BR100 Decreased By (-0.06%)
BR30 Increased By (1.22%)
KSE100 Decreased By (-0.07%)
KSE30 Decreased By (-0.47%)
BAFL 59.84 Increased By ▲ 0.82 (1.39%)
BIPL 27.18 Increased By ▲ 0.01 (0.04%)
BOP 35.28 Decreased By ▼ -1.18 (-3.24%)
CNERGY 13.13 Increased By ▲ 1.19 (9.97%)
DFML 18.08 Decreased By ▼ -0.12 (-0.66%)
DGKC 217.01 Decreased By ▼ -1.02 (-0.47%)
FABL 99.95 Decreased By ▼ -0.45 (-0.45%)
FCCL 57.97 Increased By ▲ 0.61 (1.06%)
FFL 16.42 Decreased By ▼ -0.16 (-0.97%)
GGL 24.36 Decreased By ▼ -0.26 (-1.06%)
HBL 326.21 Increased By ▲ 1.59 (0.49%)
HUBC 213.42 Decreased By ▼ -12.22 (-5.42%)
HUMNL 10.81 Increased By ▲ 0.02 (0.19%)
KEL 7.48 Increased By ▲ 0.16 (2.19%)
LOTCHEM 27.75 Increased By ▲ 0.61 (2.25%)
MLCF 102.98 Increased By ▲ 0.91 (0.89%)
OGDC 323.78 Increased By ▲ 4.59 (1.44%)
PAEL 43.90 Increased By ▲ 0.02 (0.05%)
PIBTL 16.68 Decreased By ▼ -0.16 (-0.95%)
PIOC 276.19 Increased By ▲ 1.35 (0.49%)
PPL 229.47 Increased By ▲ 7.92 (3.57%)
PRL 70.11 Increased By ▲ 6.36 (9.98%)
SNGP 103.66 Decreased By ▼ -0.13 (-0.13%)
SSGC 27.11 Decreased By ▼ -0.17 (-0.62%)
TELE 8.72 Increased By ▲ 0.10 (1.16%)
TPLP 15.68 Increased By ▲ 0.70 (4.67%)
TRG 61.13 Decreased By ▼ -2.16 (-3.41%)
UNITY 12.04 Increased By ▲ 0.53 (4.6%)
WTL 1.23 No Change ▼ 0.00 (0%)
رائے

مصنوعی ذہانت پاکستان کو آئینہ دکھانے آ رہی ہے

  • اے آئی پاکستان کو تعلیم کے کئی مراحل پھلانگنے میں مدد دے سکتی ہے، لیکن سنجیدگی کی ضرورت کو نہیں پھلانگ سکتی
شائع اپ ڈیٹ

مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ساتھ پاکستان کے تعلق کو عموماً اسے اپنانے کے سوال تک محدود رکھا جاتا ہے: ملک کتنی تیزی سے یہ ٹیکنالوجی حاصل کر سکتا ہے، لوگوں کو اس کے استعمال کی تربیت دے سکتا ہے اور اے آئی کی معیشت میں اپنے لیے جگہ بنا سکتا ہے؟ تاہم، یہ زاویہ بہت محدود ہے۔

زیادہ مشکل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اے آئی کو دانش مندی اور صائب فیصلے کے ساتھ حکمرانی، تعلیم، تحقیق، کاروبار اور عوامی پالیسی میں استعمال کر سکتا ہے؟

اس سے بھی بنیادی سوال یہ ہے کہ خود تعلیمی نظام کا موجودہ ڈھانچہ، جو ایک مخصوص مدت میں مکمل ہونے والی ڈگریوں اور ایک مرتبہ جاری ہونے والی اسناد کے گرد تشکیل دیا گیا ہے اور ایسے اداروں نے اسے پروان چڑھایا ہے جو اے آئی سے پہلے کی دنیا کے لیے بنائے گئے تھے، کیا اب بھی موزوں ہے؟

