کیا مصنوعی ذہانت پاکستان کے لیے کھربوں روپے کے نئے مواقع کھول سکتی ہے؟
- ڈین سائٹ لیبز کے سی ای او کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے پاکستان کو ڈیٹا تحفظ کا مؤثر فریم ورک اور صحت و مالیاتی شعبوں میں اے آئی کے استعمال سے متعلق واضح رہنما اصول مرتب کرنا ہوں گے
ٹیکنالوجی ہمیشہ سے بحث کا مرکز رہی ہے۔ کبھی اس پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا، کبھی اس کی افادیت اور کارکردگی کو سراہا گیا، اور کبھی اسے تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
چھاپہ خانے (پرنٹنگ پریس) کی ایجاد پر بھی ایسے ہی ردِعمل سامنے آئے تھے، اور صدیوں بعد آج مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تازہ ترین شکل کو بھی اسی نوعیت کے رویوں کا سامنا ہے۔ تاہم تخلیقی مصنوعی ذہانت (جنریٹو اے آئی) کی موجودہ نسل نے اپنی رفتار، آسان رسائی اور ڈیٹا پر مبنی صلاحیتوں کے باعث دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے، اور حکومتِ پاکستان بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔
رواں سال جون میں پاکستان نے قومی ڈیٹا گورننس پالیسی کا مسودہ جاری کیا، جس میں مصنوعی ذہانت کے لیے ضابطہ جاتی فریم ورک کی تجویز دی گئی ہے۔ قومی اے آئی پالیسی متعارف کرائے جانے کے تقریباً ایک سال بعد یہ پیش رفت اگرچہ سست ضرور ہے، لیکن مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے کی تشکیل کی جانب ایک ناگزیر قدم تصور کی جا رہی ہے۔
اطلاقی مصنوعی ذہانت کی کمپنی ڈین سائٹ لیبز، جو لورئیل اور آغا خان یونیورسٹی اسپتال سمیت مختلف اداروں کو مشاورتی خدمات فراہم کرتی ہے، نے اپنی پالیسی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ اس کی سفارشات پر مؤثر سرمایہ کاری کے ساتھ عمل درآمد کیا جائے تو پاکستان میں 9.7 کھرب روپے کی ڈیجیٹل تبدیلی کے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
کمپنی کے چیف ایگزیکٹو افسر نعمان احمد کے مطابق پاکستان میں اے آئی کے شعبے کی کامیابی کا مطلب یہ ہوگا کہ ”صحت، مالیات، لاجسٹکس یا تیز رفتار استعمال کی اشیا کے شعبے سمیت کسی بھی شعبے سے تعلق رکھنے والا پاکستانی پیشہ ور بغیر کسی تکنیکی شریک بانی کی مدد کے اے آئی ٹول کو اپنے روزمرہ کام کا حصہ بنا سکے۔“
ان کے بقول، ”یہی وہ مرحلہ ہوگا جب محض آگاہی سے آگے بڑھ کر مصنوعی ذہانت کا عملی استعمال عام ہو جائے گا۔“
نظام میں موجود خامیاں
اگرچہ پاکستان کی حکومت مصنوعی ذہانت کے حوالے سے درست سمت میں بیانات دے رہی ہے، لیکن عملی پیش رفت کے لیے ابھی طویل سفر طے کرنا باقی ہے۔
اوپن سورس ٹیکنالوجیز نے مصنوعی ذہانت تک رسائی کو زیادہ آسان بنا دیا ہے، تاہم ترقی پذیر ممالک کے لیے بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا ان کے پاس اس ٹیکنالوجی کو مؤثر انداز میں نافذ کرنے کی صلاحیت بھی موجود ہے یا نہیں۔
