BR100 Decreased By (-0.78%)
BR30 Decreased By (-1.54%)
KSE100 Decreased By (-0.71%)
KSE30 Decreased By (-0.7%)
BAFL 56.95 Increased By ▲ 0.08 (0.14%)
BIPL 24.90 Decreased By ▼ -0.06 (-0.24%)
BOP 30.08 Decreased By ▼ -0.27 (-0.89%)
CNERGY 12.89 Decreased By ▼ -0.23 (-1.75%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.50 Decreased By ▼ -4.95 (-2.57%)
FABL 93.71 Decreased By ▼ -0.43 (-0.46%)
FCCL 51.99 Decreased By ▼ -0.80 (-1.52%)
FFL 14.49 Decreased By ▼ -0.23 (-1.56%)
GGL 19.20 Decreased By ▼ -0.36 (-1.84%)
HBL 304.95 Decreased By ▼ -1.15 (-0.38%)
HUBC 199.00 Decreased By ▼ -2.42 (-1.2%)
HUMNL 9.97 Decreased By ▼ -0.19 (-1.87%)
KEL 6.08 Decreased By ▼ -0.01 (-0.16%)
LOTCHEM 26.20 Decreased By ▼ -0.26 (-0.98%)
MLCF 91.43 Decreased By ▼ -1.73 (-1.86%)
OGDC 312.80 Decreased By ▼ -3.93 (-1.24%)
PAEL 35.19 Decreased By ▼ -0.44 (-1.23%)
PIBTL 14.64 Decreased By ▼ -0.04 (-0.27%)
PIOC 240.94 Decreased By ▼ -2.27 (-0.93%)
PPL 220.85 Decreased By ▼ -6.06 (-2.67%)
PRL 91.00 Decreased By ▼ -2.02 (-2.17%)
SNGP 90.95 Decreased By ▼ -0.89 (-0.97%)
SSGC 23.21 Decreased By ▼ -0.60 (-2.52%)
TELE 7.57 Decreased By ▼ -0.23 (-2.95%)
TPLP 12.55 Decreased By ▼ -0.42 (-3.24%)
TRG 56.21 Decreased By ▼ -0.35 (-0.62%)
UNITY 8.06 Decreased By ▼ -0.01 (-0.12%)
WTL 1.02 Increased By ▲ 0.01 (0.99%)
Perspectives

فائیو جی اسٹینڈ الون –اے آئی سے چلنے والے مستقبل کی طرف اگلا قدم

  • ضروری نہیں کہ یہ مضمون بزنس ریکارڈر یا اس کے مالکان کی رائے کی عکاسی کرے
شائع اپ ڈیٹ

مصنوعی ذہانت (اے آئی) جس طرح مختلف شعبوں کو نئی شکل دے رہی ہے، کمپنیاں ڈیٹا سینٹرز اور آپٹیکل کنیکٹیویٹی میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ تاہم ٹیلی کام نیٹ ورک، بالخصوص 5G اسٹینڈ الون ( فائیوجی ایس اے)، کو اکثر نظر انداز کردیا جاتا ہے۔ اے آئی کی جدت اس وقت تک مؤثر انداز میں وسعت اختیار نہیں کرسکتی جب تک بنیادی کنیکٹیویٹی کا ڈھانچہ بھی اس کے ساتھ ساتھ ترقی نہ کرے۔

جیسے جیسے اے آئی کا بنیادی ڈھانچہ پختہ ہورہا ہے، اصل چیلنج یہ بن گیا ہے کہ ڈیٹا سینٹرز سے اربوں صارفین تک اے آئی کی صلاحیتیں مؤثر انداز میں کیسے پہنچائی جائیں۔ اگر ہم اے آئی کی لامحدود صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں تو نیٹ ورک کو ہماری ترجیحات میں مرکزی حیثیت دینا ہوگی۔

روایتی بنیادی ڈھانچے سے آگے بڑھنے کی ضرورت

جنریٹو اے آئی کے ظہور کے بعد سے اے آئی کی کارکردگی اور ردعمل کو بہتر بنانا صنعتی مباحث کا اہم موضوع رہا ہے۔ فروری 2026 میں صرف چیٹ جی پی ٹی کے ہفتہ وار فعال صارفین کی تعداد 90 کروڑ رپورٹ ہوئی۔ صلاحیت، تیز ردعمل اور قابلِ اعتماد سروس کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے کے لیے نیٹ ورکس کو بھی ارتقا پذیر ہونا ہوگا۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ حقیقی وقت میں کام کرنے والی ملٹی موڈل اے آئی نیٹ ورک ٹریفک کے بالکل نئے انداز پیدا کرتی ہے۔ روایتی موبائل براڈ بینڈ کے برعکس، جسے بڑی حد تک انسانی استعمال کے لیے بہتر بنایا گیا تھا، نئی نسل کے اے آئی اسسٹنٹس اور براہِ راست کاروباری رہنمائی کے نظام آلات اور کلاؤڈ کے درمیان مسلسل معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں۔ ان ایپلی کیشنز میں اپ لنک ٹریفک زیادہ، تاخیر کی گنجائش کم اور سیشنز کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے۔ انہیں مؤثر انداز میں چلانے کے لیے نیٹ ورک کو تقسیم شدہ اے آئی انفرنسنگ اور مشین لرننگ کے فعال معاون میں تبدیل ہونا ہوگا۔

