میانمار میں نئی عسکری قیادت کے بعد شہریوں کے قتل عام میں تیزی، مانیٹرنگ ادارے کا انتباہ
- رپورٹ کے مطابق 2026 کے پہلے چھ ماہ میں کم از کم ایک درجن اجتماعی قتل کے واقعات میں 450 سے زائد شہری مارے گئے
میانمار میں نئی عسکری قیادت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد شہری آبادی پر حملوں اور فضائی بمباری کی مہم میں نمایاں شدت آ گئی ہے۔ تنازعات کی نگرانی کرنے والے ادارے آرمڈ کانفلکٹ لوکیشن اینڈ ایونٹ ڈیٹا پراجیکٹ (ای سی ایل ای ڈی) نے پیر کو جاری رپورٹ میں کہا کہ مارچ میں فوجی کمانڈ ڈھانچے میں تبدیلی کے بعد شہریوں پر جبر اور فضائی حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔
ای سی ایل ای ڈی کے مطابق نئے آرمی چیف یے وِن او کی قیادت میں دو سے پانچ لڑاکا طیاروں پر مشتمل خصوصی دستے ایک ہی ہدف پر مسلسل فضائی حملے کر رہے ہیں۔ میانمار کی فوج نے فروری 2021 میں آنگ سان سوچی کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا، جس کے بعد شروع ہونے والی خانہ جنگی میں تقریباً ایک لاکھ افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 2026 کے پہلے چھ ماہ میں کم از کم ایک درجن اجتماعی قتل کے واقعات میں 450 سے زائد شہری مارے گئے، جن میں سے تقریباً 40 فیصد ہلاکتیں وسطی خشک علاقے انیار میں ہوئیں۔ مئی میں مائٹ چائے ٹاؤن شپ میں فوجی کارروائی کے دوران کم از کم 40 افراد کے مارے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
دوسری جانب میانمار میں سیاسی تبدیلی کے بعد سفارتی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ صدر من آنگ ہلائنگ نے بھارت اور چین کا دورہ کیا، جبکہ جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم آسیان کے ساتھ محدود رابطے بھی بحال ہوئے ہیں۔ وہ 6 اور 7 اگست کو تھائی لینڈ کا سرکاری دورہ کریں گے۔


Comments