نعمان احمد اپنی کمپنی کے تجربات کی روشنی میں اس خدشے کی تائید کرتے ہوئے کہتے ہیں، ”ہمیں بار بار ایک ہی رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا۔ تربیت کے بعد افراد کی صلاحیت تو موجود تھی، لیکن ادارہ جاتی اور ضابطہ جاتی ماحول اس رفتار سے تبدیل نہیں ہوا۔ ہمارے تجارتی منصوبوں نے مسلسل ایسے بنیادی خلا نمایاں کیے جنہیں صرف مشاورت کے ذریعے نچلی سطح سے دور نہیں کیا جا سکتا تھا۔“
ان کے مطابق پاکستان کو ایسے ضابطوں کی ضرورت ہے جو جدت کی راہ میں رکاوٹ بننے کے بجائے واضح رہنمائی فراہم کریں۔
وہ کہتے ہیں، ”میری رائے میں پاکستان کو فوری طور پر تین چیزوں کی ضرورت ہے: ایسا مؤثر ڈیٹا تحفظ کا فریم ورک جو واقعی قابلِ عمل ہو، صحت اور مالیاتی خدمات جیسے حساس شعبوں میں اے آئی کے استعمال کے لیے واضح رہنما اصول، اور سرکاری خریداری کے ایسے قواعد جن کے تحت سرکاری ادارے موجودہ قانونی ابہام کے بغیر اے آئی فراہم کرنے والی کمپنیوں سے خدمات حاصل کر سکیں۔“
ان کے نزدیک سب سے اہم بات یہ سمجھنا ہے کہ پاکستان میں مصنوعی ذہانت کو عملی طور پر کس طرح استعمال کیا جا رہا ہے، نہ کہ محض نظریاتی بنیادوں پر اس کے لیے قوانین وضع کیے جائیں۔
ان کا کہنا ہے، ”ایسے افراد کی تیار کردہ قانون سازی جنہوں نے کسی پاکستانی ادارے میں مصنوعی ذہانت کا عملی استعمال دیکھا ہی نہ ہو، یا تو بے اثر ثابت ہوتی ہے یا پھر جدت کو مفلوج کر دیتی ہے۔“
تبدیلی کے خلاف مزاحمت
ایک اور بڑی رکاوٹ پاکستان کے کاروباری رہنماؤں کی سوچ ہے۔ نعمان احمد کے مطابق تین بڑی غلط فہمیاں عام ہیں۔
وہ کہتے ہیں، ”پہلی غلط فہمی یہ ہے کہ اے آئی صرف آئی ٹی کا مسئلہ ہے، حالانکہ ایسا نہیں۔ یہ دراصل کاروباری طریقۂ کار کا معاملہ ہے۔ اگر چیف فنانشل آفیسر کو یہ معلوم نہ ہو کہ کن پیمانوں پر کارکردگی جانچنی ہے، ہیومن ریسورسز کے سربراہ کو ملازمتوں پر اثرات کا خوف ہو، اور چیف ایگزیکٹو نے یہ طے ہی نہ کیا ہو کہ ادارہ اے آئی سے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے، تو صرف چیف ٹیکنالوجی آفیسر اے آئی نافذ نہیں کر سکتا۔“
”دوسری غلط فہمی یہ ہے کہ ہم انتظار کریں گے جب اے آئی مزید پختہ ہو جائے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ جو ادارے انتظار کر رہے ہیں، ان کے زیادہ فیصلہ کن حریف آگے بڑھ رہے ہیں۔“
”تیسری غلط فہمی یہ ہے کہ ہمارے لوگ اس کے لیے تیار نہیں۔ یہ تصور تقریباً ہمیشہ غلط ثابت ہوتا ہے۔ پاکستانی پیشہ ور افراد جب حقیقی ماحول میں حقیقی اے آئی ٹولز سے باقاعدہ تربیت حاصل کرتے ہیں تو اکثر دوسروں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے خود کو ڈھال لیتے ہیں۔“
