پاکستان ناکام نہیں ہوا، ملک اصلاحات کے نئے دور میں داخل ہو چکا ہے، وفاقی وزیر
- "ہمارے نوجوان کاکروچ نہیں، اقبال کے شاہین ہیں"، احسن اقبال
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال نے پیر کو اس تاثر کو مسترد کر دیا کہ پاکستان کا قومی نظام ناکام ہو چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک اداروں، طرزِ حکمرانی اور قومی ترجیحات کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے اصلاحات کے نئے دور میں داخل ہو چکا ہے۔
سرکاری بیان کے مطابق، پاکستان کے 79ویں یومِ آزادی اور قائداعظم محمد علی جناح کی 150ویں سالگرہ کی مناسبت سے قومی ترانے کی تقریبِ رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا، ”یہ نظام کی ناکامی کا نہیں بلکہ قومی اصلاحات کا دور ہے۔“
انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک نئی صبح کی دہلیز پر کھڑا ہے، جہاں امید، عزم، قومی یکجہتی اور ترقی کے نئے امکانات ملک کی سمت کا تعین کر رہے ہیں۔
احسن اقبال نے کہا کہ 25 کروڑ سے زائد آبادی والے ملک کو درپیش چیلنجز سے صرف منتخب نمائندے نہیں نمٹ سکتے۔ انہوں نے نوجوانوں، ماہرین، نجی شعبے، سول سوسائٹی اور ریاستی اداروں پر زور دیا کہ وہ قومی ترقی کے عمل میں مشترکہ کردار ادا کریں۔
انہوں نے کہا، ”پائیدار قومی ترقی کے لیے اصلاحات کا تسلسل، قومی اتفاقِ رائے اور مشترکہ ذمہ داری ناگزیر ہے۔“
وفاقی وزیر نے نوجوانوں کو پاکستان کی سب سے بڑی طاقت اور امید قرار دیتے ہوئے ان کی صلاحیتوں سے متعلق منفی تاثر کو مسترد کیا۔
انہوں نے کہا، ”ہمارے نوجوان کاکروچ نہیں، اقبال کے شاہین ہیں،“ اور نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اعتماد، بلند حوصلے اور بہترین کارکردگی کے جذبے کے ساتھ پاکستان کے مستقبل کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں۔
احسن اقبال کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے گزشتہ جمعرات اسلام آباد میں پہلی اکنامک سمٹ 2026 سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کا نظامِ حکمرانی ”منہدم“ ہو چکا ہے اور عوام تک فیصلہ سازی اور سرکاری خدمات کی مؤثر رسائی کے لیے نئے انتظامی یونٹس قائم کرنے کی ضرورت ہے۔
محسن نقوی نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا تھا کہ وہ ساختی اصلاحات پر قومی اتفاقِ رائے پیدا کریں، کیونکہ ان کے بقول عارضی اقدامات سے ملک کو درپیش انتظامی مسائل حل نہیں کیے جا سکتے۔
احسن اقبال نے کہا کہ حکومت مختلف پروگراموں اور تربیتی منصوبوں کے ذریعے جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس)، ڈیجیٹل مہارتوں اور مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ تعلیم میں سرمایہ کاری کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا، ”نوجوان صرف پاکستان کا مستقبل نہیں بلکہ پاکستان کا حال بھی ہیں۔“
ملک کی معاشی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2022 میں کئی حلقوں نے پیش گوئی کی تھی کہ پاکستان ڈیفالٹ کر جائے گا اور اس کا نظام منہدم ہو جائے گا۔
ان کے بقول، قومی عزم، حکومتی پالیسیوں اور عوامی تعاون کی بدولت پاکستان ان چیلنجز پر قابو پانے میں کامیاب رہا اور دوبارہ معاشی استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن ہو گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی بھی ملک کی معاشی بحالی اور مثبت پیش رفت کا اعتراف کر رہے ہیں، جو ان کے بقول پوری قوم کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔
احسن اقبال نے ”اُڑان پاکستان“ پروگرام کا بھی ذکر کرتے ہوئے اسے قومی معیشت کی تشکیلِ نو اور اسے اکیسویں صدی کی عالمی معیشت کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لیے حکومت کا جامع فریم ورک قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کا مقصد برآمدات میں اضافہ، ٹیکنالوجی کے فروغ، توانائی میں خود کفالت، ڈیجیٹل معیشت کے فروغ، انسانی وسائل اور مہارتوں کی بہتری، تعلیم و صحت کے شعبوں کی مضبوطی، مؤثر آبادی کے انتظام اور پائیدار ترقی کے ذریعے ایک کھرب ڈالر کی معیشت کی بنیاد رکھنا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی نظریاتی بنیادیں علامہ محمد اقبال اور قائداعظم محمد علی جناح نے استوار کیں۔
ان کے بقول، علامہ اقبال کا فلسفۂ خودی خوداعتمادی، علم، کردار اور بامقصد عمل پر زور دیتا ہے، جبکہ قائداعظم نے اسی فکر کو عملی جامہ پہناتے ہوئے ایک آزاد، خودمختار، جدید اور ترقی پسند ریاست کی بنیاد رکھی۔
احسن اقبال نے کہا کہ 2026 کی اہمیت اس لحاظ سے بھی غیر معمولی ہے کہ یہ قائداعظم کی 150ویں سالگرہ کا سال ہے، جو قوم کو بانیانِ پاکستان کے وژن سے اپنے عزم کی تجدید کا موقع فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نئے قومی ترانے کی رونمائی محض ایک موسیقی کی تخلیق یا تفریح کا ذریعہ نہیں، بلکہ قومی بیداری، تحریک اور اجتماعی مقصد کی علامت ہے۔
ان کے مطابق یہ ترانہ علامہ اقبال کے خودی، جرات اور قوم سازی کے پیغام کو پاکستان کے نوجوانوں کے جذبے سے جوڑتا ہے، جبکہ قائداعظم کے مضبوط، خود کفیل اور خوشحال پاکستان کے وژن کو نئی نسل تک پہنچاتا ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ علامہ اقبال نے صرف خواب دیکھنے کی تلقین نہیں کی، بلکہ یہ بھی سکھایا کہ علم، کردار، محنت اور ثابت قدمی کے ذریعے خوابوں کو حقیقت میں کیسے بدلا جا سکتا ہے۔
انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھیں، محدود سوچ سے بالاتر ہو کر قومی ترقی میں فعال کردار ادا کریں۔
اپنے خطاب کے اختتام پر وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی حقیقی طاقت اس کے نوجوانوں کے عزم، صلاحیت، علم اور ثابت قدمی میں مضمر ہے۔
انہوں نے کہا کہ پائیدار ترقی، قومی خوشحالی اور سلامتی صرف اجتماعی شعور، قومی یکجہتی اور اصلاحات سے وابستگی کے ذریعے ہی حاصل کی جا سکتی ہے۔
احسن اقبال نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ”اُڑان پاکستان“ کسی ایک سیاسی جماعت یا حکومت کا منصوبہ نہیں بلکہ ایک قومی مشن ہے، جس کا مقصد پاکستان کو مضبوط، خود کفیل، خوشحال اور باوقار ریاست بنانا ہے۔


Comments