انتظام کرنا تعمیر نہیں
- حکومتیں معیشت کا انتظام کرتی ہیں، مگر قومیں معیشت کی تعمیر کرتی ہیں؛ اور یہی فرق کسی ملک کے مستقبل کا فیصلہ کرتا ہے
خوشحالی کے لیے صرف معاشی استحکام کافی کیوں نہیں؟
ہر ملک خوشحالی کا خواہاں ہوتا ہے، مگر عالمی ترقی کی سیڑھی پر مسلسل اوپر چڑھنے والے ممالک کی تعداد محدود ہے۔
اس فرق کی وجہ شاذ و نادر ہی جغرافیہ، آبادی یا قدرتی وسائل ہوتے ہیں۔ زیادہ تر یہ فرق مضبوط اداروں، پالیسیوں کے تسلسل، معیشت کی مسابقتی صلاحیت اور قلیل مدتی سیاسی دباؤ کے باوجود طویل المدتی اصلاحات پر ثابت قدمی سے عمل درآمد کی صلاحیت کا نتیجہ ہوتا ہے۔
ہر سال ورلڈ بینک کی جانب سے جاری کی جانے والی آمدنی کی درجہ بندی عالمی اقتصادی پیش رفت کا ایک معروضی پیمانہ سمجھی جاتی ہے۔ سیاسی بیانیوں یا سرکاری دعوؤں کے برعکس، یہ درجہ بندی واضح کرتی ہے کہ کون سے ممالک واقعی ترقی کی راہ پر گامزن ہیں اور کون محض جمود کا شکار ہیں۔ اس سال کی رپورٹ پاکستان کے لیے ایک اہم سبق اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔
اس مرتبہ ویتنام، فلپائن، سری لنکا، اردن اور مائیکرونیشیا نے نچلے متوسط آمدنی والے ممالک کے زمرے سے ترقی کرکے بالائی متوسط آمدنی والے ممالک میں جگہ بنالی ہے۔ ان ممالک کے سیاسی نظام مختلف ہیں، اقتصادی ڈھانچے ایک دوسرے سے جدا ہیں اور ترقی کا سفر بھی ہر ایک نے الگ انداز میں طے کیا۔
تاہم ان سب میں ایک قدر مشترک ہے: ہر ملک نے مسلسل اصلاحات، مضبوط اداروں، بڑھتی ہوئی مسابقت اور پالیسیوں پر مستقل عمل درآمد کے ذریعے اپنی معیشت کی بنیادوں کو مضبوط کیا۔ ان کے تجربات اس حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں کہ اگرچہ ترقی کا کوئی ایک آفاقی ماڈل موجود نہیں، لیکن کچھ بنیادی اصول ایسے ہیں جنہیں کامیاب معیشتیں کبھی نظرانداز نہیں کرتیں۔
ویتنام اس بات کی بہترین مثال ہے کہ طویل المدتی حکمتِ عملی اور پالیسیوں میں تسلسل کس طرح معاشی ترقی کی بنیاد بنتا ہے۔ اس کی کامیابی کسی ایک اصلاح یا سازگار معاشی دور کا نتیجہ نہیں تھی۔ اس نے کئی دہائیوں تک برآمدات پر مبنی صنعت کاری کو فروغ دیا، خود کو عالمی سپلائی چینز کا حصہ بنایا، سرمایہ کاری راغب کی، پیداواری صلاحیت میں اضافہ کیا اور مختلف حکومتوں کے ادوار میں پالیسیوں کا تسلسل برقرار رکھا۔
ویتنام نے دوسروں کے مقابلے میں محض بحرانوں کا بہتر انتظام کرکے خوشحالی حاصل نہیں کی بلکہ اس نے ان ساختی کمزوریوں کو بتدریج ختم کیا جو بار بار معاشی بحرانوں کو جنم دیتی تھیں۔
سری لنکا کی مثال بھی اتنی ہی سبق آموز ہے، اگرچہ اس کا پس منظر مختلف ہے۔ صرف تین سال قبل وہ خودمختار قرض نادہندگی، زرمبادلہ کے ذخائر میں شدید کمی، بے قابو مہنگائی، اشیائے ضروریہ کی قلت اور گہرے سیاسی عدم استحکام جیسے سنگین بحرانوں سے دوچار تھا۔
تاہم سخت مالیاتی اصلاحات، معاشی نظم و ضبط کی بحالی، بین الاقوامی شراکت داروں سے مؤثر تعاون، سیاحت کی بحالی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی تدریجی واپسی کے نتیجے میں وہ دوبارہ بالائی متوسط آمدنی والے ممالک میں شامل ہوگیا۔ اگرچہ اس کی بحالی کا عمل ابھی مکمل نہیں ہوا، لیکن اس کی مثال ثابت کرتی ہے کہ شدید ترین معاشی بحران بھی اس وقت ایک نئے آغاز میں تبدیل ہوسکتے ہیں جب حکومتیں وقتی مصلحتوں اور حقیقت سے انکار کے بجائے بنیادی اصلاحات کا راستہ اختیار کریں۔
