زرعی اور غذائی مصنوعات، پاکستان اور بیلاروس کا آن لائن بی ٹو بی تجارت بڑھانے پر اتفاق
- دونوں فریق اس بات پر بھی متفق ہوئے کہ دونوں ممالک میں منعقد ہونے والی خوراک کی نمائشوں اور زرعی تجارتی میلوں میں اداروں اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی شرکت کو فروغ دیا جائے گا
پاکستان اور بیلاروس نے بدھ کے روز سمندری خوراک، کینو، آم، فروٹ پیوری، آلو، بیجوں اور ڈیری مصنوعات کی آن لائن بزنس ٹو بزنس (بی ٹو بی) تجارت کے فروغ کے لیے متعلقہ اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔
وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین نے بیلاروس کے نائب وزیر زراعت و خوراک یاکووچٹس الیگزینڈر سے ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک نے آن لائن بی ٹو بی سیشنز کے انعقاد کے ذریعے دونوں ممالک کے کاروباری اداروں کو باہم مربوط کرنے، دوطرفہ تجارت کے فروغ اور تجارتی روابط کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔
دونوں فریق اس بات پر بھی متفق ہوئے کہ دونوں ممالک میں منعقد ہونے والی خوراک کی نمائشوں اور زرعی تجارتی میلوں میں اداروں اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی شرکت کو فروغ دیا جائے گا، تاکہ وہ اپنی مصنوعات کی نمائش، نئی شراکت داریاں قائم اور دوطرفہ زرعی تجارت میں اضافہ کر سکیں۔
ملاقات میں زرعی شعبے سے متعلق تجارتی اور کاروباری وفود کے باہمی دوروں کو بھی آسان بنانے پر اتفاق کیا گیا تاکہ شراکت داری، سرمایہ کاری کے مواقع اور تکنیکی مہارت کے تبادلے کو فروغ دیا جا سکے۔
دونوں ممالک نے مچھلی کی فارمنگ کے شعبے میں تعاون کے امکانات کا بھی جائزہ لیا اور اس شعبے میں علم، جدید ٹیکنالوجی اور بہترین طریقہ کار کے تبادلے پر اتفاق کیا۔ اس اقدام سے جدید آبی زراعت (ایکوا کلچر) کے فروغ اور فشریز کے شعبے میں تعاون کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
رانا تنویر حسین نے پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل (پی اے آر سی) میں بیلاروس کے مالی اور تکنیکی تعاون سے زرعی مشینری کی جانچ کے لیے ایک جدید ٹیسٹنگ مرکز قائم کرنے کی تجویز بھی پیش کی، جس کا بیلاروسی وفد نے خیرمقدم کیا۔
دونوں ممالک نے اس تجویز کا تفصیلی جائزہ لینے، مطلوبہ آلات کی فہرست تیار کرنے اور پاکستان کی جانب سے تجویز کردہ مقامات کی موزونیت کا جائزہ لینے پر اتفاق کیا۔ اس سلسلے میں 2026 کے اختتام تک اعلیٰ تربیت یافتہ تکنیکی ماہرین کے تبادلہ وفود بھیجنے پر بھی اتفاق ہوا۔
وفاقی وزیر نے زور دیا کہ دوطرفہ تعاون کو عملی تجارتی، تکنیکی اور ادارہ جاتی نتائج میں تبدیل کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان زرعی ترقی اور غذائی تحفظ کے نئے شعبوں میں بیلاروس کے ساتھ تعاون کو وسعت دینا چاہتا ہے تاکہ کاروباری برادری، کسانوں، سرمایہ کاروں اور تکنیکی ماہرین کے لیے مزید مواقع پیدا کیے جا سکیں۔
ملاقات کے اختتام پر رانا تنویر حسین اور بیلاروسی وفد نے پاکستان اور بیلاروس کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments