BR100 Increased By (1.9%)
BR30 Increased By (1.3%)
KSE100 Increased By (1.66%)
KSE30 Increased By (1.87%)
BAFL 58.97 Increased By ▲ 0.28 (0.48%)
BIPL 27.06 Increased By ▲ 0.06 (0.22%)
BOP 34.75 Increased By ▲ 1.05 (3.12%)
CNERGY 11.06 Increased By ▲ 0.05 (0.45%)
DFML 18.11 Increased By ▲ 0.05 (0.28%)
DGKC 216.99 Increased By ▲ 4.96 (2.34%)
FABL 102.34 Increased By ▲ 2.20 (2.2%)
FCCL 56.42 Increased By ▲ 1.28 (2.32%)
FFL 16.41 Increased By ▲ 0.31 (1.93%)
GGL 23.81 Increased By ▲ 0.06 (0.25%)
HBL 322.04 Increased By ▲ 15.05 (4.9%)
HUBC 221.52 Increased By ▲ 3.04 (1.39%)
HUMNL 10.74 Increased By ▲ 0.04 (0.37%)
KEL 7.32 Increased By ▲ 0.06 (0.83%)
LOTCHEM 27.12 Increased By ▲ 0.21 (0.78%)
MLCF 97.94 Increased By ▲ 2.01 (2.1%)
OGDC 316.30 Increased By ▲ 2.19 (0.7%)
PAEL 42.30 Increased By ▲ 0.38 (0.91%)
PIBTL 16.78 Increased By ▲ 0.04 (0.24%)
PIOC 269.38 Increased By ▲ 2.21 (0.83%)
PPL 220.69 Increased By ▲ 2.97 (1.36%)
PRL 63.65 Increased By ▲ 0.95 (1.52%)
SNGP 106.24 Decreased By ▼ -0.56 (-0.52%)
SSGC 27.08 Increased By ▲ 0.34 (1.27%)
TELE 8.73 Increased By ▲ 0.25 (2.95%)
TPLP 14.78 Decreased By ▼ -0.16 (-1.07%)
TRG 61.41 Increased By ▲ 0.74 (1.22%)
UNITY 11.14 Increased By ▲ 1.01 (9.97%)
WTL 1.24 Increased By ▲ 0.03 (2.48%)
دنیا

بھارتی پارلیمانی پینل کا مودی کی ویڈیو ہٹانے پر میٹا سے جواب طلب

  • میٹا کی ملکیت والے فیس بک اور انسٹاگرام سے مودی کی ویڈیو عارضی طور پر ہٹا دی گئی، تاہم بعد میں اسے دوبارہ بحال کر دیا گیا
شائع اپ ڈیٹ

بھارتی پارلیمنٹ کی ایک کمیٹی نے بدھ کو میٹا کے چیف ایگزیکٹو مارک زکربرگ سے وزیراعظم نریندر مودی کی ایک ویڈیو عارضی طور پر ہٹانے پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا ہے۔

دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والے ملک بھارت میں میٹا کے صارفین کی تعداد سب سے زیادہ ہے، جہاں کروڑوں افراد فیس بک، انسٹاگرام اور واٹس ایپ استعمال کرتے ہیں۔

23 جولائی کو نوجوانوں کی قیادت میں ہونے والے احتجاج کے دوران طلبہ سے خطاب پر مشتمل مودی کی ویڈیو کو میٹا کی ملکیت والے فیس بک اور انسٹاگرام سے کچھ دیر کے لیے ہٹا دیا گیا تھا، تاہم بعد ازاں اسے دوبارہ بحال کر دیا گیا۔

میٹا کا کہنا ہے کہ ویڈیو ہٹانا ایک تکنیکی خرابی کا نتیجہ تھا۔

تاہم پارلیمانی کمیٹی برائے مواصلات و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سربراہ نشی کانت دوبے نے کہا کہ کمیٹی اس معاملے کا ذمہ دار میٹا کو قرار دیتی ہے۔

حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن پارلیمنٹ دوبے نے کہا، ”وزیراعظم کی ویڈیو حذف کرنا کسی ثالث (انٹرمیڈیری) کا نہیں بلکہ ایک پبلشر کا عمل تھا۔“

انہوں نے مزید کہا، ”مارک زکربرگ کو تین دن کے اندر معافی مانگنا ہوگی۔“

بھارت کی پارلیمانی قائمہ کمیٹیاں حکومتی پالیسیوں کا جائزہ لیتی ہیں اور سرکاری حکام یا کمپنیوں کے عہدیداروں کو وضاحت کے لیے طلب کر سکتی ہیں۔

تاہم ان کمیٹیوں کو خود جرمانے عائد کرنے، قانونی تحفظ واپس لینے یا کسی کے خلاف مقدمہ چلانے کا اختیار حاصل نہیں۔ آن لائن پلیٹ فارمز کے خلاف کوئی بھی کارروائی موجودہ قوانین کے تحت حکومت یا عدالتیں ہی کر سکتی ہیں۔

دوبے نے بتایا کہ کمیٹی نے وزارتِ داخلہ اور وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کو خط لکھ کر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا، ”اگر زکربرگ نے معافی نہ مانگی تو ان کے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو حاصل تمام ’سیف ہاربر‘ قانونی تحفظات ختم کر دیے جانے چاہییں۔“

بھارتی میڈیا نے بدھ کو رپورٹ کیا کہ میٹا کے حکام کو ویڈیو عارضی طور پر ہٹانے کی وضاحت کے لیے طلب کر لیا گیا ہے۔

دوسری جانب خبر رساں ادارے اے ایف پی کی جانب سے رابطہ کیے جانے پر میٹا نے فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔

مودی نے 23 جولائی کو، کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی قیادت میں ہونے والے احتجاج کے عروج کے دوران، براہِ راست کیمرے سے خطاب پر مشتمل یہ عمودی (ورٹیکل) ویڈیو پوسٹ کی تھی۔

یہ احتجاج، جو نئی دہلی سے شروع ہوئے، ابتدا میں امتحانی بے ضابطگیوں کے خلاف تھا، تاہم بعد ازاں یہ روزگار، نوجوانوں کے مواقع اور ناقدین کے بقول مودی حکومت کے بڑھتے ہوئے آمرانہ طرزِ حکمرانی کے خلاف وسیع تحریک میں تبدیل ہو گیا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کے سرگرم صارف مودی نے نوجوانوں تک رسائی کے لیے پہلی مرتبہ انسٹاگرام پر ورٹیکل ویڈیوز کا سہارا لیا۔

ویڈیو میں مودی نے طلبہ کو یقین دلایا تھا کہ حکومت امتحانی پرچوں کے افشا (پیپر لیک) کے خلاف مزید سخت قوانین اور سخت سزائیں متعارف کرائے گی۔

Comments

200 حروف