پاکستان کے لیے اس سے ملنے والا سبق نہایت بروقت بھی ہے اور ناگزیر بھی۔
یہ پیش رفت ایک اہم مگر قدرے تلخ سوال کو جنم دیتی ہے: مختلف سیاسی نظام، مختلف وسائل اور بعض صورتوں میں پاکستان سے بھی زیادہ سنگین معاشی بحرانوں کا سامنا کرنے والے ممالک آگے بڑھ رہے ہیں، جبکہ پاکستان اب بھی اسی آمدنی کے زمرے میں کیوں رکا ہوا ہے؟
اس کا جواب تقدیر میں نہیں بلکہ حکمتِ عملی میں پوشیدہ ہے۔
پاکستان نے اپنی معیشت سنبھالنے کی صلاحیت تو خاصی بہتر کرلی ہے، لیکن اسے تعمیر کرنے میں ابھی وہ کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔
معیشت کا انتظام کرنا اور معیشت کی تعمیر کرنا، دونوں بالکل مختلف کام ہیں۔ انتظام کا مقصد فوری مسائل سے نمٹنا ہوتا ہے، جیسے شرح مبادلہ کو مستحکم رکھنا، زرمبادلہ کے ذخائر برقرار رکھنا، بیرونی مالی وسائل کا انتظام کرنا، مہنگائی پر قابو پانا، مالی اہداف حاصل کرنا اور آئی ایم ایف کے جائزوں سے کامیابی سے گزرنا۔ یہ تمام ذمہ داریاں بے حد اہم ہیں اور معاشی استحکام یقیناً قابلِ تحسین ہے کیونکہ یہ معیشت کو مزید بگاڑ سے بچاتا ہے۔ تاہم استحکام کو کبھی ترقی کے مترادف نہیں سمجھنا چاہیے۔ استحکام خوشحالی کے لیے سازگار ماحول ضرور پیدا کرتا ہے، مگر خود خوشحالی پیدا نہیں کرتا۔
اس کے برعکس، معیشت کی تعمیر ایک بالکل مختلف سوچ اور نقطۂ نظر کا تقاضا کرتی ہے۔ اس کا مطلب پیداواری صلاحیت میں اضافہ، برآمدی مسابقت کو مضبوط بنانا، ملکی و غیر ملکی طویل المدتی سرمایہ کاری کو راغب کرنا، افرادی قوت کی پیداواری استعداد بہتر بنانا، انسانی وسائل پر سرمایہ کاری، اداروں کی جدید خطوط پر تشکیلِ نو، جدت طرازی کی حوصلہ افزائی اور ایسا پالیسی ماحول فراہم کرنا ہے جو سیاسی ادوار کی تبدیلی کے باوجود سرمایہ کاروں کا اعتماد برقرار رکھے۔
یہ اہداف نہ کسی ایک بجٹ میں حاصل کیے جاسکتے ہیں اور نہ ہی ایک انتخابی مدت میں۔ ان کے لیے پالیسیوں میں تسلسل، ادارہ جاتی نظم و ضبط اور ایسی اصلاحات درکار ہوتی ہیں جن کے حقیقی ثمرات اکثر کئی برس بعد سامنے آتے ہیں۔
اسی لیے استحکام اور معاشی تبدیلی کے درمیان فرق کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے۔ جس طرح ہنگامی علاج کے بعد کسی مریض کی حالت سنبھل جانا اس بات کی ضمانت نہیں ہوتا کہ بیماری مکمل طور پر ختم ہوگئی ہے، اسی طرح چند معاشی اشاریوں میں بہتری کو پائیدار معاشی تبدیلی کا ثبوت نہیں سمجھا جاسکتا۔
استحکام زوال کو روکتا ہے، جبکہ تبدیلی خوشحالی پیدا کرتی ہے۔ جو ممالک ترقی کی منازل مسلسل طے کرتے ہیں، وہ اس بنیادی فرق کو بخوبی سمجھتے ہیں اور اپنی اقتصادی پالیسیاں اسی حقیقت کو سامنے رکھ کر ترتیب دیتے ہیں۔
پاکستان کی حالیہ معاشی پیش رفت کو اسی وسیع تر تناظر میں پرکھنا چاہیے۔ اصل سوال اب یہ نہیں رہا کہ آیا معیشت پہلے کے مقابلے میں زیادہ مستحکم ہوئی ہے یا نہیں۔
زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ استحکام معیشت کو زیادہ مسابقتی بنا رہا ہے؟ کیا اس سے پیداواری صلاحیت میں اضافہ، سرمایہ کاری میں وسعت، برآمدات میں نمو، معیاری روزگار کے مواقع اور عوام کی آمدنی میں حقیقی اضافہ ہو رہا ہے؟
پاکستان کے حالیہ معاشی اشاریے واضح کرتے ہیں کہ معیشت کا انتظام اور اس کی تعمیر، ان دونوں میں فرق کو سنجیدگی سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ حالیہ عرصے میں ترسیلاتِ زر میں اضافہ بلاشبہ خوش آئند خبر ہے، تاہم اس اضافے کا بڑا سبب معیشت کی بنیادی مضبوطی نہیں بلکہ خطے میں رونما ہونے والی عارضی صورتحال معلوم ہوتی ہے۔ ترسیلاتِ زر گھریلو آمدنی اور زرمبادلہ کا ایک اہم ذریعہ ضرور ہیں، لیکن وہ پیداواری سرمایہ کاری، برآمدات میں اضافے اور قومی مسابقت کا متبادل ہرگز نہیں بن سکتیں۔
یہی اصول بیرونی قرضوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ قرض لینا ایک مالیاتی ذریعہ ہے، ترقیاتی حکمتِ عملی نہیں۔ مالی سال 2025-26 کے دوران پاکستان نے موجودہ قرضوں کی تجدید سمیت 27 ارب ڈالر سے زائد بیرونی مالی وسائل حاصل کیے، جن کا بڑا حصہ بجٹ خسارے کی مالی معاونت، قرضوں کی ادائیگی اور زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینے کے لیے استعمال ہوا۔ اس نوعیت کی مالی معاونت وقتی ریلیف ضرور فراہم کرسکتی ہے، مگر دنیا کا کوئی بھی ملک قرض کے سہارے پائیدار خوشحالی حاصل نہیں کرسکا۔
تاہم بنیادی معاشی اشاریے کہیں زیادہ تشویش ناک تصویر پیش کرتے ہیں۔ مجموعی برآمدات 6 فیصد کم ہو کر 30.1 ارب ڈالر رہ گئیں، جبکہ خالص براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) 34 فیصد کمی کے بعد محض 1.64 ارب ڈالر تک محدود رہی، جو مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا صرف 0.39 فیصد بنتی ہے اور گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے کی کمزور ترین کارکردگیوں میں شمار ہوتی ہے۔
یہ محض اعدادوشمار نہیں بلکہ کسی بھی ملک کی مسابقتی صلاحیت اور عالمی ساکھ کا معروضی پیمانہ ہیں۔ برآمدات اس بات کا ثبوت ہوتی ہیں کہ ملکی صنعتیں عالمی منڈی میں کس حد تک کامیابی سے مقابلہ کرسکتی ہیں، جبکہ براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اس اعتماد کی عکاس ہوتی ہے جو طویل المدتی سرمایہ کار کسی ملک کے طرزِ حکمرانی، اداروں، پالیسیوں کے تسلسل اور مستقبل کے امکانات پر رکھتے ہیں۔ جب برآمدات اور سرمایہ کاری دونوں بیک وقت کمزور پڑ جائیں تو چند منتخب معاشی اشاریوں میں بہتری کے باوجود یہ دعویٰ کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ معیشت واقعی پائیدار تبدیلی کی سمت بڑھ رہی ہے۔
سرمایہ کاری کی نوعیت بھی ایک اہم حقیقت آشکار کرتی ہے۔ گزشتہ مالی سال پاکستان میں آنے والی مجموعی خالص براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا تقریباً 90 فیصد صرف پانچ ممالک سے آیا، جبکہ چین، ہانگ کانگ اور متحدہ عرب امارات تنہا تقریباً 88 فیصد سرمایہ کاری کے ذمہ دار رہے۔ سرمایہ کاری کا یہ حد سے زیادہ ارتکاز پالیسی سازوں کے لیے باعثِ تشویش ہونا چاہیے۔
