مالیاتی استحکام کے بعد کیا معاشی نمو حاصل ہو سکے گی؟
- گزشتہ مالی سال کے اختتامی مالیاتی اعداد و شمار حوصلہ افزا ہیں۔ مجموعی مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے 2.6 فیصد تک کم ہوگیا
گزشتہ مالی سال کے اختتامی مالیاتی اعداد و شمار حوصلہ افزا ہیں۔ مجموعی مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے 2.6 فیصد تک کم ہوگیا، جو مالی سال 2004 کے بعد کم ترین سطح ہے۔ یہ مالی سال 2022 اور مالی سال 2023 کی صورتحال سے بہت مختلف ہے، جب خسارہ اوسطاً جی ڈی پی کے 7.9 فیصد کے برابر تھا اور ملک ڈیفالٹ کے دہانے پر پہنچ گیا تھا۔ حکومت نے مسلسل تیسرے سال بنیادی مالیاتی سرپلس بھی ریکارڈ کیا، جو مالی سال 2026 میں جی ڈی پی کے 2.9 فیصد تک پہنچ گیا اور شاید اب تک کی بلند ترین سطح ہے۔
اس پیش رفت کے باعث مجموعی سرکاری قرضہ مالی سال 2023 میں جی ڈی پی کے 75.2 فیصد سے کم ہوکر مالی سال 2026 میں 68.3 فیصد رہ گیا۔ اسی طرح خالص مالیاتی آمدنی کے مقابلے میں قرضوں کی ادائیگی کا بوجھ بھی اسی عرصے کے دوران 122 فیصد سے کم ہوکر 66 فیصد رہ گیا۔ اس ایک عنصر نے مالیاتی گنجائش پیدا کرنے کے لیے کافی جگہ فراہم کی ہے۔ تاہم، یہ کامیابی بغیر کسی قیمت کے حاصل نہیں ہوئی۔ پٹرولیم لیوی سمیت بلند ٹیکس بوجھ اور کم ترقیاتی اخراجات نے معاشی نمو کو محدود کردیا ہے۔
اس بجٹ (مالی سال 2027) میں حکومت اس مالیاتی گنجائش کو استعمال کرتے ہوئے ٹیکس بوجھ کم کرسکتی تھی۔ حکومت نے معمولی کمی ضرور کی، لیکن ٹیکس کا بوجھ اب بھی مالی سال 2022 کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ سرمایہ کاروں کے رویے میں تبدیلی لانے کے لیے اس سے کہیں زیادہ اقدامات کی ضرورت ہے، کیونکہ ٹیکس کی اتنی بلند شرحوں پر سرمایہ کاری اور سرمائے کی تشکیل کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔
تاہم حکومت نے آئی ایم ایف کے دباؤ کے تحت بنیادی مالیاتی سرپلس برقرار رکھنے کے لیے آمدنی، خصوصاً ایف بی آر ٹیکس وصولیوں کے اہداف ناقابلِ حصول سطح پر مقرر کیے ہیں۔ ٹیکسوں کا شکنجہ بدستور برقرار ہے۔
مالی سال 2026 میں مجموعی مالیاتی آمدنی 9.9 فیصد بڑھ کر 19.8 ٹریلین روپے ہوگئی، جو 11.6 فیصد کی معمولی جی ڈی پی نمو سے کم ہے۔ چنانچہ حقیقی معنوں میں آمدنی میں معمولی کمی ہوئی۔ وفاقی ٹیکس آمدنی 10.8 فیصد اضافے کے ساتھ 13.0 ٹریلین روپے ہوگئی، جبکہ صوبائی ٹیکسوں نے کم بنیاد کے باوجود بہتر کارکردگی دکھائی اور 23.5 فیصد اضافے سے 1.2 ٹریلین روپے تک پہنچ گئے۔
نان ٹیکس آمدنی محض 5.3 فیصد اضافے کے ساتھ 5.6 ٹریلین روپے رہی۔ اس میں سب سے بڑا اضافہ پٹرولیم لیوی کی وصولی میں ہوا، جو 28.5 فیصد بڑھ کر 1.6 ٹریلین روپے ہوگئی۔ رواں سال اس میں مزید اضافہ متوقع ہے، کیونکہ عالمی منڈی میں پٹرولیم کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کے باوجود حکومت لیوی کی شرح کم نہیں کررہی۔ نان ٹیکس آمدنی میں سب سے بڑا حصہ اسٹیٹ بینک کے منافع کا ہے، تاہم اس میں 7.3 فیصد کمی ہوئی اور یہ 2.4 ٹریلین روپے رہ گیا۔ شرح سود میں کمی کے باعث اس میں مزید کمی متوقع ہے۔
