BR100 Decreased By (-0.24%)
BR30 Increased By (0.08%)
KSE100 Decreased By (-0.05%)
KSE30 Decreased By (-0.19%)
BAFL 57.79 Decreased By ▼ -0.37 (-0.64%)
BIPL 27.24 Increased By ▲ 0.01 (0.04%)
BOP 34.64 Increased By ▲ 0.24 (0.7%)
CNERGY 13.60 Increased By ▲ 0.49 (3.74%)
DFML 18.38 Decreased By ▼ -0.02 (-0.11%)
DGKC 215.99 Increased By ▲ 2.33 (1.09%)
FABL 99.35 Decreased By ▼ -0.21 (-0.21%)
FCCL 57.59 Decreased By ▼ -0.47 (-0.81%)
FFL 16.42 Increased By ▲ 0.19 (1.17%)
GGL 23.99 Increased By ▲ 0.01 (0.04%)
HBL 333.00 Decreased By ▼ -5.16 (-1.53%)
HUBC 212.75 Decreased By ▼ -0.61 (-0.29%)
HUMNL 10.59 Increased By ▲ 0.01 (0.09%)
KEL 7.40 Decreased By ▼ -0.03 (-0.4%)
LOTCHEM 27.53 Decreased By ▼ -0.14 (-0.51%)
MLCF 102.00 Decreased By ▼ -0.75 (-0.73%)
OGDC 318.69 Decreased By ▼ -0.23 (-0.07%)
PAEL 42.75 Decreased By ▼ -0.35 (-0.81%)
PIBTL 16.66 Increased By ▲ 0.03 (0.18%)
PIOC 274.50 Increased By ▲ 1.50 (0.55%)
PPL 230.30 Increased By ▲ 0.85 (0.37%)
PRL 76.01 Increased By ▲ 5.21 (7.36%)
SNGP 102.87 Decreased By ▼ -1.71 (-1.64%)
SSGC 27.04 Decreased By ▼ -0.37 (-1.35%)
TELE 8.60 Increased By ▲ 0.07 (0.82%)
TPLP 15.50 Decreased By ▼ -0.26 (-1.65%)
TRG 59.89 Decreased By ▼ -0.40 (-0.66%)
UNITY 11.45 Decreased By ▼ -0.27 (-2.3%)
WTL 1.22 Increased By ▲ 0.02 (1.67%)

مالی سال 2026ء میں پیٹرولیم لیوی کی وصولی 1.6 ٹریلین روپے تک پہنچ گئی

  • یہ وصولی اصل ہدف 1.468 ٹریلین روپے سے بھی نمایاں طور پر زیادہ رہی
شائع اپ ڈیٹ

حکومت کی پٹرولیم لیوی (پی ایل) کی وصولی مالی سال 2025-26 کے دوران بڑھ کر 1.567 ٹریلین روپے ہوگئی جو نظرثانی شدہ ہدف 1.498 ٹریلین روپے سے بھی تقریباً 69 ارب روپے زیادہ ہے۔

وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق یہ وصولی اصل ہدف 1.468 ٹریلین روپے سے بھی نمایاں طور پر زیادہ رہی اور تقریباً 99 ارب روپے اضافی وصول ہوئے جو آمدنی کے ایک اہم ذرائع کے طور پر پیٹرولیم لیوی پر بڑھتے ہوئے انحصار کی عکاسی کرتا ہے۔

رواں مالی سال 2026-27 کیلئے حکومت نے پٹرولیم لیوی کی وصولی کا 1.676 ٹریلین روپے کا ایک بڑا ہدف مقرر کیا جو کہ گزشتہ مالی سال ریکارڈ کی گئی اصل وصولی سے تقریباً 109 ارب روپے زیادہ ہے۔

تازہ ترین اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نے اپنی مالی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے پٹرولیم مصنوعات پر بدستور نمایاں انحصار برقرار رکھا جب کہ پٹرولیم مصنوعات پر عائد لیوی کا بوجھ صارفین برداشت کررہے ہیں۔

پٹرولیم لیوی حکومت کی نان ٹیکس آمدنی کا ایک اہم حصہ ہے جو پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل سمیت مختلف پٹرولیم مصنوعات پر وصول کی جاتی ہے۔ مالی اہداف پورے کرنے کے ساتھ اضافی آمدنی حاصل کرنے کے لیے یہ لیوی بتدریج ایک اہم ذریعہ بن چکی ہے۔

حکومت کی جانب سے مالی سال 2026-27 کیلئے پٹرولیم لیوی کا زیادہ ہدف مقرر کرنے کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور ٹیکسز کے صارفین، ٹرانسپورٹ اخراجات اور مہنگائی پر اثرات کے حوالے سے مسلسل تشویش پائی جاتی ہے۔

رواں مالی سال کے لیے مقرر کیا گیا 1.676 ٹریلین روپے کا ہدف مالی سال 2025-26 میں حاصل ہونے والی 1.567 ٹریلین روپے کی حقیقی پیٹرولیم لیوی وصولی کے مقابلے میں تقریباً 7 فیصد اضافے کے مترادف ہے۔

اصل اور نظرثانی شدہ دونوں اہداف کے مقابلے میں نمایاں اضافی وصولی حکومت کی محصولات کی حکمتِ عملی میں پٹرولیم لیوی کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے تاہم زیادہ وصولیوں سے صارفین اور کاروباری اداروں پر لاگت کے اضافی بوجھ کے خدشات بھی پیدا ہوتے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب توانائی اور ٹرانسپورٹ اخراجات مہنگائی میں اضافے کے اہم عوامل برقرار ہیں۔

حکومت کو رواں مالی سال 2026-27 میں نئے ہدف کو پورا کرنے کے لیے پٹرولیم لیوی کی مد میں مزید 109 ارب روپے وصول کرنا ہوں گے جس سے مالیاتی آمدنی کے ذریعے کے طور پر پٹرولیم ٹیکس پر دباؤ برقرار رہے گا۔

Comments

200 حروف