اے آئی کے اگلی نسل کے تجربات کو تقویت دینا

نیٹ ورک کی کارکردگی اے آئی کے تجربے کا ایک فیصلہ کن عنصر بنتی جارہی ہے۔ اے آئی اور جدید کنیکٹیویٹی کا باہمی انحصار بڑھتا جارہا ہے: اے آئی نیٹ ورکس سے نئی نوعیت کے تقاضے پیدا کرتی ہے، جبکہ جدید نیٹ ورکس صارفین اور صنعتوں دونوں کے لیے اے آئی کے بالکل نئے استعمالات ممکن بناتے ہیں۔

اس کی ایک مثال اے آئی کا فزیکل اے آئی کی جانب ارتقا ہے—ایسے نظام جو حقیقی دنیا میں حقیقی وقت کے دوران ماحول کو محسوس، صورتحال کا تجزیہ اور کارروائی کرسکیں۔ خودکار گاڑیوں اور ڈرونز، اسمارٹ گلاسز اور دیگر پہننے کے قابل آلات کے علاوہ کاروباری اور صنعتی ماحول میں بھی ان کا استعمال ہورہا ہے۔

چونکہ یہ نظام بنیادی طور پر تقسیم شدہ نوعیت کے ہوتے ہیں، اس لیے مکمل صلاحیت کے ساتھ کام کرنے کے لیے انہیں فائیو جی ایس اے کی جانب سے فراہم کردہ انتہائی قابلِ اعتماد موبائل کمیونیکیشن اور مختلف نوعیت کی کنیکٹیویٹی درکار ہوتی ہے۔ وقت کے لحاظ سے انتہائی اہم فیصلے اگرچہ تیزی سے ایج پر کیے جائیں گے، تاہم زیادہ کمپیوٹنگ درکار کاموں کے لیے کلاؤڈ پروسیسنگ پر انحصار برقرار رہے گا تاکہ اے آئی کے بھاری کاموں کے دوران آلات ضرورت سے زیادہ گرم نہ ہوں۔ مناسب تاخیر اور گنجائش کے ساتھ فائیو جی ایس اے نیٹ ورکس دونوں کے درمیان پل کا کردار ادا کرتے ہیں اور اس امر کو یقینی بناتے ہیں کہ مواصلاتی تاخیر حقیقی دنیا کے ماحول میں کارکردگی کو متاثر نہ کرے یا نظام کی ناکامی کا سبب نہ بنے۔

اعلیٰ کارکردگی کی حامل کنیکٹیویٹی کی صلاحیت سے فائدہ اٹھانا

5G تاریخ میں سب سے تیزی سے پھیلنے والی موبائل ٹیکنالوجی ہے۔ ایرکسن موبیلیٹی رپورٹ کے تازہ ترین ایڈیشن کے مطابق 2026 کی پہلی سہ ماہی میں 5G سبسکرپشنز کی تعداد 3.1 ارب تک پہنچ گئی۔ توقع ہے کہ 2027 کے اختتام تک دنیا بھر میں بنیادی موبائل ایکسس ٹیکنالوجی کے طور پر 5G، 4G کو پیچھے چھوڑ دے گا—یعنی اس کی تجارتی لانچ کے صرف نو برس بعد۔ دنیا بھر میں تقریباً 390 سروس پرووائیڈرز تجارتی 5G سروسز متعارف کراچکے ہیں، جبکہ 90 سے زائد نے 5G اسٹینڈ الون سروسز بھی شروع کردی ہیں۔

روایتی 4G انفراسٹرکچر سے مکمل طور پر آزاد 5G اسٹینڈ الون کلاؤڈ نیٹو 5G کور آرکیٹیکچر پر مبنی ہے۔ اس کی انتہائی کم تاخیر، زیادہ گنجائش اور جدید صلاحیتیں صارفین کو اے آئی کی پروسیسنگ طاقت سے جوڑنے کے ساتھ ساتھ نیٹ ورک سلیسنگ، نیٹ ورک اے پی آئی ایکسپوژر، آٹومیشن اور ذہین ٹریفک مینجمنٹ جیسی سہولیات کی معاونت کے لیے بھی ناگزیر ہیں۔

