BR100 Decreased By (-0.73%)
BR30 Decreased By (-1.31%)
KSE100 Decreased By (-0.7%)
KSE30 Decreased By (-0.67%)
BAFL 56.50 Decreased By ▼ -0.37 (-0.65%)
BIPL 24.80 Decreased By ▼ -0.16 (-0.64%)
BOP 30.15 Decreased By ▼ -0.20 (-0.66%)
CNERGY 13.00 Decreased By ▼ -0.12 (-0.91%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.81 Decreased By ▼ -4.64 (-2.41%)
FABL 93.90 Decreased By ▼ -0.24 (-0.25%)
FCCL 52.40 Decreased By ▼ -0.39 (-0.74%)
FFL 14.50 Decreased By ▼ -0.22 (-1.49%)
GGL 19.19 Decreased By ▼ -0.37 (-1.89%)
HBL 304.00 Decreased By ▼ -2.10 (-0.69%)
HUBC 199.30 Decreased By ▼ -2.12 (-1.05%)
HUMNL 9.91 Decreased By ▼ -0.25 (-2.46%)
KEL 6.05 Decreased By ▼ -0.04 (-0.66%)
LOTCHEM 26.35 Decreased By ▼ -0.11 (-0.42%)
MLCF 91.35 Decreased By ▼ -1.81 (-1.94%)
OGDC 313.97 Decreased By ▼ -2.76 (-0.87%)
PAEL 35.24 Decreased By ▼ -0.39 (-1.09%)
PIBTL 14.74 Increased By ▲ 0.06 (0.41%)
PIOC 240.45 Decreased By ▼ -2.76 (-1.13%)
PPL 221.24 Decreased By ▼ -5.67 (-2.5%)
PRL 91.30 Decreased By ▼ -1.72 (-1.85%)
SNGP 91.38 Decreased By ▼ -0.46 (-0.5%)
SSGC 23.25 Decreased By ▼ -0.56 (-2.35%)
TELE 7.60 Decreased By ▼ -0.20 (-2.56%)
TPLP 12.70 Decreased By ▼ -0.27 (-2.08%)
TRG 55.95 Decreased By ▼ -0.61 (-1.08%)
UNITY 8.02 Decreased By ▼ -0.05 (-0.62%)
WTL 1.01 No Change ▼ 0.00 (0%)

کراچی چیمبر کے صدر ریحان حنیف نے حکومت سے گڈز ٹرانسپورٹرز کے جاری مسائل فوری حل کرنے اور ہڑتال ختم کرانے کیلئے مؤثر مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ہڑتال طویل ہونے کی صورت میں صنعتی پیداوار، برآمدات، سپلائی چین اور مجموعی معاشی سرگرمیاں شدید متاثر ہوسکتی ہیں۔

ریحان حنیف نے کہا کہ ملک کی معیشت پہلے ہی مختلف معاشی اور انتظامی مشکلات کا سامنا کررہی ہے، ایسے میں مال بردار ٹرانسپورٹ کی طویل بندش صنعت اور تجارت کیلئے مزید مشکلات پیدا کرسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ گڈز ٹرانسپورٹرز کی جانب سے اپنے آئینی اور جائز مطالبات کے حل کیلئے احتجاج کیا جارہا ہے لہٰذا حکومت کو صورتحال کا فوری نوٹس لیتے ہوئے تمام متعلقہ فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانا چاہیے۔

صدر کراچی چیمبر نے کہا کہ ٹرانسپورٹ کا شعبہ صنعتی و تجارتی سرگرمیوں میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، خام مال کی فیکٹریوں تک ترسیل سے لے کر تیار مصنوعات کی مقامی منڈیوں اور بندرگاہوں تک رسائی کا انحصار اسی شعبے پر ہے۔ ہڑتال جاری رہنے سے نہ صرف صنعتوں کو خام مال کی فراہمی متاثر ہوسکتی ہے بلکہ تیار مال کی ترسیل میں رکاوٹ کے باعث برآمدی آرڈرز کی بروقت تکمیل بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی برآمدی صنعت پہلے ہی متعدد معاشی اور انتظامی مشکلات سے دوچار ہے اور ایسے حالات میں ٹرانسپورٹ کی بندش برآمد کنندگان کیلئے مزید مسائل پیدا کرے گی۔ بندرگاہوں پر برآمدی و درآمدی کارگو کی نقل و حرکت متاثر ہونے سے ڈیمرج اور دیگر اضافی اخراجات میں بھی اضافہ ہوسکتا ہے جس کا براہ راست اثر کاروباری لاگت اور ملکی برآمدات پر پڑے گا۔

ریحان حنیف نے کہا کہ چند ماہ قبل بھی ملک میں ایسی صورتحال پیدا ہوئی تھی جس کے باعث قومی معیشت کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا، اس لیے حکومت کو ماضی کے تجربات سے سبق حاصل کرتے ہوئے موجودہ تنازع کو طول پکڑنے سے پہلے حل کرنا چاہیے۔

انہوں نے تمام متعلقہ حکومتی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ گڈز ٹرانسپورٹرز کے نمائندوں سے فوری مذاکرات کرکے ان کے جائز مطالبات کا قابلِ عمل حل تلاش کریں۔

صدر کراچی چیمبر نے کہا کہ کے سی سی آئی آئین اور جائز مطالبات کے حل کیلئے ثالثی کا کردار ادا کرنے کیلئے تیار ہےاور کاروباری برادری کے وسیع تر مفاد میں حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان مذاکرات کیلئے پلیٹ فارم فراہم کرسکتا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ ملک میں معاشی سرگرمیوں کا تسلسل برقرار رکھنے کیلئے صنعتی، تجارتی اور ٹرانسپورٹ شعبوں کے درمیان روابط کو معمول پر رکھنا ناگزیر ہے۔

Comments

200 حروف