سندھ کابینہ کا میر رضا کی موت کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن بنانے کا فیصلہ
- میر رضا کے اہل خانہ کا جے آئی ٹی بنانے کا مطالبہ، عدالتی کمیشن پر مشاورت نہ ہونے کا شکوہ
- کمیشن پولیس، میڈیکو لیگل حکام کے کردار اور تفتیشی کوتاہیوں کا جائزہ لے گا
آج نیوز نے اتوار کو رپورٹ کیا ہے کہ سندھ کابینہ نے کراچی سے تعلق رکھنے والے نوجوان کاروباری شخصیت اور آئی بی اے کے گریجویٹ میر رضا علی کی موت کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
سندھ حکومت نے میر رضا کی موت کے حالات کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن تشکیل دینے کی درخواست کرتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کو باضابطہ خط لکھ دیا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ کے ترجمان کے مطابق صوبائی حکومت نے میر رضا کے اہل خانہ کی جانب سے اٹھائے گئے تحفظات کو سنجیدگی سے لیا ہے۔ وزیراعلیٰ نے بھی سوگوار خاندان سے تعزیت اور یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
ترجمان نے کہا کہ کمیشن کیس کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے گا، جن میں تفتیش میں سامنے آنے والی خامیاں، اہم جواب طلب سوالات اور مزید تحقیقات کے متقاضی شواہد شامل ہیں۔
کمیشن پولیس حکام، میڈیکو لیگل افسران اور دیگر متعلقہ اداروں کے کردار کا بھی جائزہ لے گا۔ اگر غفلت، فرائض سے کوتاہی، پیشہ ورانہ بدعنوانی یا شواہد میں ردوبدل ثابت ہوا تو کمیشن مناسب کارروائی کی سفارش کرسکے گا۔
کمیشن کو مزید تحقیقات اور فرانزک تجزیے کی سفارش کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔ سندھ ٹربیونلز آف انکوائری آرڈیننس 1969 کے تحت اسے سول عدالت جیسے اختیارات حاصل ہوں گے، جن میں گواہوں کو طلب کرنا، حلف پر بیانات قلم بند کرنا اور دستاویزات و سرکاری ریکارڈ طلب کرنا شامل ہے۔
وزیراعلیٰ نے تمام سرکاری محکموں، اداروں اور حکام کو کمیشن کے ساتھ مکمل تعاون کی ہدایت کی ہے۔ محکمہ داخلہ کمیشن کو ضروری سیکریٹریٹ معاونت فراہم کرے گا۔
ترجمان کے مطابق کمیشن اپنے قیام کے 30 روز کے اندر سندھ حکومت کو رپورٹ، نتائج اور سفارشات پیش کرے گا۔ مکمل اور منصفانہ تحقیقات یقینی بنانے کے لیے ضرورت پڑنے پر اس مدت میں توسیع کی جاسکے گی۔
ترجمان نے مزید کہا کہ کمیشن کو تفتیش کے طریقہ کار اور متعلقہ حکام کے کردار کا جائزہ لینے اور قانون کے مطابق کارروائی کی سفارش کرنے کا اختیار ہوگا۔
تاہم میر رضا کے اہل خانہ نے حکومت کی جانب سے عدالتی کمیشن بنانے کا فیصلہ مسترد کرتے ہوئے اس پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
میر رضا کے والد نے کہا کہ فیصلہ کرنے سے قبل خاندان سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ خاندان جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) کے قیام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا اور تحقیقات کے متبادل طریقہ کار کے حصول کے لیے پیر کو سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کرے گا۔
خاندان کے وکیل جبران ناصر نے بھی کہا کہ اہل خانہ عدالتی کمیشن کی مخالفت اور جے آئی ٹی کے قیام کی درخواست کے لیے سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کریں گے۔
میر رضا کے والد نے کہا کہ خاندان نے عدالتی کمیشن اس لیے مسترد کیا ہے کہ ان کے بقول قتل کے مقدمے کی تفتیش کمیشن کا کام نہیں۔ انہوں نے اپنے بیٹے کے لیے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ خاندان اپنی قانونی جدوجہد جاری رکھے گا۔
سندھ حکومت نے اس سے قبل 9 اگست کو میر رضا کی پراسرار موت کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن تشکیل دینے کا اعلان کیا تھا۔ سندھ کے وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار نے خاندان کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا تھا کہ معاملے کی تحقیقات ہائی کورٹ کے جج کریں گے۔
بعد ازاں خاندان نے یہ تجویز مسترد کردی تھی۔ میر رضا کے والد نے الزام عائد کیا تھا کہ حکومت عدالتی تحقیقات کے نام پر معاملے کو متنازع بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔
کیس کا پس منظر
25 سالہ میر رضا علی کراچی کے نوجوان کاروباری اور آئی بی اے کے گریجویٹ تھے، جو 28 جولائی کو فیروزآباد کے علاقے سے لاپتہ ہوگئے تھے۔ اگلے روز 29 جولائی کو ان کی لاش گلستانِ جوہر میں ایک گیسٹ ہاؤس کے قریب سے ملی۔
پولیس نے ابتدا میں واقعے کو مبینہ خودکشی قرار دیا تھا۔ تاہم خاندان کے اصرار اور عدالتی حکم کے بعد لاش قبر سے نکال کر دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا گیا۔ بعد ازاں ہونے والے معائنے میں متعدد زخم اور جسم پر تشدد کے آثار سامنے آئے، جس سے تفتیش کا رخ نمایاں طور پر تبدیل ہوگیا۔
پولیس حکام کے مطابق میر رضا کی لاش بری طرح زخمی حالت میں ملی تھی اور سینے پر گولی لگنے کا زخم بھی موجود تھا۔ مبینہ طور پر ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی لاش ملنے سے ایک روز قبل غیر فعال کردیے گئے تھے۔
8 اگست کو قبر کشائی کے بعد کیے گئے پوسٹ مارٹم کی ابتدائی طبی رپورٹ میں تشدد کے آثار سامنے آنے کی اطلاعات ہیں، جن میں پسلیوں میں فریکچر، سر اور چہرے پر زخم، جبکہ دائیں ران پر تقریباً 12 سینٹی میٹر کا فریکچر اور زخم شامل ہیں۔
رپورٹ میں جبڑے، ناک اور چہرے کے دیگر حصوں پر بھی زخموں کا ذکر کیا گیا۔ ابتدائی نتائج مبینہ طور پر پہلے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ سے مختلف تھے۔
ابتدائی طور پر فیروزآباد تھانے میں اغوا کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ پوسٹ مارٹم کے نتائج اور دیگر شواہد سامنے آنے کے بعد مقدمے میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 302، یعنی قتل کی دفعہ، بھی شامل کردی گئی۔
پولیس نے تحقیقات کے دوران متعدد افراد سے پوچھ گچھ کی اور خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی۔ مبینہ طور پر سی سی ٹی وی فوٹیج میں ایک مشتبہ موٹرسائیکل کو لاش ملنے کی جگہ کے قریب مختصر وقت کے لیے رکتے دیکھا گیا، جس کے بعد تفتیش کاروں نے کیس کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینا شروع کیا۔
تحقیقات میں ایک اہم پیش رفت اس وقت ہوئی جب کراچی کے پولیس سرجن نے ابتدائی پوسٹ مارٹم میں 14 سنگین خامیوں کی نشاندہی کی۔ ان میں لاش کا ایکسرے نہ کرانا، گن شاٹ ریزیڈیو کے تجزیے کے لیے ہاتھوں کے نمونے نہ لینا، فرانزک مقاصد کے لیے زخموں کی درست پیمائش اور تصاویر نہ بنانا اور شناخت کے لیے ڈی این اے نمونے حاصل نہ کرنا شامل تھے۔
میر رضا کے اہل خانہ ابتدا ہی سے مؤقف اختیار کرتے آئے ہیں کہ انہیں قتل کیا گیا اور انہوں نے تفتیش کے حوالے سے بارہا تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
عدالتی کمیشن بنانے کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تفتیش، پوسٹ مارٹم کے طریقہ کار اور شواہد سے نمٹنے کے حوالے سے سوالات بدستور موجود ہیں۔
واقعے میں مبینہ طور پر استعمال ہونے والے ہتھیار کی برآمدگی، ممکنہ طور پر ضائع یا متاثر ہونے والے شواہد سے متعلق سوالات اور تفتیشی کوتاہیوں کے ذمہ دار پولیس اہلکاروں کی نشاندہی بدستور حکام کے لیے اہم چیلنجز ہیں۔


Comments