5G اسٹینڈ الون، 5G کے دور کا اگلا مرحلہ ہے، جسے اے آئی ایپلی کیشنز کے مسلسل ارتقا کے لیے زیادہ کارکردگی، لچک اور ذہانت فراہم کرنے کی غرض سے تیار کیا گیا ہے۔ اس کا پروگرام ایبل پلیٹ فارم سروس پرووائیڈرز کو نئی صلاحیتیں تیزی سے تخلیق، متعارف اور اپ گریڈ کرنے کی سہولت دیتا ہے—اکثر صرف چند گھنٹوں میں—اور وہ بھی جاری آپریشنز میں خلل ڈالے بغیر۔

یہ ٹیکنالوجی زیادہ لچک فراہم کرنے کے ساتھ آمدنی کے نئے مواقع بھی پیدا کرتی ہے۔ اس کے ذریعے سروس پرووائیڈرز 5G کی مکمل صلاحیت بروئے کار لاکر مسابقت میں اپنی برتری برقرار رکھ سکتے ہیں اور صارفین کو بہتر اور بلاتعطل تجربات فراہم کرسکتے ہیں۔

آج ہی 5G SA کے ذریعے اے آئی کے لیے تیار نیٹ ورکس کی تعمیر

صارفین کی بڑی تعداد کی جانب سے اے آئی کو وسیع پیمانے پر اپنانا اس نیٹ ورک پر منحصر ہے جو اسے منتقل کرتا ہے۔ اے آئی پر مبنی مستقبل کس شکل میں سامنے آئے گا، اس کا انحصار ان بنیادی ڈھانچوں سے متعلق فیصلوں پر ہوگا جو ہم آج کررہے ہیں۔ عالمی سطح پر اے آئی سے چلنے والی اگلی نسل کی ایپلی کیشنز کو فعال بنانے کے لیے 5G SA اور کلاؤڈ انفراسٹرکچر پر مبنی باہم مربوط، اوپن اور محفوظ بنیاد ناگزیر ہے۔ سرمایہ کاروں، پالیسی سازوں اور صنعت کے رہنماؤں کو 5G SA کو محض نیٹ ورک کی ایک اور اپ گریڈیشن نہیں بلکہ اے آئی معیشت کے ایک اسٹریٹیجک ستون کے طور پر دیکھنا ہوگا۔

ہم اے آئی کے مقامی دور کی دہلیز پر کھڑے ہیں، جہاں قابلِ اعتماد اے آئی صلاحیتیں نیٹ ورکس کی ڈیزائننگ، تنصیب اور آپریشن کا لازمی حصہ بن جائیں گی۔ آج قابلِ توسیع، کلاؤڈ نیٹو 5G SA آرکیٹیکچر تعمیر کرکے ہم 6G اور ایک حقیقی خودکار ڈیجیٹل ماحولیاتی نظام کی راہ ہموار کرسکتے ہیں، جو ذہین اور انتہائی مربوط مستقبل کے لیے ایک مضبوط اور لچکدار بنیاد فراہم کرے گا۔

دوسری جانب مرکزی نوعیت کی اے آئی سے تقسیم شدہ ایجنٹک اے آئی کی جانب منتقلی—جس میں خودمختار اور مخصوص کاموں کے لیے تیار اے آئی ایجنٹس پیچیدہ کام مکمل کرنے کے لیے باہمی تعاون کرتے ہیں—موبائل کمیونیکیشنز پر مزید دباؤ ڈالے گی۔

ان ایجنٹس کو حقیقی وقت میں ڈیٹا اور متعلقہ سیاق و سباق حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ دوسرے ایجنٹس کو تلاش کرکے ان سے رابطہ بھی کرنا ہوگا۔ ایسی بہت سی ایپلی کیشنز میں وقت انتہائی اہم ہوتا ہے اور معمولی تاخیر یا معلومات کے سیاق و سباق میں معمولی تبدیلی بھی نتائج کو نمایاں طور پر متاثر کرسکتی ہے۔ مثال کے طور پر مالی لین دین انجام دینے والے اے آئی ایجنٹس کے لیے زرمبادلہ کی شرح میں اتار چڑھاؤ یا معلومات کی فراہمی میں تاخیر براہِ راست لین دین کی مالیت کو متاثر کرسکتی ہے۔

اے آئی ایپلی کیشنز کے لیے موزوں اور عالمی معیار کے نیٹ ورکس فراہم کرنے کے لیے ہمیں روایتی بیسٹ ایفورٹ کنیکٹیویٹی ماڈل سے آگے بڑھنا ہوگا، کیونکہ یہ ابھرتے ہوئے استعمالات کے لیے درکار قابلِ اعتماد، محفوظ اور اعلیٰ کارکردگی کی مسلسل ضمانت نہیں دے سکتے۔ روایتی نیٹ ورکس ڈیٹا کے بڑھتے ہوئے حجم، انتہائی تیز ردعمل اور اے آئی پر مبنی دنیا کے لیے درکار بے شمار آلات کی کثافت سے مؤثر انداز میں نمٹنے میں مشکلات کا شکار ہیں۔

Comments

200 حروف