اس سوال کا جواب ہمیں بے چین کر دینا چاہیے۔ اے آئی پاکستان میں کسی جادوئی ’ایسکلیٹر‘ کی طرح نہیں آ رہی۔ یہ آئینہ بن کر آ رہی ہے۔ یہ ہمیں دکھائے گی کہ ہمارا تعلیمی نظام کہاں مضبوط ہے، لیکن زیادہ امکان یہی ہے کہ یہ اس کی کمزوریاں بے نقاب کرے گی: رٹہ سسٹم، کمزور خواندگی، ناقص عددی فہم، تحقیق کی محدود عادات، محدود دائرے کی ڈگریاں، بیوروکریٹک جامعات اور ایسا عوامی مکالمہ جو اکثر فکر و تدبر کے بجائے مرتبے کو اہمیت دیتا ہے۔

لہٰذا پاکستان جو سب سے اہم اصلاح کر سکتا ہے، وہ اپنے تعلیمی نظام کی مکمل ازسرنو تشکیل ہے۔ ٹیکس اصلاحات اہم ہیں۔ توانائی کے شعبے میں اصلاحات بھی ضروری ہیں۔ برآمدی پالیسی اہم ہے۔ سرمایہ کاری کا فروغ بھی ضروری ہے۔ لیکن بالآخر ان تمام شعبوں کو ایک ہی رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑتا ہے: ایسی آبادی جو گہرائی سے پڑھنے، آزادانہ غوروفکر، ٹیکنالوجی کو دانش مندی سے استعمال کرنے، مسائل حل کرنے اور بدلتی دنیا کے ساتھ خود کو ڈھالنے کے لیے پوری طرح تیار نہ ہو۔ تعلیم محض بہت سی اصلاحات میں سے ایک اصلاح نہیں؛ یہ وہ بنیادی اصلاح ہے جس پر باقی تمام اصلاحات کی کامیابی کا دارومدار ہے۔

ڈیرون عجم اوغلو اور پاسکوال ریسٹریپو اس حوالے سے ایک مفید فریم ورک پیش کرتے ہیں۔ ان کا کام کی بنیاد پر آٹومیشن کا ماڈل ان ٹیکنالوجیز میں فرق کرتا ہے جو محض موجودہ کاموں میں انسانی محنت کی جگہ لیتی ہیں اور ان ٹیکنالوجیز میں جو ایسے نئے کام پیدا کرتی ہیں جن کے لیے فیصلہ سازی، نگرانی، تخلیقی صلاحیت اور اضافی مہارت درکار ہوتی ہے۔ ان دونوں میں سے کون سا اثر غالب آتا ہے، اس کا فیصلہ مشین اکیلے نہیں کرتی۔ اس کا انحصار اس کے گرد موجود اداروں—اسکولوں، جامعات، کاروباری اداروں، ریگولیٹرز اور ریاست—اور اس بات پر ہوتا ہے کہ لوگ ٹیکنالوجی کو نتیجہ خیز انداز میں استعمال کرنے کے لیے تیار ہیں یا نہیں۔

یہی پاکستان کے لیے اصل خطرہ ہے۔ اگر رٹہ سسٹم پر مبنی تعلیمی نظام طلبہ، اساتذہ اور سرکاری اہلکاروں کے ہاتھ میں اے آئی کے اوزار تو دے دے، لیکن یہ نہ بدلے کہ لوگ سیکھتے، سوچتے اور کام کیسے ہیں، تو نتیجہ تبدیلی نہیں ہوگا۔ اس کے بجائے ’سو سو‘ نوعیت کا نتیجہ سامنے آئے گا، یعنی معمولی معیار کے کام کی تیز تر پیداوار۔ معمولی کارکردگی اگر تیزی سے ہونے لگے تو بھی معمولی ہی رہتی ہے؛ فرق صرف یہ ہوگا کہ اب وہ بہتر فارمیٹنگ کے ساتھ سامنے آئے گی۔

عجم اوغلو اور سائمن جانسن نے ’سو سو ٹیکنالوجیز‘ کے خطرے سے خبردار کیا ہے—ایسی اختراعات جو پیداواری صلاحیت بڑھانے یا زیادہ قدر والے کام پیدا کرنے کے بجائے محض کاموں کو خودکار بنا دیتی ہیں، کیونکہ افرادی قوت اور ان کے گرد موجود اداروں کو ان فوائد سے فائدہ اٹھانے کے لیے ازسرنو منظم ہی نہیں کیا جاتا۔ پاکستان کو بھی بالکل یہی خطرہ درپیش ہے۔ اے آئی ایک سنجیدہ طالب علم کو خیالات تلاش کرنے، مفروضے جانچنے، دلائل مرتب کرنے اور سیکھنے کا عمل بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔ لیکن ایک کمزور نظام میں یہی ٹیکنالوجی ایک سست طالب علم کو ایسا اسائنمنٹ تیار کرنے میں بھی مدد دے سکتی ہے جو بظاہر نہایت عمدہ ہو، مگر اس میں سوچ کا فقدان ہو۔ یہ ایک اچھے استاد کی معاونت کر سکتی ہے، لیکن ایک خراب کلاس روم کی خامیوں پر پردہ بھی ڈال سکتی ہے۔ یہ طرز حکمرانی کو مضبوط بنا سکتی ہے، لیکن اسی پرانے ناقص فیصلوں کے لیے زیادہ نفیس نظر آنے والی فائلیں بھی تیار کر سکتی ہے۔

اسی لیے موجودہ تعلیمی بحران کو پس منظر کا مسئلہ سمجھ کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان اے آئی کے دور میں کسی مضبوط بنیاد کے ساتھ داخل نہیں ہو رہا۔ یونیسف کے مطابق 5 سے 16 سال کی عمر کے تقریباً 2 کروڑ 50 لاکھ بچے اسکول سے باہر ہیں۔ ورلڈ بینک کے ’لرننگ پاورٹی‘ کے اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پرائمری تعلیم کی آخری عمر کے بچوں کی ایک بہت بڑی تعداد، اسکول سے باہر بچوں کو بھی شامل کرنے کے بعد، پڑھنے کی بنیادی صلاحیت سے محروم ہے۔ سادہ الفاظ میں، لاکھوں بچے کلاس روم سے باہر ہیں اور کلاس روم کے اندر موجود بہت سے بچے بھی مطلوبہ تعلیم حاصل نہیں کر رہے۔ یہی وہ افسوس ناک بنیاد ہے جس پر اے آئی کا دور پاکستان میں وارد ہوا ہے۔

مالی صورتحال بھی حوصلہ افزا نہیں۔ وفاقی بجٹ 2026-27 کی ’بجٹ اِن بریف‘ کے مطابق تعلیم کے امور اور خدمات کے جاری اخراجات تقریباً 117.7 ارب روپے ہیں۔ یونیسف نے نشاندہی کی ہے کہ پاکستان کے مجموعی سرکاری تعلیمی اخراجات حالیہ عرصے میں جی ڈی پی کے تقریباً 0.8 فیصد رہے ہیں، جو سنجیدہ تعلیمی سرمایہ کاری سے وابستہ 4 سے 6 فیصد جی ڈی پی کے عمومی پیمانے سے کہیں کم ہے۔ یہ تعلیمی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی کوشش نہیں بلکہ پالیسی کا لبادہ اوڑھے محض رسمی مالی مختص ہے۔ کوئی ملک معمولی درجے کی تعلیم کے بل بوتے پر اے آئی کے دور میں داخل نہیں ہو سکتا اور پھر یہ شکایت بھی نہیں کر سکتا کہ مستقبل نے کسی اور ملک کو اپنا ٹھکانہ کیوں بنا لیا۔

پاکستان کو پہلے لوگوں کو تعلیم کے دائرے میں لانا ہوگا، لیکن انہیں اسی سست، کتابوں اور امتحانات کے بوجھ تلے دبے نظام سے گزار کر نہیں جس نے پہلے ہی بہت سوں کو ناکام کیا ہے۔ ملک کو ابتدا ہی سے ایک متوازی قومی تعلیمی راستے کی ضرورت ہے جو لچک دار، عملی اور جدید ہو: کمیونٹی لرننگ ہبز، شام اور ہفتہ وار کلاسیں، موبائل کلاس رومز، ڈیجیٹل اسباق، خواندگی اور عددی فہم کے تیز رفتار پروگرام، اردو اور مقامی زبانوں میں اے آئی کی مدد سے تدریس، اور نشستوں میں گزارے گئے وقت کے بجائے قابلیت کی بنیاد پر سرٹیفکیشن۔

یہ وہ شعبہ ہے جہاں پاکستان ترقی کے کئی مراحل پھلانگ سکتا ہے۔ جن بچوں اور نوجوانوں کو کبھی مناسب تعلیم نہیں ملی، انہیں برسوں ایک ناکام ماڈل کے برابر پہنچنے میں صرف کرنے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہیں پڑھنے، اعداد، زبان، استدلال، ابلاغ اور ڈیجیٹل اعتماد کی مضبوط بنیاد فراہم کی جائے اور ابتدائی عمر ہی سے ایسے ٹولز سے متعارف کرایا جائے جو انہیں آزادانہ طور پر سیکھنے میں مدد دیں۔ بڑی عمر کے افراد کے لیے تعلیم کا روزگار سے براہِ راست تعلق ہونا چاہیے، جس میں زراعت، مرمت کا کام، لاجسٹکس، صحت عامہ میں معاونت، ڈیزائن، فری لانسنگ، ڈیٹا سے متعلق کام، چھوٹے کاروبار اور جہاں موزوں ہو وہاں کوڈنگ شامل ہو۔ مقصد صرف ڈگری ہولڈرز پیدا کرنا نہیں بلکہ قابل اور باصلاحیت افراد تیار کرنا ہونا چاہیے۔

اے آئی تجربے کی اہمیت کو بھی بدل رہی ہے۔ ایسی دنیا میں جہاں معلومات فوری طور پر تیار کی جا سکتی ہیں، عملی زندگی سے حاصل ہونے والی بصیرت کی قدر کم نہیں بلکہ مزید بڑھ جاتی ہے۔ مختلف شعبوں میں کام کرنے، لوگوں سے معاملات کرنے، ناکامی کا سامنا کرنے، محدود وسائل میں راستہ نکالنے اور پالیسیوں کو عملی زندگی سے ٹکراتے دیکھنے والا شخص اے آئی سے اس فرد کے مقابلے میں بہتر سوالات پوچھ سکتا ہے جو صرف خوبصورت پرامپٹ لکھنا جانتا ہو۔ اے آئی وسیع تجربہ رکھنے والوں کے لیے زیادہ فائدہ مند ہے۔ یہ ان لوگوں کی مدد کرتی ہے جو زراعت کو پانی، توانائی کو برآمدات، تعلیم کو روزگار اور ٹیکنالوجی کو معاشرے سے جوڑ سکتے ہیں۔ محدود دائرے کا ماہر ختم نہیں ہو رہا، لیکن وہ ماہر ضرور مشکل میں ہے جو اپنے شعبے کی حدود سے آگے دیکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔

یہی وجہ ہے کہ اسناد کا پرانا نظام بھی تیزی سے ناکافی ہوتا جا رہا ہے۔ روایتی راستہ—برسوں کی تعلیم کے بعد ایک ایسی ڈگری حاصل کرنا جسے زندگی بھر کی سند سمجھا جائے—اس معیشت کے لیے بنایا گیا تھا جہاں مہارتیں آہستہ آہستہ متروک ہوتی تھیں۔ وہ دنیا اب بدل رہی ہے۔ جنریٹو اے آئی بہت سی مخصوص مہارتوں کی افادیت کی مدت مختصر کر رہی ہے۔ 22 سال کی عمر میں کسی شخص نے کیا سیکھا تھا، اس کی سند 35 سال کی عمر میں وہ کیا کر سکتا ہے، اس بارے میں بتدریج کم معلومات فراہم کر رہی ہے۔