سرمایہ کاروں کا متنوع دائرہ محض ایک مالیاتی ہدف نہیں بلکہ کسی ملک کے معاشی ڈھانچے پر عالمی اعتماد کا پیمانہ بھی ہوتا ہے۔ اس لیے اصل سوال صرف یہ نہیں کہ پاکستان کتنی سرمایہ کاری حاصل کر رہا ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ دنیا کے بیشتر سرمایہ کار اب تک پاکستان سے دور کیوں ہیں۔ یہ سوال محض ایف ڈی آئی کے مجموعی حجم سے کہیں زیادہ توجہ کا متقاضی ہے۔
یہی نکتہ پاکستان کے سب سے بنیادی معاشی چیلنج کی طرف لے جاتا ہے۔ آج ہمارا سب سے بڑا خسارہ زرمبادلہ کا نہیں بلکہ ادارہ جاتی مسابقت کا ہے۔
دنیا بھر کے سرمایہ کار صرف ٹیکس میں رعایت یا مراعات کی تلاش میں نہیں ہوتے۔ وہ ایسے ماحول کو ترجیح دیتے ہیں جہاں معاہدوں پر مؤثر عمل درآمد ہو، قوانین اور ضوابط قابلِ پیش گوئی ہوں، ٹیکس نظام مسابقتی ہو، ادارے مؤثر انداز میں کام کریں اور حکومتی پالیسیاں سیاسی تبدیلیوں کے باوجود قابلِ اعتماد رہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ سرمایہ کار صرف ممالک میں سرمایہ کاری نہیں کرتے، بلکہ وہ ایسے نظام پر سرمایہ لگاتے ہیں جس پر انہیں اعتماد ہو۔
جدید سرمایہ کاری کا ڈھانچہ اس وسیع تر معاشی نظام کا ایک بنیادی ستون ضرور ہے، مگر وہ تنہا کامیاب نہیں ہوسکتا۔ مسابقتی برآمدات، مضبوط مالیاتی نظم و ضبط، مؤثر ریگولیٹری نظام، عدالتی یقین دہانی، ہنرمند افرادی قوت، تکنیکی جدت اور قابلِ اعتماد ادارے ایک دوسرے کو تقویت دیں، تب ہی پائیدار معاشی ترقی ممکن ہوتی ہے۔ دیرپا سرمایہ کاری صرف مراعات سے نہیں آتی بلکہ اعتماد، صلاحیت اور ادارہ جاتی ساکھ کے ذریعے حاصل کی جاتی ہے۔
حوصلہ افزا حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے پاس طویل المدتی کامیابی کے لیے درکار بنیادی وسائل کی کمی نہیں۔ دنیا میں بہت کم ممالک ایسے ہیں جو جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور چین کو ملانے والی اتنی اہم جغرافیائی حیثیت رکھتے ہوں۔ پاکستان نوجوان آبادی، ثابت قدم کاروباری طبقے، وافر قدرتی وسائل اور ایسے نجی شعبے کا حامل ہے جس نے سخت ساختی رکاوٹوں کے باوجود بارہا اپنی مسابقتی صلاحیت ثابت کی ہے۔ اسی طرح ملک میں اچھے خیالات اور قابلِ عمل منصوبوں کی بھی کمی نہیں۔ مختلف حکومتیں، ماہرینِ معاشیات، پالیسی ساز ادارے اور بین الاقوامی ترقیاتی شراکت دار کئی برسوں سے ٹیکس نظام، برآمدات، سرمایہ کاری، طرزِ حکمرانی، صنعتی پالیسی، تعلیم اور سرکاری شعبے کی اصلاحات کے لیے جامع روڈ میپ پیش کرتے رہے ہیں۔
لہٰذا پاکستان کا مسئلہ اب درست اصلاحات کی نشاندہی نہیں رہا، بلکہ اصل چیلنج انہیں سیاسی ادوار کی تبدیلی سے بالاتر ہو کر مستقل مزاجی کے ساتھ نافذ کرنا ہے۔
قومیں عموماً خیالات کی کمی کے باعث ناکام نہیں ہوتیں بلکہ اس لیے پیچھے رہ جاتی ہیں کہ وہ مشکل فیصلوں کو بار بار مؤخر کرتی رہتی ہیں۔ ہر عارضی حل مستقل اصلاحات کی ضرورت کو کچھ دیر کے لیے پسِ پشت ڈال دیتا ہے، جبکہ ہر بار بحران سے نمٹنے کی حکمتِ عملی ان ادارہ جاتی تبدیلیوں کو مزید مؤخر کر دیتی ہے جو مستقبل کے خطرات کو کم کرسکتی ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ بحرانوں سے نمٹنا ہی طرزِ حکمرانی کا حصہ بن جاتا ہے اور معیشت کو زیادہ مسابقتی بنانے کی کوششیں پس منظر میں چلی جاتی ہیں۔
