BR100 Increased By (0.24%)
BR30 Increased By (0.19%)
KSE100 Increased By (0.2%)
KSE30 Increased By (0.21%)
BAFL 56.28 Increased By ▲ 0.23 (0.41%)
BIPL 24.50 No Change ▼ 0.00 (0%)
BOP 28.82 Decreased By ▼ -0.07 (-0.24%)
CNERGY 12.13 Decreased By ▼ -0.08 (-0.66%)
DFML 16.41 Decreased By ▼ -0.30 (-1.8%)
DGKC 182.92 Decreased By ▼ -0.08 (-0.04%)
FABL 92.77 Increased By ▲ 0.43 (0.47%)
FCCL 49.80 Decreased By ▼ -0.20 (-0.4%)
FFL 13.85 Increased By ▲ 0.03 (0.22%)
GGL 18.57 Decreased By ▼ -0.10 (-0.54%)
HBL 296.50 Increased By ▲ 1.29 (0.44%)
HUBC 197.10 Increased By ▲ 1.53 (0.78%)
HUMNL 9.36 Increased By ▲ 0.07 (0.75%)
KEL 5.46 Decreased By ▼ -0.16 (-2.85%)
LOTCHEM 25.49 Increased By ▲ 0.19 (0.75%)
MLCF 88.60 Increased By ▲ 0.36 (0.41%)
OGDC 311.75 Increased By ▲ 1.41 (0.45%)
PAEL 32.84 Decreased By ▼ -0.17 (-0.51%)
PIBTL 13.18 Decreased By ▼ -0.01 (-0.08%)
PIOC 230.30 Decreased By ▼ -0.71 (-0.31%)
PPL 217.48 Increased By ▲ 1.00 (0.46%)
PRL 86.50 Decreased By ▼ -0.92 (-1.05%)
SNGP 88.19 Increased By ▲ 0.12 (0.14%)
SSGC 22.51 Increased By ▲ 0.03 (0.13%)
TELE 7.05 Increased By ▲ 0.08 (1.15%)
TPLP 11.55 Decreased By ▼ -0.05 (-0.43%)
TRG 52.60 Increased By ▲ 1.15 (2.24%)
UNITY 7.74 No Change ▼ 0.00 (0%)
WTL 1.00 Increased By ▲ 0.01 (1.01%)
پاکستان

قومی اسمبلی نے فوج اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی سے متعلق بل منظور کرلیے

  • مجوزہ ترامیم کے خلاف اپوزیشن کا ایوان سے احتجاجاً واک آؤٹ
شائع اپ ڈیٹ

قومی اسمبلی نے اکثریتی ووٹ سے فوج اور نیوکلیئر کمانڈ اسٹرکچرکے ڈھانچے سے متعلق دو بل، ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026 اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ 2010، منظور کرلیے۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے دونوں بل ایوان میں پیش کیے، جبکہ مجوزہ ترامیم کے خلاف اپوزیشن نے احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔

قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت اجلاس میں ڈیفنس فورسز ترمیمی بل 2026 کی شق وار منظوری کا عمل شروع کیا گیا، جس کے بعد بل اکثریتی ووٹ سے منظور کرلیا گیا۔

وزیراعظم آفس کے مطابق وفاقی کابینہ نے بھی جمعرات کو ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026 اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ 2010 میں ترامیم کی منظوری دے دی تھی۔

یہ پیش رفت وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اسلام آباد میں ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران ہوئی۔

وزیراعظم آفس نے بتایا کہ وفاقی کابینہ کی جانب سے منظور کیا گیا ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026 کا مسودہ 27 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے کی گئی تبدیلیوں کے تسلسل میں تیار کیا گیا ہے۔

اس قانون سازی کا مقصد چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف ڈیفنس فورسز ہیڈکوارٹرز کے عہدوں سے متعلق انتظامی امور کی وضاحت کرنا ہے۔

کابینہ اور قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد دونوں بل سینیٹ میں منظوری کے لیے پیش کیے جائیں گے۔

مجوزہ قانون کے تحت چیف آف آرمی اسٹاف (سی او اے ایس) ہی چیف آف ڈیفنس فورسز (سی ڈی ایف) کے اختیارات استعمال کریں گے، جبکہ چیف آف ڈیفنس فورسز کو مسلح افواج کی کمانڈ اور کنٹرول سے متعلق اختیارات بھی حاصل ہوں گے۔

مجوزہ ترامیم کے مطابق چیف آف ڈیفنس فورسز کو قومی سلامتی اور مسلح افواج سے متعلق معاملات پر وزیراعظم کو مشورہ دینے کا اختیار حاصل ہوگا۔ انہیں مسلح افواج کی تنظیم سے متعلق وسیع اختیارات بھی دیے جائیں گے، جن میں اہم فوجی معاملات پر ضروری اقدامات کرنے کا اختیار شامل ہے۔