مجموعی مالیاتی اخراجات 4 فیصد کم ہوکر 23.1 ٹریلین روپے رہ گئے۔ وفاقی اخراجات میں اس سے بھی زیادہ کمی ہوئی اور وہ 10.3 فیصد گھٹ کر 15.3 ٹریلین روپے ہوگئے۔ اس کی بڑی وجہ شرح سود میں کمی کے باعث قرضوں کی ادائیگی کے اخراجات میں 22 فیصد کمی تھی۔
قرضوں کی ادائیگی کو نکال کر وفاقی جاری اخراجات میں 10.5 فیصد اضافہ ہوا۔ اس میں حکومت کے روزمرہ امور چلانے اور دفاع سے متعلق اخراجات حقیقی معنوں میں بڑھ رہے ہیں۔ دفاعی اخراجات میں 18 فیصد جبکہ سول حکومت چلانے کے اخراجات میں 16 فیصد اضافہ ہوا۔ اعداد و شمار سے حکومت کی جانب سے کفایت شعاری کا کوئی واضح ثبوت نہیں ملتا۔
اصل ضرب سبسڈیز پر پڑی، جن میں 22 فیصد کمی ہوئی، جس کی بنیادی وجہ بجلی کے شعبے میں سبسڈی میں کمی ہے، کیونکہ صارفین سے مکمل لاگت وصول کرنے کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ دوسرا بڑا کٹ وفاقی پی ایس ڈی پی اخراجات میں لگا، جو 12.5 فیصد کم ہوگئے۔ صارفین ٹیکسوں اور بلند توانائی قیمتوں کے ذریعے ادائیگی کررہے ہیں، جبکہ ترقیاتی اخراجات میں کمی کے باعث حکومت کی جانب سے پیدا ہونے والی ملازمتوں کے مواقع بھی کم ہورہے ہیں۔
وفاقی مالیاتی خسارہ 4.8 ٹریلین روپے، یعنی جی ڈی پی کے 3.8 فیصد کے برابر رہا، جو گزشتہ سال جی ڈی پی کے 6.2 فیصد سے کم ہے۔ اس کے بعد صوبوں نے سرپلس ریکارڈ کیا، جس کے نتیجے میں مجموعی مالیاتی خسارہ 3.3 ٹریلین روپے، یعنی جی ڈی پی کے 2.6 فیصد تک آگیا۔
رواں سال بیرونی ذرائع سے مالیاتی ضروریات پوری کرنے کا حصہ بڑھا اور 90 فیصد اضافے کے ساتھ 1.2 ٹریلین روپے ہوگیا، جبکہ مقامی ذرائع سے مالی اعانت 62 فیصد کم ہوکر 2.1 ٹریلین روپے رہ گئی۔ اس کی وجہ شرح سود میں کمی اور مالیاتی ضروریات کا کچھ بوجھ بیرونی ذرائع پر منتقل ہونا تھا۔
تاہم مالی اعانت میں مقامی ذرائع کا حصہ اب بھی بیرونی ذرائع کے مقابلے میں تقریباً دوگنا ہے۔ مجموعی مقامی قرض اب بھی بڑھ رہا ہے، جو مالی سال 2022 میں جی ڈی پی کے 46.6 فیصد سے بڑھ کر مالی سال 2023 میں 46.9 فیصد ہوگیا، جبکہ جی ڈی پی کے مقابلے میں بیرونی قرضہ اسی عرصے میں 25.1 فیصد سے کم ہوکر 19.1 فیصد رہ گیا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ بیرونی ذرائع سے مالی اعانت میں اضافہ کیا جائے، وہ بھی طویل مدتی بنیادوں پر، تاکہ قرضوں کی دوبارہ ادائیگی اور رول اوور کا خطرہ کم کیا جاسکے۔ ملکی بینکاری مارکیٹ میں نجی شعبے کے لیے قرضوں کی گنجائش پیدا کی جائے اور نجی شعبے کی قیادت میں معاشی نمو کو ممکن بنانے کے لیے ٹیکسوں میں کمی پر غور کیا جائے۔ بنیاد تیار ہے؛ اب وقت آگیا ہے کہ معاشی نمو اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر توجہ مرکوز کی جائے۔


Comments