ان کی یہ بات بے بنیاد نہیں۔ پاکستانی ادارے پہلے ہی یہ ثابت کر رہے ہیں کہ مصنوعی ذہانت مقامی مسائل کے حل میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ رواں سال لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) کو گیٹس فاؤنڈیشن کی جانب سے پاکستان کا پہلا قومی اے آئی ہب قائم کرنے کے لیے گرانٹ ملی، جس کی توجہ زچہ و بچہ کی صحت پر مرکوز ہے۔
اس وقت یہ ادارہ آوازِ صحت کے نام سے ایک آواز پر مبنی ایپلی کیشن تیار کر رہا ہے، جو بنیادی سطح پر خدمات انجام دینے والے طبی کارکنوں کے لیے مخصوص ہے اور اس وقت آزمائشی مرحلے میں ہے۔
ورلڈ بینک کے مطابق مخصوص مقامی مسائل کے حل کے لیے تیار کی جانے والی ”سمال اے آئی“ ایپلی کیشنز محدود وسائل کے باوجود تیز اور ٹھوس نتائج دے سکتی ہیں۔ ادارے کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی روایتی رکاوٹوں کو عبور کرتے ہوئے آج ہی مصنوعی ذہانت کے فوائد حاصل کرنے کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔
روزگار میں تبدیلی
مصنوعی ذہانت سے متعلق سب سے بڑا خدشہ ملازمتوں کے خاتمے کا ہے، تاہم نعمان احمد اس کے مجموعی اثرات کو مثبت قرار دیتے ہیں۔
ان کے بقول، ”مصنوعی ذہانت صرف ملازمتیں پیدا یا ختم نہیں کرتی بلکہ ان کی نوعیت بدل دیتی ہے۔ پاکستان کے پاس نوجوان اور خود کو بدلتے حالات سے ہم آہنگ کرنے والی افرادی قوت موجود ہے۔ اگر تعلیمی اور تربیتی نظام تیزی سے خود کو ڈھال لے تو نئی ملازمتوں تک رسائی ممکن ہے۔“
ورلڈ بینک کے مطابق پاکستان میں مصنوعی ذہانت سے متعلق ملازمتوں کے مواقع دوگنا ہو چکے ہیں، تاہم اسی کے ساتھ یہ ٹیکنالوجی ذہین افرادی قوت کے بیرونِ ملک منتقل ہونے کے عمل کو بھی تیز کر رہی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں مصنوعی ذہانت کی کئی ارب ڈالر مالیت کی منڈی اور وہاں پاکستانیوں کی بڑی تعداد اس رجحان کو مزید تقویت دے سکتی ہے۔
اس کے باوجود نعمان احمد زیادہ پرامید ہیں۔
وہ کہتے ہیں، ”اصل سوال یہ نہیں کہ لوگ ملک چھوڑ رہے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ پاکستان میں اتنی زیادہ قدر اور بہتر معاوضے والی اے آئی ملازمتیں کیسے پیدا کی جائیں کہ ملک چھوڑنے کی قیمت زیادہ محسوس ہو۔ ہمیں ایسے اداروں کی ضرورت ہے جو مصنوعی ذہانت کو سنجیدگی سے اپنا رہے ہوں تاکہ بہترین ماہرین کے پاس پاکستان میں رہنے کی ٹھوس وجہ موجود ہو۔“
کیا بنیادی تعلیم سے پہلے اے آئی؟
ملک میں کمزور ڈیجیٹل انفرااسٹرکچر اور تعلیمی مسائل کے باعث بعض ناقدین کا خیال ہے کہ مصنوعی ذہانت بنیادی تعلیم سے توجہ ہٹا سکتی ہے، مگر نعمان احمد اس سے اتفاق نہیں کرتے۔
وہ کہتے ہیں، ”پاکستان میں موبائل بینکاری نے ان افراد تک بھی مالی خدمات پہنچائیں جن کا کبھی بینک اکاؤنٹ نہیں تھا۔ واٹس ایپ ایسے لوگ بھی روزانہ استعمال کرتے ہیں جنہیں پڑھنے لکھنے میں دشواری ہوتی ہے۔ مصنوعی ذہانت بھی توقع سے کہیں زیادہ تیزی سے غیر رسمی معیشت میں جگہ بنا لے گی۔“