بل میں چیف آف ڈیفنس فورسز کے اختیارات اور فرائض کو باقاعدہ طور پر متعین کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ مجوزہ نظام کے تحت سی ڈی ایف قانون کے تحت تفویض کردہ اختیارات استعمال کریں گے، جبکہ وزیراعظم کی منظوری سے اس عہدے کو مزید اختیارات بھی دیے جاسکیں گے۔

مجوزہ قانون کے تحت چیف آف ڈیفنس فورسز کو تفویض کردہ اختیارات استعمال کرنے کے لیے حکومت سے منظوری حاصل کرنے کا طریقہ کار وضع کیا جائے گا جبکہ سی ڈی ایف کو بعض اختیارات براہ راست استعمال کرنے کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔

ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026 میں سی ڈی ایف کو قواعد و ضوابط بنانے، ہدایات اور احکامات جاری کرنے کا اختیار دینے کی بھی تجویز ہے۔ مجوزہ قانون کی تشریح میں کسی ابہام کی صورت میں صدرِ مملکت کا حکم حتمی تصور کیا جائے گا۔

بل میں مزید تجویز دی گئی ہے کہ پاکستان ڈیفنس فورسز ایکٹ 2026 فوری طور پر نافذ العمل ہوگا، جبکہ قانون کے نفاذ سے قبل جاری کیے گئے احکامات، ہدایات اور نوٹیفکیشن بدستور مؤثر رہیں گے۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں نیشنل کمانڈ اتھارٹی ایکٹ 2010 میں ترامیم سے متعلق بل بھی منظوری کے لیے پیش کیا گیا، جسے بعد ازاں ایوان نے اکثریتی ووٹ سے منظور کرلیا۔

27ویں آئینی ترمیم کے نتیجے میں پاکستان کے عسکری ڈھانچے میں اہم تبدیلیاں ہوئیں، جن میں چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ بھی شامل ہے۔ یہ دہری ذمہ داری والا عہدہ بیک وقت چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے پاس ہے۔ انہیں 4 دسمبر 2025 کو ملک کا پہلا چیف آف ڈیفنس فورسز مقرر کیا گیا تھا۔

نیشنل ایڈولیسنٹ اینڈ یوتھ پالیسی

وفاقی کابینہ نے منگل کو نیشنل ایڈولیسنٹ اینڈ یوتھ پالیسی کی اصولی منظوری بھی دی، جس کا مقصد پاکستان کی نوجوان آبادی کو بااختیار بنانے کے لیے ایک جامع قومی فریم ورک تشکیل دینا ہے۔

وزیراعظم آفس کے مطابق بین الصوبائی رابطہ وزارت کی جانب سے پیش کی گئی اس پالیسی کا مقصد نوجوانوں کو قومی ترقی کے مرکزی دھارے میں شامل کرنا اور ان کے لیے زیادہ مساوی اور سازگار معاشی و سماجی ماحول یقینی بنانا ہے۔

قومی فریم ورک چار بنیادی ستونوں پر مشتمل ہےجس میں تعلیم، روزگار، شمولیت اور ماحولیات شامل ہیں۔

پالیسی پر عمل درآمد کے لیے حکومت پاکستان یوتھ ڈویلپمنٹ کونسل اور وفاقی ایڈولیسنٹ اینڈ یوتھ ایجنسی قائم کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ یہ پالیسی ملک گیر وسیع مشاورتی عمل کے بعد تیار کی گئی، جس میں 32,145 سروے کیے گئے اور ملک بھر کے 2 لاکھ سے زائد نوجوانوں سے آرا اور تجاویز حاصل کی گئیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت کی کہ کابینہ ارکان کی جانب سے پیش کی جانے والی تجاویز کو بھی پالیسی میں شامل کیا جائے۔

دریں اثنا وفاقی کابینہ نے 9 جولائی کو ہونے والے کابینہ کمیٹی برائے سرکاری ملکیتی اداروں کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کی توثیق کردی۔

کابینہ نے 14 اگست 2026 کو ہونے والے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے اجلاس کے فیصلوں کی بھی منظوری دے دی۔

اس کے علاوہ کابینہ نے قانون سازی سے متعلق کابینہ کمیٹی کے 18 جون، 30 جولائی، 5 اگست اور 18 اگست 2026 کو ہونے والے اجلاسوں میں کیے گئے فیصلوں کی بھی توثیق کردی۔

Comments

200 حروف