پاکستان کو پرانی اسناد کو محض طویل یا مختصر کرنے کی ضرورت نہیں۔ اسے تعلیم اور سرٹیفکیشن کے درمیان ایک نئے تعلق کی ضرورت ہے۔ بنیادی تعلیم کو محفوظ اور مضبوط بنانا ہوگا: خواندگی، عددی فہم، استدلال، زبان، اخلاقیات اور شہری شعور۔ اس بنیاد کے بعد نظام کو مرحلہ وار، باہم منسلک اور قابلِ تجدید سرٹیفکیشن کی طرف بڑھنا چاہیے۔ لوگوں کو زندگی کے مختلف مراحل میں دوبارہ تعلیم حاصل کرنے، نئی صلاحیتیں سیکھنے، ان کا ثبوت فراہم کرنے اور کام کی نوعیت بدلنے کے ساتھ اپنی اسناد کی تجدید کا موقع ملنا چاہیے۔

یہ اس لیے اہم ہے کہ لیبر مارکیٹ اب صرف مستقل ملازمتوں کے عنوانات کے گرد منظم نہیں رہی۔ عجم اوغلو اور ڈیوڈ آٹور کی لیبر مارکیٹ پولرائزیشن سے متعلق تحقیق نے جنریٹو اے آئی سے پہلے ہی ظاہر کر دیا تھا کہ معمول کے ذہنی کام دباؤ کا شکار ہیں۔ اے آئی اس دباؤ کو مزید تیز کر رہی ہے۔ محفوظ راستہ یہ نہیں کہ پرانی ڈگری کے حصول کی دوڑ کو مزید طویل کر دیا جائے، بلکہ ایسا نظام تشکیل دیا جائے جس میں لوگ وقت کے ساتھ اپنی تصدیق شدہ صلاحیتیں مسلسل بڑھاتے رہیں۔ ڈگری کی اہمیت برقرار رہ سکتی ہے، لیکن اسے بالغ زندگی کے آغاز پر ایک مرتبہ لگنے والی ایسی مستقل مہر نہیں سمجھنا چاہیے جو پھر کبھی تبدیل نہ ہو۔

ایرک برائن یولفسن کی ’ٹورنگ ٹریپ‘ سے متعلق تنبیہ بھی یہاں اہم ہے۔ وہ معیشتیں جو مشینوں کو انسانوں کی نقل کرنے کے لیے خودکاری کی دوڑ میں شامل کرتی ہیں، فوائد کو چند ہاتھوں تک محدود کر سکتی ہیں اور اس بڑے موقع سے محروم رہ سکتی ہیں جس میں انسانوں کی صلاحیتوں کو بڑھا کر انہیں زیادہ قدر والے نئے کام کرنے کے قابل بنایا جائے۔ ایک بار جاری ہونے والی اسناد پر مبنی نظام اس جال کو مزید مضبوط کرتا ہے۔ وہ لوگوں کی قابلیت کو ایک مرتبہ تسلیم کرتا ہے اور پھر خود کو بدلنے کی پوری ذمہ داری فرد پر ڈال دیتا ہے۔ جدید نظام میں تعلیم کو فارغ التحصیل ہونے کے بعد فرد کی نجی جدوجہد نہیں بلکہ مسلسل عوامی بنیادی ڈھانچے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

جامعات کو اس تبدیلی میں مرکزی کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہیں ایسے مراکز بننا چاہیے جہاں معاشرہ یہ سیکھے کہ اے آئی کو دانش مندی کے ساتھ کیسے استعمال کرنا ہے، بہتر سوالات کیسے اٹھانے ہیں، مفروضوں کو کیسے جانچنا ہے، ٹیکنالوجی کو اخلاقیات کے ساتھ کیسے جوڑنا ہے اور سائنس، معاشیات، ادب، تاریخ، کاروبار اور عوامی پالیسی کے درمیان ربط کیسے قائم کرنا ہے۔ ان کا کام صرف ڈگریاں دینا نہیں بلکہ ایسے شہری اور ماہرین تیار کرنا ہے جو مختلف شعبوں کی حدود سے باہر سوچ سکیں۔

پاکستانی جامعات فی الحال اس ذمہ داری کے لیے پوری طرح تیار نہیں۔ مسئلہ صرف کم فنڈنگ نہیں، اگرچہ کم فنڈنگ ایک حقیقی مسئلہ ہے۔ بنیادی مسئلہ ساخت کا ہے۔ بہت سی جامعات فکری برادریوں کے بجائے بیوروکریٹک مشینوں کی طرح کام کرتی ہیں۔ انتظامی امور پر اکثر تقرریاں، بیوروکریٹک درجہ بندیاں اور سرکاری شعبے کی روایات حاوی ہوتی ہیں۔ وائس چانسلرز کا انتخاب اکثر سیاسی اور بیوروکریٹک نیٹ ورکس کے ذریعے ہوتا ہے۔ بورڈز اور سنڈیکیٹس میں بھی اکثر علمی دنیا کے بجائے سرکاری افسر شاہی کی جھلک نمایاں ہوتی ہے۔ ترقی کے نظام میں سینیارٹی، وفاداری اور محفوظ طرز عمل کو اصل کام، بہتر تدریس یا سنجیدہ تحقیق کے مقابلے میں زیادہ اہمیت مل سکتی ہے۔

یہ محض اتفاقی نوعیت کی خرابی نہیں بلکہ معیار کی یقین دہانی کی زبان میں لپٹا ہوا کنٹرول کا ایک پورا نظام ہے۔ منظوری اور ضابطہ کاری کے عمل میں اکثر نتائج کے بجائے وسائل اور طریقہ کار پر توجہ دی جاتی ہے—عمارتیں، فارم، عہدے، کمیٹیاں اور کاغذی کارروائی—جبکہ اصل نتائج، مثلاً طلبہ کی تعلیم، تحقیق کا معیار، روزگار کی اہلیت، فکری خودمختاری اور معاشرے میں کردار، پسِ پشت چلے جاتے ہیں۔ ندیم الحق اور ان کے ساتھی پاکستان میں جامعات کی تحقیقی ثقافت کی کمزوری اور ایسے ادارے تشکیل دینے کی ضرورت پر تفصیل سے لکھ چکے ہیں جہاں اطاعت اور رسمی تقاضوں کے بجائے خیالات اور علمی کام کی قدر کی جائے۔ اے آئی کے دور میں یہ دلیل مزید اہم ہو گئی ہے۔

وجہ سادہ ہے۔ اگر اے آئی منظور شدہ علم کو کسی بھی لیکچرر سے زیادہ تیزی سے دہرا سکتی ہے تو وہ جامعات جو محض منظور شدہ علم کی تکرار کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں، اپنے وجود کا جواز کھو بیٹھیں گی۔ اعلیٰ تعلیم کی اصل قدر فیصلہ سازی کی صلاحیت پیدا کرنے میں ہوگی: یہ سمجھنا کہ کون سا سوال اہم ہے، کون سا مفروضہ کمزور ہے، کون سا ذریعہ ناقابلِ اعتماد ہے، کون سا ماڈل نامکمل ہے اور کون سا جواب تکنیکی اعتبار سے درست اور نفیس ہونے کے باوجود سماجی طور پر احمقانہ ہو سکتا ہے۔ ایسی صلاحیت ان اداروں میں پیدا نہیں کی جا سکتی جو مرتبے، خوف اور یکسانیت پر قائم ہوں۔

ضروری اصلاح محض ظاہری نوعیت کی نہیں۔ پاکستان کو جامعات کی قیادت کے لیے حقیقی معنوں میں میرٹ پر مبنی انتخابی عمل، ایسے بورڈز درکار ہیں جن میں ماہرینِ تعلیم، اختراع کار، آجر اور آزاد مفکرین شامل ہوں؛ ترقی اور فنڈنگ کے ایسے معیار چاہئیں جو تحقیق کے معیار، تدریس، ہم مرتبہ جائزے، طلبہ کی تعلیم اور معاشرے میں کردار سے منسلک ہوں؛ اور علمی آزادی اور مباحثے کا تحفظ بھی ضروری ہے۔ جامعات کو خودمختار مراکزِ تحقیق و جستجو سمجھا جانا چاہیے، نہ کہ ایسے سرکاری محکمے جو اتفاقاً ڈگریاں بھی جاری کرتے ہیں۔

ایک اور ثقافتی ناکامی بھی ہے جس کا ذکر ضروری ہے۔ پاکستانی جامعات ایک دوسرے سے مطلوبہ حد تک علمی تبادلہ نہیں کرتیں۔ ادبی انجمنیں، پالیسی فورمز، جرنل کلبز، مہمان لیکچرز، بین الجامعات مباحثے، ترجمے کے منصوبے اور سنجیدہ عوامی سیمینار یا تو بہت کم ہیں، کبھی کبھار منعقد ہوتے ہیں یا محض رسمی کارروائی بن کر رہ گئے ہیں۔ ہمارے پاس کیمپس تو ہیں، لیکن کیمپسوں کے درمیان مکالمہ کم ہے۔ ہمارے پاس شعبے تو ہیں، مگر مختلف شعبوں کے درمیان علمی رابطہ اور مکالمہ ناکافی ہے۔ ایک زندہ علمی ثقافت کے لیے طلبہ، اساتذہ، کتابوں، خیالات، تنقید اور اختلافِ رائے کا مسلسل تبادلہ ضروری ہے۔

یہی بات وسیع تر علمی طبقے پر بھی صادق آتی ہے۔ عوامی مباحثے کا بہت بڑا حصہ محض نمائش بن چکا ہے: پینل، شہرت، نعرے اور سوشل میڈیا کی داد۔ اس کے مقابلے میں مسلسل مطالعے، دیانت دارانہ اختلافِ رائے، ہم مرتبہ تنقید اور خیالات کو پروان چڑھانے کی سست مگر ضروری محنت بہت کم ہے۔ جہاں ادارے گہرائی کا تقاضا نہیں کرتے، وہاں سطحی دانشوری پنپتی ہے۔ اے آئی اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دے گی، اگر جامعات اور سنجیدہ اہلِ فکر معیار بلند نہ کریں، کیونکہ اب ایک سطحی دلیل کو بھی بہترین زبان اور عمدہ قواعد کے ساتھ پیش کرنا آسان ہے۔ لباس بہتر ہو جاتا ہے، مگر اندر موجود ذہن اب بھی چپل پہنے ہو سکتا ہے۔

لہٰذا پاکستان کے اصلاحاتی ایجنڈے کو تین ایسی چیزوں کو آپس میں جوڑنا ہوگا جن پر عموماً الگ الگ بات کی جاتی ہے: بنیادی تعلیم، جامعات کی حکمرانی اور زندگی بھر جاری رہنے والی سرٹیفکیشن۔ بنیادی تعلیم کو ان شہریوں کو سیکھنے کے عمل میں شامل کرنا ہوگا جو اس سے محروم رہے ہیں اور انہیں مضبوط بنیادی صلاحیتیں فراہم کرنا ہوں گی۔ جامعات کو میرٹ پر چلنے والے ایسے ادارے بننا ہوگا جو آزادانہ سوچ کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ سرٹیفکیشن کو مرحلہ وار اور قابلِ تجدید بنانا ہوگا تاکہ کام کی نوعیت بدلنے کے ساتھ کارکن اور پیشہ ور افراد خود کو بھی ڈھال سکیں۔ یہ الگ الگ خانے نہیں بلکہ ایک ہی نظام کے اجزا ہیں۔

ریاست کا بھی اس میں کردار ہے، لیکن اسے کنٹرول کے مترادف نہیں سمجھنا چاہیے۔ حکومت کو قومی تعلیمی اہداف مقرر کرنے، تعلیم تک رسائی کی مالی معاونت، معیار کا تحفظ، نتائج کی اشاعت، اساتذہ کی تربیت، تحقیق کے لیے فنڈز اور تعلیم سے محروم افراد کے لیے تعلیمی راستے پیدا کرنے چاہئیں۔ لیکن اسے بیوروکریٹک تقرریوں، رسمی تقاضوں اور سیاسی مداخلت کے ذریعے جامعات کا گلا نہیں گھونٹنا چاہیے۔ کوئی معاشرہ فائلوں کے ذریعے تخلیقی صلاحیت کا حکم نہیں دے سکتا؛ اسے ایسا ماحول پیدا کرنا ہوتا ہے جہاں صلاحیتیں پنپ سکیں۔

اس کا مطلب تخصص کی مخالفت بھی نہیں۔ پاکستان کو بدستور ڈاکٹر، انجینئر، ماہرِ معاشیات، اساتذہ، وکلا، ڈیٹا سائنس دان، ٹیکنیشن اور ہنرمند کارکن درکار ہوں گے۔ مسئلہ تخصص یا ادارہ جاتی مرتبے کو ایسی چیز سمجھنے کا ہے جو ایک مرتبہ حاصل کرلی جائے اور پھر کبھی اس کی صلاحیت جانچنے کی ضرورت نہ ہو۔ ملک کو ایسے ماہرین درکار ہیں جو نظام کو سمجھتے ہوں، ایسے پالیسی ساز جو منڈیوں سے واقف ہوں، ایسے اساتذہ جو اطاعت کے بجائے تجسس کو فروغ دیں اور ایسے کاروباری رہنما جو معاشرے کو سمجھتے ہوں۔

اے آئی اپنے فوائد خود بخود سب میں تقسیم نہیں کرے گی۔ نئے امکانات وسیع پیمانے پر تقسیم ہوں گے یا چند ہاتھوں تک محدود رہیں گے، اس کا فیصلہ ادارے کریں گے۔ پاکستان کے معاملے میں فیصلہ کن ادارے صرف وزارتیں، ریگولیٹرز اور منڈیاں نہیں بلکہ اسکول، کالج، جامعات اور سرٹیفکیشن کے نظام بھی ہیں۔ اگر یہ ادارے سخت، کم وسائل کے حامل، بیوروکریٹک اور مرتبے کے اسیر رہے تو اے آئی پاکستان کو بچا نہیں سکے گی۔ وہ صرف اس کی کمزوری کو زیادہ تیزی سے بے نقاب کرے گی۔

موقع اب بھی موجود ہے۔ پاکستان اے آئی کے ذریعے ان بچوں تک معیاری تدریس پہنچا سکتا ہے جو تعلیمی نظام سے باہر رہ گئے ہیں، اساتذہ کو بہتر اسباق کی تیاری میں مدد دے سکتا ہے، مقامی زبانوں میں طلبہ کی معاونت کر سکتا ہے، جامعات کے درمیان تحقیقی نیٹ ورک قائم کر سکتا ہے، عوامی پالیسی کے تجزیے کو جدید بنا سکتا ہے اور زندگی بھر جاری رہنے والے تعلیمی نظام کی بنیاد رکھ سکتا ہے۔ لیکن اس کے لیے سوچ سمجھ کر کی جانے والی اصلاحات، سنجیدہ سرمایہ کاری، ادارہ جاتی خودمختاری اور سیکھنے کو قومی ترجیح بنانے کی ضرورت ہوگی۔ اس کے لیے کوئی شارٹ کٹ نہیں۔

اے آئی پاکستان کو تعلیم کے کئی مراحل پھلانگنے میں مدد دے سکتی ہے، لیکن سنجیدگی کی ضرورت کو نہیں پھلانگ سکتی۔

انتخاب واضح ہے۔ پاکستان یا تو اے آئی کو ایک غیر اصلاح شدہ نظام کے اوپر سجانے کے لیے استعمال کر سکتا ہے، جس سے صرف بہتر انداز میں پیش کی جانے والی معمولی کارکردگی پیدا ہوگی، یا پھر اسے سب سے اہم قومی اصلاح کا محرک بنا سکتا ہے: ایسا تعلیمی نظام تشکیل دینا جو تجسس، فیصلہ سازی، تجربے، خودمختاری اور مسلسل صلاحیت سازی کے گرد استوار ہو۔

پہلا راستہ آسان مگر بے سود ہے۔ دوسرا مشکل مگر ناگزیر۔ مستقبل پاکستان کے کاغذی کام مکمل ہونے کا انتظار نہیں کرے گا۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف