پی ایل) کے انضمام کی منظوری دی، جس کا اطلاق یکم اکتوبر 2023 سے ہوا۔ زہور کاٹن ملز لمیٹڈ نے اس کے بعد آئی ٹی اے این زیڈ ٹیکنالوجیز لمیٹڈ میں منتقلی کا عمل مکمل کر لیا۔
انضمام کے بعد کمپنی کی بنیادی کاروباری سرگرمیوں میں سافٹ ویئر کی تیاری، تنصیب اور نفاذ، جبکہ آئی ٹی سے متعلق دیگر مصنوعات اور خدمات کی فراہمی شامل ہے۔ کمپنی آئی ٹی کے شعبے میں مشاورتی خدمات بھی فراہم کرتی ہے۔ کمپنی نے بین الاقوامی سطح پر بھی اپنی سرگرمیوں کو وسعت دی ہے، جس میں آسٹریلیا کی ایک یوٹیلیٹی کمپنی کے ساتھ معاہدے اور سعودی عرب میں مکمل ملکیتی ادارے کا قیام شامل ہے۔


Comments