BR100 Decreased By (-0.91%)
BR30 Decreased By (-1.47%)
KSE100 Decreased By (-0.78%)
KSE30 Decreased By (-0.75%)
BAFL 56.47 Decreased By ▼ -0.40 (-0.7%)
BIPL 24.63 Decreased By ▼ -0.33 (-1.32%)
BOP 30.12 Decreased By ▼ -0.23 (-0.76%)
CNERGY 12.98 Decreased By ▼ -0.14 (-1.07%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.22 Decreased By ▼ -5.23 (-2.72%)
FABL 93.71 Decreased By ▼ -0.43 (-0.46%)
FCCL 51.65 Decreased By ▼ -1.14 (-2.16%)
FFL 14.49 Decreased By ▼ -0.23 (-1.56%)
GGL 19.04 Decreased By ▼ -0.52 (-2.66%)
HBL 303.78 Decreased By ▼ -2.32 (-0.76%)
HUBC 198.96 Decreased By ▼ -2.46 (-1.22%)
HUMNL 9.85 Decreased By ▼ -0.31 (-3.05%)
KEL 6.06 Decreased By ▼ -0.03 (-0.49%)
LOTCHEM 26.17 Decreased By ▼ -0.29 (-1.1%)
MLCF 91.23 Decreased By ▼ -1.93 (-2.07%)
OGDC 313.39 Decreased By ▼ -3.34 (-1.05%)
PAEL 35.24 Decreased By ▼ -0.39 (-1.09%)
PIBTL 14.71 Increased By ▲ 0.03 (0.2%)
PIOC 239.62 Decreased By ▼ -3.59 (-1.48%)
PPL 221.36 Decreased By ▼ -5.55 (-2.45%)
PRL 91.22 Decreased By ▼ -1.80 (-1.94%)
SNGP 90.87 Decreased By ▼ -0.97 (-1.06%)
SSGC 23.30 Decreased By ▼ -0.51 (-2.14%)
TELE 7.61 Decreased By ▼ -0.19 (-2.44%)
TPLP 12.56 Decreased By ▼ -0.41 (-3.16%)
TRG 55.79 Decreased By ▼ -0.77 (-1.36%)
UNITY 8.02 Decreased By ▼ -0.05 (-0.62%)
WTL 1.00 Decreased By ▼ -0.01 (-0.99%)
دنیا

کانگریس اے آئی صنعت کو ’کاروبار سے باہر‘ کرنے کے درپے ہے، ٹرمپ

  • ٹرمپ کے بیان سے واشنگٹن میں تیزی سے ترقی کرتی اے آئی صنعت کو ریگولیٹ کرنے کے حوالے سے جاری بحث میں شدت کی عکاسی ہوتی ہے
شائع اپ ڈیٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی کانگریس اے آئی صنعت کو ’’کاروبار سے باہر کرنے‘‘ کے لیے ضوابط نافذ کرنا چاہتی ہے۔ انہوں نے یہ بات جمعہ کو شائع ہونے والے پنچ باؤل نیوز کے ایک انٹرویو میں کہی ہے۔

ٹرمپ کے بیان سے واشنگٹن میں تیزی سے ترقی کرتی ہوئی اے آئی صنعت کو کس حد تک سخت ضوابط کا پابند بنایا جائے، اس پر جاری بحث میں شدت کی عکاسی ہوتی ہے۔ یہ صنعت بڑی حد تک نئے وفاقی قوانین کے بغیر ہی کام کرتی رہی ہے۔ قانون سازوں نے اس حوالے سے متعدد تجاویز پیش کی ہیں، تاہم وہ تاحال آگے نہیں بڑھ سکیں۔ ان میں ایک ایسا بل بھی شامل ہے جس کے تحت جدید ترین اے آئی ماڈلز تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنے ماڈلز کا آزادانہ سکیورٹی آڈٹ کرانا ہوگا۔

اے آئی ریگولیشن سے متعلق بحث گزشتہ چند ہفتوں کے دوران اس وقت مزید اہم ہوگئی جب اوپن اے آئی اور اینتھروپک نے بتایا کہ سکیورٹی ٹیسٹنگ کے دوران ان کے اے آئی سسٹمز قابو سے باہر ہوگئے تھے۔

اوپن اے آئی کے اے آئی ایجنٹ نے ایک ہیک شروع کیا جس کے نتیجے میں اے آئی اسٹارٹ اپ ہگنگ فیس کے انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا۔ ہگنگ فیس ایک ایسا پلیٹ فارم ہے جہاں ڈویلپرز اے آئی ماڈلز کے لیے کوڈ محفوظ کرنے کے ساتھ اس پر باہمی تعاون بھی کرتے ہیں۔

اس واقعے سے ظاہر ہوا کہ اے آئی کی بڑھتی ہوئی صلاحیتیں پہلے ہی وہ سکیورٹی خطرات پیدا کر رہی ہیں جن کا ماہرین طویل عرصے سے خدشہ ظاہر کرتے رہے ہیں، جبکہ جدید ترین اے آئی ماڈلز تیار کرنے والی بڑی کمپنیوں کو بھی ان خامیوں کا اچانک سامنا ہوسکتا ہے جنہیں ان کے ماڈلز خود استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

دریں اثنا، محکمہ تجارت کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسٹینڈرڈز اینڈ ٹیکنالوجی (این آئی ایس ٹی) نے جمعہ کو اے آئی سسٹمز کی جانچ کے لیے رہنما اصولوں کی تجویز پیش کرتے ہوئے عوام سے رائے طلب کی۔ این آئی ایس ٹی کا بنیادی کام سائنس اور ٹیکنالوجی کے لیے معیارات وضع کرنا ہے۔

این آئی ایس ٹی کے مطابق یہ رہنما اصول ان اداروں کے لیے ہیں جو ’’اپنے اے آئی سسٹمز کے اثرات کی پیمائش‘‘ کرنا چاہتے ہیں۔

واشنگٹن ڈی سی میں قائم اے آئی اور قومی سلامتی پر توجہ مرکوز کرنے والے غیر منافع بخش ادارے فرنٹیئر سکیورٹی انسٹی ٹیوٹ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر آئیک ہیرس نے کہا کہ یہ رہنما اصول ’’وفاقی حکومت اور اس کے ٹھیکیداروں کی جانب سے اے آئی سسٹمز کی جانچ کے طریقہ کار کو معیاری بنانے کی جانب پہلا قدم ہیں۔‘‘

Comments

200 حروف