اس سال ترقی کی نئی منزل حاصل کرنے والے ممالک کو پاکستان کے مقابلے میں کوئی غیرمعمولی برتری حاصل نہیں تھی۔ ان کی کامیابی کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے قومی ترجیحات پر طویل المدتی وژن، نظم و ضبط اور تسلسل کے ساتھ عمل کیا۔ انہوں نے اپنے ادارے مضبوط بنائے، پیداواری صلاحیت میں اضافہ کیا، برآمدات کو وسعت دی، سرمایہ کاری کو فروغ دیا، انسانی وسائل میں سرمایہ کاری کی اور کئی دہائیوں کے دوران عالمی سطح پر اپنی ساکھ مستحکم کی۔ ان کی ترقی نہ اتفاقی تھی اور نہ وقتی، بلکہ یہ ایسی حکومتوں کی مسلسل پالیسیوں کا نتیجہ تھی جو اگلے بجٹ، اگلے انتخاب یا اگلے معاشی بحران سے آگے دیکھنے کی صلاحیت رکھتی تھیں۔
اسی لیے ورلڈ بینک کی تازہ آمدنی درجہ بندی کو محض سالانہ اعدادوشمار کی رپورٹ نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہ ایک معروضی یاددہانی ہے کہ قومیں اس لیے ترقی نہیں کرتیں کہ وہ بار بار آنے والے بحرانوں کا بہتر انتظام کرنے لگتی ہیں، بلکہ اس لیے آگے بڑھتی ہیں کہ وہ ایسی معیشتیں تعمیر کرتی ہیں جو مستقل بنیادوں پر مسابقت، پیداواری صلاحیت، سرمایہ کاری، جدت اور اعتماد کو فروغ دے سکیں۔
بلاشبہ معاشی استحکام قابلِ تحسین ہے کیونکہ وہ اصلاحات کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتا ہے، لیکن استحکام منزل نہیں، بلکہ منزل کی طرف سفر کا نقطۂ آغاز ہے۔
پاکستان آج ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے۔ ہمارے سامنے دو راستے ہیں۔ یا تو ہم اپنی کامیابی کا معیار ایک کے بعد ایک معاشی بحران سے نمٹنے کی صلاحیت کو ہی بنائے رکھیں، یا پھر اسے ایک ایسی مسابقتی معیشت کی تعمیر سے جوڑ دیں جو عالمی اعتماد حاصل کرسکے۔ اس تبدیلی کے لیے برآمدی مسابقت، ادارہ جاتی ساکھ، سرمایہ کاری کے فروغ، ٹیکس اصلاحات، انسانی وسائل کی ترقی، پالیسیوں کے تسلسل اور سب سے بڑھ کر ان پر مستقل عمل درآمد کے حوالے سے قومی سطح پر طویل المدتی عزم درکار ہے۔ اس منزل تک پہنچنے کا راستہ پہلے ہی متعین ہوچکا ہے، شواہد بھی پوری طرح واضح ہیں۔ اب اصل چیلنج یہ نہیں کہ کیا کرنا ہے، بلکہ یہ ہے کہ اسے کرنے کا قومی حوصلہ اور سیاسی عزم پیدا کیا جائے۔
ممالک اس لیے خوشحال نہیں بنتے کہ وہ بحرانوں کا بہتر انتظام کرنے لگتے ہیں، بلکہ اس لیے ترقی کرتے ہیں کہ وہ ایسی معیشتیں تعمیر کرتے ہیں جنہیں بحرانوں کے انتظام پر کم سے کم انحصار کرنا پڑے۔
معیشت کا انتظام زوال کو روک سکتا ہے، مگر معیشت کی تعمیر ہی خوشحالی پیدا کرتی ہے۔ تاریخ ہمارا فیصلہ اس بنیاد پر نہیں کرے گی کہ ہم نے ایک کے بعد ایک بحران سے کس مہارت کے ساتھ نمٹا، بلکہ اس بات پر کرے گی کہ آیا ہم ایسی معیشت تعمیر کرنے میں کامیاب ہوئے یا نہیں جو مواقع پیدا کرے، اعتماد بحال کرے اور دیرپا خوشحالی کی ضمانت بنے۔
بالآخر حکومتیں معیشت کا انتظام کرتی ہیں، مگر قومیں معیشت کی تعمیر کرتی ہیں۔ پاکستان کا مستقبل اسی بنیادی فرق کو سمجھنے اور اس کے مطابق عملی اقدامات کرنے سے وابستہ ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments