جین زی طلبہ کی تحریک رنگ لے آئی، بھارتی وزیرتعلیم دھرمیندر پردھان مستعفی
بھارت میں جین زی طلبہ کی تحریک رنگ لے آئی، وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان نے استعفیٰ دے دیا۔
بھارت کے وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان نے ہفتے کو کہا ہے کہ انہوں نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا جس سے ملک بھر کے ان نوجوان مظاہرین کو ایک بڑی فتح حاصل ہوئی جنہوں نے امتحانی پرچے لیک ہونے پر ان کے استعفے کا مطالبہ کیا تھا۔
نئی دہلی کے جنتر منتر احتجاجی مقام پر زور دار نعروں اور خوشیوں کے درمیان مظاہرین کی قیادت کرنے والی کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے کہا کہ ہم نے یہ کر دکھایا ہے۔
حالیہ برسوں کے دوران بھارت میں ہونے والے سب سے بڑا عوامی احتجاج ایک اہم سیاسی بحران میں تبدیل ہوگیا جس نے وزیرِ اعظم نریندر مودی کے لیے بڑے چیلنجز میں سے ایک کی صورت اختیار کرلی کیونکہ اپوزیشن جماعتوں نے بھی نوجوانوں کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ کیا اور پارلیمنٹ کی کارروائی میں بھی خلل ڈالا۔
وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان نے اپنے بیان میں لکھا کہ جنتر منتر اور ملک بھر میں پیدا ہونے والی موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ ملک دشمن عناصر اس سے فائدہ نہ اٹھا سکیں میں نے اپنا استعفیٰ وزیرِ اعظم کو بھجوا دیا ہے۔
میں ملک کے نوجوانوں کی امنگوں، جذبات اور ان کی جائز توقعات کا دل کی گہرائیوں سے احترام کرتا ہوں۔
وزیرِ تعلیم نے ایکس پر اپنے استعفے کا اعلان ایسے وقت کیا جب نئی دہلی میں پولیس نے نوجوان مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ کی۔ یہ پیش رفت مظاہرین کے رہنماؤں اور وفاقی وزرا کے درمیان مذاکرات کے ایک اور دور سے چند گھنٹے قبل سامنے آئی۔
57 سالہ دھرمیندر پردھان وزیرِ اعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما ہیں۔ انہیں پارٹی کی ابھرتی ہوئی قیادت میں شمار کیا جاتا رہا ہے اور ماضی میں انہیں بی جے پی کی اعلیٰ قیادت کے ممکنہ امیدوار کے طور پر بھی دیکھا جاتا تھا۔
سماجی کارکن سونم وانگچک، جنہوں نے نوجوانوں کی اس تحریک کی حمایت میں 26 روز تک بھوک ہڑتال کی نے ایکس پر لکھا کہ دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ امن، صبر اور ثابت قدمی کی فتح ہے۔
احتجاجی مقام پر جشن
جنتر منتر کے احتجاجی مقام پر موجود نوجوانوں نے قومی ترانے کی دھن لاؤڈ اسپیکرز پر گونجنے کے دوران جے ہند کے نعرے لگائے جبکہ شرکا میں مٹھائیاں بھی تقسیم کی گئیں۔ رائٹرز کے صحافیوں کے مطابق موقع پر کم از کم ایک ہزار پولیس اہلکار علاقے کی نگرانی پر مامور تھے۔
مئی میں میڈیکل کالجوں کے انتہائی اہم داخلہ امتحان کا پرچہ لیک ہونے کے باعث تقریباً 20 لاکھ نوجوان متاثر ہوئے۔ اس اسکینڈل کے بعد امتحان کے نتائج منسوخ کر دیے گئے اور حکومت نے دوبارہ امتحان لینے کا حکم دیا۔
بھارت کی نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ تحریک کے حامی جون سے احتجاج کررہے تھے تاہم پیر کو پولیس کی جانب سے پارلیمنٹ کی طرف مارچ کرنے والے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ کے دوران درجنوں طلبہ کے زخمی ہونے کے بعد عوامی غصہ مزید بھڑک اٹھا۔
یہ احتجاج صرف امتحانی پرچوں کے لیک ہونے تک محدود نہیں بلکہ بے روزگاری، بدعنوانی اور حکومت سے جواب دہی کے مطالبے پر عوامی غصے کی بھی عکاسی کرتا ہے۔
وزیرِ تعلیم کے استعفے کے بعد احتجاجی مقام پر بھارتی آئین کی ایک نقل ہاتھ میں اٹھائے موجود مظاہرین میں شامل تلوآنگا رالٹے نے کہا کہ نوجوان نسل یہاں موجود ہے۔ یہ آئین کی فتح ہے۔ ہم سست نسل نہیں ہیں۔
ادھر وفاقی حکام نے ہفتے کو بھی دارالحکومت میں احتجاج کو محدود کرنے کی کوشش کے تحت انٹرنیٹ سروس اور میٹرو کے 18 اسٹیشنوں تک رسائی محدود رکھی۔ یہ پابندیاں مسلسل کئی روز سے جاری اقدامات کا حصہ ہیں۔


Comments