BR100 Increased By (5%)
BR30 Increased By (5.87%)
KSE100 Increased By (4.23%)
KSE30 Increased By (4.7%)
BAFL 57.52 Increased By ▲ 2.02 (3.64%)
BIPL 27.62 Increased By ▲ 0.72 (2.68%)
BOP 34.61 Increased By ▲ 1.97 (6.04%)
CNERGY 10.76 Increased By ▲ 0.47 (4.57%)
DFML 18.41 Increased By ▲ 0.60 (3.37%)
DGKC 213.87 Increased By ▲ 18.69 (9.58%)
FABL 101.47 Increased By ▲ 2.79 (2.83%)
FCCL 56.47 Increased By ▲ 4.73 (9.14%)
FFL 16.85 Increased By ▲ 0.36 (2.18%)
GGL 25.76 Increased By ▲ 0.70 (2.79%)
HBL 308.18 Increased By ▲ 16.18 (5.54%)
HUBC 224.39 Increased By ▲ 10.42 (4.87%)
HUMNL 10.72 Increased By ▲ 0.27 (2.58%)
KEL 7.47 Increased By ▲ 0.33 (4.62%)
LOTCHEM 27.68 Increased By ▲ 0.87 (3.25%)
MLCF 96.56 Increased By ▲ 8.39 (9.52%)
OGDC 323.45 Increased By ▲ 13.07 (4.21%)
PAEL 43.37 Increased By ▲ 2.52 (6.17%)
PIBTL 16.80 Increased By ▲ 0.95 (5.99%)
PIOC 295.89 Increased By ▲ 12.20 (4.3%)
PPL 224.67 Increased By ▲ 13.57 (6.43%)
PRL 55.51 Increased By ▲ 2.37 (4.46%)
SNGP 104.67 Increased By ▲ 6.42 (6.53%)
SSGC 25.97 Increased By ▲ 1.12 (4.51%)
TELE 8.65 Increased By ▲ 0.36 (4.34%)
TPLP 13.18 Increased By ▲ 0.21 (1.62%)
TRG 60.05 Increased By ▲ 1.08 (1.83%)
UNITY 10.24 Increased By ▲ 0.36 (3.64%)
WTL 1.26 Increased By ▲ 0.03 (2.44%)
مارکٹس

مالی سال 27-2026 میں پاکستان کی بیرونی قرض ادائیگی کا تخمینہ 21.5 ارب ڈالر، گورنر اسٹیٹ بینک

مالی سال 26-2025 میں بیرونی قرضوں کی مد میں 26.5 ارب ڈالر کی ادائیگیاں کی گئیں
شائع اپ ڈیٹ

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے گورنر جمیل احمد نے پیر کو کہا ہے کہ مالی سال 27-2026 کے دوران پاکستان کی بیرونی قرضوں کی ادائیگی کا حجم تقریباً 21.5 ارب ڈالر رہے گا، جو گزشتہ مالی سال 26-2025 میں ادا کیے گئے 26.5 ارب ڈالر کے مقابلے میں تقریباً 5 ارب ڈالر کم ہے۔

تفصیلات بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مالی سال 27-2026 میں 18 ارب ڈالر اصل قرض (پرنسپل) اور 3.5 ارب ڈالر سود کی مد میں ادا کیے جائیں گے۔

انہوں نے بتایا، ”مالی سال 27-2026 کے لیے مجموعی 21.5 ارب ڈالر میں سے تقریباً 6 ارب ڈالر کی ادائیگی جولائی 2026 میں ہی ہو چکی ہے۔“ ان کے مطابق جولائی میں 4 ارب ڈالر اصل قرض اور 1.4 ارب ڈالر سود کی مد میں ادا کیے گئے۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے یہ بات آئندہ چھ ہفتوں کے لیے مانیٹری پالیسی کا اعلان کرنے کے بعد منعقدہ پریس کانفرنس میں کہی۔

اس سے قبل اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے مالی سال 27-2026 کے پہلے اجلاس میں پالیسی شرح سود 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔

ٹاپ لائن ریسرچ نے مانیٹری پالیسی پر اسٹیٹ بینک کی بریفنگ کے بعد اپنی رپورٹ میں کہا کہ 18 ارب ڈالر کی اصل قرض ادائیگی میں سے 10 سے 11 ارب ڈالر رول اوور یا ری فنانس کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ خالص ادائیگی تقریباً 7.5 ارب ڈالر رہے گی۔

جمیل احمد نے توقع ظاہر کی کہ ورکرز کی ترسیلاتِ زر، برآمدی آمدن اور روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ (آر ڈی اے) کے ذریعے بڑھنے والی رقوم کی بدولت پاکستان کے بیرونی کھاتوں کی صورتحال مزید بہتر ہوگی۔

ان کے مطابق مالی سال 27-2026 میں ترسیلاتِ زر 44 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے، جو گزشتہ مالی سال میں موصول ہونے والے ریکارڈ 41.6 ارب ڈالر کے مقابلے میں 2.4 ارب ڈالر زیادہ ہوں گی، حالانکہ فروری 2026 کے اواخر سے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ کے باعث عالمی حالات غیر یقینی رہے۔

انہوں نے کہا کہ برآمدی آمدن بھی مالی سال 27-2026 میں بڑھ کر 32 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے، جبکہ گزشتہ مالی سال میں یہ 30.13 ارب ڈالر رہی تھی۔

گورنر اسٹیٹ بینک کے مطابق حالیہ مہینوں میں روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے ذریعے ماہانہ موصول ہونے والی رقوم 20 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 30 کروڑ ڈالر ہو گئی ہیں، جو بیرونی شعبے کی صورتحال بہتر بنانے میں معاون ثابت ہو رہی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ دوسری جانب درآمدی بل میں 4.5 سے 5 ارب ڈالر اضافے کا امکان ہے، جس کے بعد مالی سال 27-2026 میں درآمدات کا حجم بڑھ کر تقریباً 69 ارب ڈالر ہو جائے گا، جبکہ گزشتہ مالی سال میں یہ 64.5 ارب ڈالر تھا۔

جمیل احمد کا کہنا تھا کہ درآمدات میں متوقع اضافے کے باوجود اسٹیٹ بینک کے پاس موجود زرمبادلہ کے ذخائر دسمبر 2026 کے اختتام تک بڑھ کر 20.20 ارب ڈالر کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ جائیں گے، جبکہ مالی سال کے دوسرے نصف (جنوری تا جون) میں ان میں مزید بہتری متوقع ہے۔

Comments

200 حروف