یورپی یونین کے 2 کروڑ یورو کے پروگرام کے تحت یونیڈو، سیڈف نے سندھ میں 17 ایس ایم ایز کو گرانٹ دی
- گرانٹس ’’غربت کے خاتمے اور دیہی سندھ میں جامع ترقی‘‘ کے نام سے جاری پروگرام کے تحت دی گئیں
اقوام متحدہ کے صنعتی ترقی کے ادارے (یونیڈو) نے سندھ انٹرپرائز ڈیولپمنٹ فنڈ (سیڈف) کے اشتراک سے بدھ کو اپنے مشترکہ فنانسنگ پروگرام کے تیسرے مرحلے کے تحت منتخب 17 چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایس ایم ایز) کو 20 لاکھ 30 ہزار یورو، یعنی 65 کروڑ روپے سے زائد کی گرانٹس جاری کردیں، جبکہ دیہی سندھ میں اگلے مرحلے کے لیے مزید درخواستیں بھی طلب کرلی گئیں۔
یہ گرانٹس ’’دیہی سندھ میں غربت کے خاتمے اور جامع ترقی‘‘ کے عنوان سے جاری انٹرپرائز گرانٹ پروگرام (پیڈار) کے تحت دی گئیں، جس کا مقصد پائیدار معاشی سرگرمیوں کے فروغ، مقامی کاروباری اداروں کو مضبوط بنانے اور روزگار کے مواقع پیدا کرکے غربت میں کمی لانا ہے۔
یونیڈو کے آفس انچارج بدرالاسلام نے ایس ایم ای گرانٹ ایوارڈ کی تیسری تقریب سے خطاب اور چوتھے مرحلے کے لیے انٹرپرائز گرانٹس ونڈو کے افتتاح کے موقع پر کہا، ’’ہم نے انٹرپرائز ڈیولپمنٹ پروگرام کے لیے 2 کروڑ یورو سے زائد، یعنی تقریباً 6.5 ارب روپے مختص کیے ہیں۔‘‘
بدرالاسلام کے مطابق یونیڈو دیہی علاقوں کے پانچ اضلاع، یعنی ٹھٹھہ، بدین، سجاول، تھرپارکر اور لاڑکانہ میں کاروباری اداروں کی ترقی کے لیے معاونت اور اقدامات کر رہا ہے۔
انہوں نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا، ’’یہ مجموعی طور پر 5 کروڑ یورو کا پروگرام ہے، جس کے لیے یورپی یونین (ای یو) فنڈز فراہم کر رہی ہے اور یونیڈو اسے نافذ کر رہا ہے۔ اس میں سے 2 کروڑ یورو نجی کاروباری اداروں کی ترقی کے لیے مختص ہیں۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ 2 کروڑ یورو کے اس پروگرام میں سے تقریباً 1.1 کروڑ یورو کی گرانٹس 2023 سے اب تک 51 ایس ایم ایز اور 250 مائیکرو کاروباری اداروں کو دی جاچکی ہیں۔ گرانٹ پروگرام 2029 تک جاری رہے گا۔
بدرالاسلام نے کہا، ’’ہر ایس ایم ای کے لیے گرانٹ کی زیادہ سے زیادہ حد 2 لاکھ یورو، جبکہ مائیکرو کاروباری اداروں کے لیے 10 ہزار یورو مقرر ہے۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’ہم منصوبوں کے لیے 100 فیصد فنانسنگ فراہم نہیں کرتے۔ اس کے بجائے یہ مشترکہ فنانسنگ کا ماڈل ہے، جس میں منصوبہ چلانے والے برابر یا اس سے زیادہ رقم خود لگاتے ہیں۔ اس کا مقصد انہیں اپنے کاروبار کے حوالے سے سنجیدہ رہنے اور اسے کامیاب اور پائیدار بنانے کی ترغیب دینا ہے۔‘‘
وزیراعلیٰ سندھ کے سرمایہ کاری اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں کے خصوصی معاون سید قاسم نوید قمر نے کہا کہ ایس ایم ایز اور مائیکرو کاروباری ادارے بالخصوص دیہی علاقوں میں معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا، ’’اس لیے ایس ایم ایز کو پائیدار ترقی کے حصول میں مدد دینا نہایت اہم ہے، خواہ وہ مائیکرو اکنامک سطح ہو یا میکرو اکنامک۔ پاکستان میں پائیدار معاشی ترقی کے لیے سرمایہ کاری، جدت اور صنعتی ترقی کلیدی اہمیت رکھتی ہے۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’یہ فنڈ اس مقصد سے قائم کیا گیا تھا کہ ایسے کاروباری اداروں کے لیے صوبائی وسائل بروئے کار لائے جائیں جو سندھ کی معیشت کو وسعت دے سکتے ہیں۔ یہ حکومت سندھ کی اپنی دیہی معیشت میں سرمایہ کاری ہے اور مضبوط تجاویز کے لیے ہمارے پاس فنڈز موجود ہیں۔‘‘
سیڈف کے چیف ایگزیکٹو افسر خضر پرویز نے بتایا کہ ہر منصوبے کے لیے گرانٹ کی زیادہ سے زیادہ حد 3 کروڑ 50 لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مشترکہ فنانسنگ کے چوتھے مرحلے میں 20 ایس ایم ایز کا انتخاب کیا جائے گا۔ ان کے مطابق چوتھے مرحلے میں مجموعی گرانٹ 70 کروڑ سے ایک ارب روپے کے درمیان ہوسکتی ہے۔
پرویز نے بتایا کہ سیڈف 15 ستمبر 2026 تک نئی درخواستیں وصول کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ گرانٹس ترجیحی شعبوں، جن میں ماہی گیری و آبی زراعت، انفارمیشن ٹیکنالوجی، تحقیق و ترقی، کچرے کی ری سائیکلنگ اور حیاتیاتی کچرے کے مؤثر استعمال کے شعبے شامل ہیں، کے لیے دی جائیں گی، جبکہ خواتین کی زیر قیادت کاروباری اداروں کو تمام شعبوں میں ترجیح دی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت یونیڈو اور سیڈف مشترکہ طور پر اہل منصوبوں کی لاگت کا 70 فیصد تک برداشت کریں گے، جبکہ درخواست دہندگان کو کم از کم 30 فیصد یا اس سے زائد رقم خود فراہم کرنا ہوگی۔


Comments