شاید مصنوعی ذہانت کو تعلیم کا متبادل نہیں بلکہ تدریسی معاون سمجھنا زیادہ مناسب ہوگا۔ بھارت کی ریاست راجستھان کے ایک ضلع میں دسویں جماعت کے سرکاری اسکولوں کے طلبہ نے پڑھائی ود اے آئی نامی پلیٹ فارم کے استعمال کے بعد امتحانات میں کامیابی کی شرح میں 96.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا۔ یہ پلیٹ فارم انگریزی اور ہندی میں ریاضی کے سوالات حل کرنے اور اساتذہ کے لیے ورک شیٹس تیار کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔
مضمون کے اختتام پر نعمان احمد کہتے ہیں:”اصل سوال یہ ہے کہ پاکستان میں مصنوعی ذہانت کے استعمال کی سمت کا تعین کون کرے گا؟ میری خواہش ہے کہ ہم اس عمل کے محض تماشائی نہیں بلکہ اس کی تشکیل میں فعال کردار ادا کرنے والوں میں شامل ہوں۔“
خلا کو پُر کرنا
پاکستان کی ایک بڑی آبادی اب بھی انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم ہے۔ یہ ان متعدد چیلنجز میں سے ایک ہے جن پر قابو پانا ضروری ہے تاکہ طویل مدت میں مصنوعی ذہانت کی مکمل صلاحیتوں سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔ تاہم اگر یہ رکاوٹیں دور کر دی جائیں تو مصنوعی ذہانت تجارت، روزگار، بہتر معیارِ زندگی اور حتیٰ کہ معاشی تبدیلی کے نئے مواقع پیدا کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔
نعمان احمد کے مطابق، ”مصنوعی ذہانت پیشہ ورانہ تاریخ میں سب سے بڑی مساوات پیدا کرنے والی ٹیکنالوجی ہے، کیونکہ یہ علم تک رسائی اور مضبوط ادارہ جاتی مواقع کے درمیان موجود خلیج کو نمایاں طور پر کم کر دیتی ہے۔“
وہ کہتے ہیں، ”ملتان کا کوئی پہلی نسل کا پیشہ ور، اگر اس کے پاس درست فیصلہ سازی کی صلاحیت اور مناسب اے آئی ٹولز موجود ہوں، تو اب ایسا کام انجام دے سکتا ہے جو کسی ممتاز جامعہ سے تعلیم یافتہ اور اعلیٰ درجے کے ادارے میں کام کرنے والے فرد کے معیار کا مقابلہ کر سکے۔“
ان کے مطابق اس مقصد کے لیے سوچے سمجھے اقدامات ناگزیر ہیں، جن میں تربیتی پروگرام، مناسب قیمتوں کا نظام اور علاقائی اور قومی زبانوں میں اے آئی کی دستیابی شامل ہے، تاکہ مصنوعی ذہانت کی صلاحیت صرف بااثر حلقوں تک محدود نہ رہے بلکہ عام افراد بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔
ان کے بقول، ”یہ خیرات نہیں بلکہ پاکستان کی اکثریتی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھانے کا طریقہ ہے۔ جن بہترین ماہرین کو ہم نے تربیت دی، ان میں سے اکثر کا تعلق بھی ایسے ہی پس منظر سے تھا۔“
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مصنوعی ذہانت بے پناہ امکانات کی حامل ہے، لیکن پاکستان اس سے کس حد تک فائدہ اٹھا سکے گا، اس کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ حکومت ڈیجیٹل اور ضابطہ جاتی رکاوٹیں کتنی مؤثر انداز میں دور کرتی ہے، اس شعبے میں کتنی سرمایہ کاری کرتی ہے اور جدت کی حوصلہ افزائی کرنے والا کس قدر مؤثر قانونی و ضابطہ جاتی فریم ورک تشکیل دیتی ہے۔


Comments